غزل

غزل : کسی کے پاس نہیں وقت اب کسی کے لیے

رشحات قلم : حافظ فیضان علی فیضان وہ چاہے دل کے لئے ہو کہ دل لگی کے لئےتمہارا قرب ضروری ہے زندگی کے لئے غمِ فراق سے مرجھا چکا ہے دل کا کنولتو مثل باراں برس آکے تازگی کے لئے اسی پہ آج ہے الزام بے وفا ئی کاجو خود …

مزید پڑھیں

غزل : مرا ساقی بھی کتنا باہنر ہے

نتیجۂ فکر : ناطق مصباحی ہراک ساعت رقیبوں کاگزرھےمرادلبربھی کتنادیدہ ورھے مرےگلشن میں بلبل چہچہائیںنرالی شاخ ھےگل ھےثمرھے ہمارہ میکدہ سب سے نرالامراساقی بھی کتناباہنرھے اسی کے نام سے صدقہ ھےجاریوہی عشاق کا جان خمر ھے جدائی سے ہواجب مرغ بسملکہا عامل نے جادو یانظر ھے معطر ہیں ہوائیں چاروں …

مزید پڑھیں

غزل: حیراں ہوں ان کا مجھے شوقِ زیارت بھی نہیں

خیال آرائی: ذکی طارق بارہ بنکویسعادتگنج۔بارہ بنکی، یوپی۔بھارت حیراں ہوں ان کا مجھے شوقِ زیارت بھی نہیںاور آنکھوں میں کوئی دوسری صورت بھی نہیں بھر لوں مٹھی میں ستارے مجھے خواہش بھی ہےکیا کروں میری چھلانگوں میں یہ رفعت بھی نہیں حوروں کے قرب کی امید بھی رکھتا ہوں بہتاور …

مزید پڑھیں

غزل: تسلی دے کے بہلایا گیا ہے

نتیجہ فکر: ناطق مصباحی تسلی دے کے بہلایا گیا ہےوہ گنگا جل میں نہلایا گیا ہے غریبی کے سبب وہ پڑھ نہ پایااسےدھوکہ سے بہلایا گیا ھے غریبوں کی حمایت سے قیادتغریبوں کو ہی تڑپایا گیا ھے وہ روزی روٹی کا طالب ہوکیسےحقیقت میں وہ بہلایا گیا ھے کسانوں کے …

مزید پڑھیں

غزل: پیار کا حق ادا کیا کس نے

نتیجہ فکر: سراج احمد آرزو حبیبی پیار کا حق ادا کیا کس نےزخم دل کر دیا ہرا کس نے بس اسی فکر میں میں رہتا ہوںمجھکو آخر دیا دغا کس نے عشق دل میں ابھی بھی زندہ ہےیہ خبر عام کر دیا کس نے ڈال کرپھوٹ دو دلوں کے بیچراستے …

مزید پڑھیں

غزل: تو نے مجھے رسوا کیا

✍🏻فیضان علی فیضان، پاکستان اے میری جان تمنا آپ نے یہ کیا کیامیں نے تم کو دل دیا تونے مجھے رسوا کیا اتنا زیادہ بے وفا اور سنگ دل تو ہو گئیدوسروں سے مل کے میرے پیار کا سودا کیا میں محبت میں گیا مارا اے میرے دوستواس نے میرے …

مزید پڑھیں

غزل: کورونا

نتیجۂ فکر: اشرف رضا سبطینی، چھتیس گڑھ تباہی، مصیبت، ہلاکت کورونابرائے بشر اک قیامت کورونا ہو بھارت کہ امریکہ یا چین و اٹلیہے سب کے لئے ایک آفت کورونا زمیں پہ اگر یوں بُرائی نہ ہوتیتو آتا نہ بن کر مصیبت کورونا مساجد کو آباد رکھتے جو ہم تونہ کرتا …

مزید پڑھیں

غزل: محبت کا میرے ہمدم کوئی سسٹم نہیں ہوتا

نتیجۂ فکر: محمد اظہر شمشاد کوئی مظلوم اور کوئی یہاں ظالم نہیں ہوتامحبت کا میرے ہمدم کوئی سسٹم نہیں ہوتا محبت کی نہیں جاتی سخن یہ بالیقیں حق ہےمحبت ہو ہی جاتی ہے کوئی عازم نہیں ہوتا سمجھتے ہیں مجھے اوروں سا عاشق حسن کا اپنےہما کے مثل ہوں مجھ …

مزید پڑھیں

غزل: بھلا کیسے گرفتارِ محبت ہوگئے ہم تم

نتیجۂ فکر: ذکی طارق بارہ بنکویسعادت گنج، بارہ بنکی، یو۔پی۔ بھارت کہو، اک دوسرے کی کب ضرورت ہو گئے ہم تمبھلا کیسے گرفتارِ محبت ہوگئے ہم تم انا،عدل،آتما،سچ سب کا سودا یار کر بیٹھےستم ہے اس طرح سے نذرِ غربت ہوگئے ہم تم محبت کے مقدس محترم ماحول میں رہ …

مزید پڑھیں

غزل: بحث کا کچھ نہیں جس کو سلیقہ

بحث کاجو بھی ہے بہتر طریقہنہیں بحاث کواس کا سلیقہ بحث میں صغریٰ کبریٰ حداوسطنہیں معلوم ھے اس کا لطیفہ جہالت قابلیت ہوگئ ہےزباں سے جو جلاتا ہےفتیلہ اگرچہ اپنی محفل میں ھے خوشتربحث کی خو نہیں اس میں قلیلہ ہوا جاہل بحث کی معرفت سےیقیناً جاہلوں کا چھل چھبیلہ …

مزید پڑھیں