ملک کے بے روزگار نوجوان کب احتجاج کریں گے؟

تحریر: سرفراز احمد قاسمی،حیدرآباد
برائے رابطہ: 8099695186

ملک عزیز اسوقت جن حالات سے دوچار ہے،یہ کوئی خوش آئند بات نہیں ہے، تباہی وبربادی کی جانب بہت تیزی سے بڑھ رہاہے،جولوگ حکومت کی کرسی پر فائز ہیں اورجنکے ہاتھوں ان دنوں اقتدار کی باگ ڈور ہے ایسا لگتاہے کہ یہ لوگ ملک کو بربادکرنے اور بربادی کی آخری منزل پر لےجانےکےلئے کمربستہ ہیں،اور لگتا یہی ہے کہ ہرحال میں بھارت کوتباہ کرکے رہیں گے،آزادی کے بعد سے ہی ہمارا ملک بہت ساری چیلنجوں کاسامنا کررہاہے، لیکن حالیہ برسوں میں ان میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے ،ملک کے مسائل کم ہونے کے اور زیادہ ہوگئے بلکہ بہت زیادہ ہوگئے ہیں،لیکن افسوس ان مسائل اور چیلنجوں کو حل کرنے یا کم کرنے کی کوئی ادنی کوشش بھی نہیں کی جارہی ہے،جسکا نتیجہ یہ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں ملک ایسی پستی میں چلاجائے گا جہاں سے واپسی ناممکن ہوگی،وقت رہتے ہوئے اگر ہم نے ان چیزوں کو نہیں سمجھا اور اسکے تحفظ کےلئے کوئی سنجیدہ اور پختہ لائحہ عمل تیار نہیں کیا تو پھر بھارت کو برباد ہونے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی،اسوقت ہمارے ملک کو اندورنی اور بیرونی ہر دوطرح کے چیلنجوں کا سامناہے،ایک طرف پڑوسی ممالک،ہماری سرحدوں کو عبور کرتےہوئے درانداز ہوچکے ہیں تو دوسری جانب آئینی تمام اداروں اور مشنریوں کو خریدکر اپنی مرضی کے مطابق چلایا جارہاہے،اسلئے شہریوں کا عام احساس یہ ہوچکاہے کہ اب آئینی ادارے پرائیویٹ سیکٹر میں تبدیل ہورہے ہیں،شاید اسی وجہ سے عوام کا اعتماد ان اداروں سے اٹھتا جارہاہے،یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے، اکثر ادارے حکومت کے اشاروں پرکام کررہے ہیں،اورایسامحسوس ہوتاہے کہ حکومت اپنی عوام سے برسوں پرانی دشمنی نکالنے پرآمادہ ہے،یہی وجہ ہے کہ عوام اور حکومت کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی ہے،جو اہم مسائل ہیں اسکو حکومت نظرانداز کررہی ہے،اور مسلسل کررہی ہے،حکومتی خزانوں کو مستحکم کرنے والے تمام وہ ادارے جو معاشی استحکام کاذریعہ ہیں اوران سے ملکی معیشت تقویت ملتی ہے ان سب اداروں کوایک ایک کرکے فروخت کیاجارہا ہے،لال قلعہ کو لیز پردیدیا گیاہے،ریلوے اور ایئر پورٹ وغیرہ سب فروخت کئے جارہے ہیں کئی سارے بینکوں کوبند یا دوسرے بیںکوں میں ضم کردیاگیا، آئینی اداروں کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، وقفے وقفے سے قانون بنانے کے نام پر عوام کو خوف ودہشت میں مبتلاء کیاجارہا ہےاورعوام کے سرپر تھوپا جارہاہے ،ملک میں کسانوں کا احتجاج شدت اختیار کرتاجارہاہے لیکن ابھی تک یہ حکومت کسانوں کی بات سننے اور انکے مطالبات کو تسلیم کرنے کےلئے تیار نہیں ہے،کسانوں سےبات کرنے کاڈھونگ رچایا جارہاہے،کسان لیڈروں نے بھی آج اعلان کردیا ہے کہ ہمارے مقصد کی تکمیل تک ہمارا یہ احتجاج جاری رہےگا،یعنی جب تک کسانوں سے متعلق یہ تینوں قانون واپس نہیں ہوجاتے ہماراآندولن جاری رہےگا،کسانوں کی یہ تحریک کیا واقعی ملک میں انقلاب کی نقیب ثابت ہوگی یا پھر اسے گذشتہ برس کی شاہین باغ تحریک کی طرح طاقت کے بل بوتے پر ایک منظم پلان کے تحت ختم کردیاجائےگا؟جس طرح شاہین باغ تحریک پر طرح طرح کی الزام تراشی کی گئی،اوچھے ہتھکنڈے اپنائے گئے اور پھر طاقت کے ذریعہ اس پرامن احتجاج کو منتشر اورختم کردیاگیا،آپ کو یادہوگا کہ سال گذشتہ دسمبر کے مہینے میں شاہین باغ تحریک پرامن طور پر شروع ہوئی تھی جو سال رواں کے مارچ کے اخیرتک ملک گیرسطح پر چلی تھی، اور پھر یہ تحریک ملک بھرکے300 سے زائد شہروں میں شاہین باغ کےنام سےپھیل گئی تھی ،100 دنوں سے زائد چلنے والی اس پرامن اورمنظم تحریک کو طاقت کے ذریعے کچل دیاگیاتھا،کسانوں کی موجودہ تحریک کے ساتھ بھی یہی ہوگا؟ یہ سوال ذہنوں میں گردش کررہاہے،کسانوں کی یہ تحریک ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے،اور آج انکے احتجاج کا 8 واں دن ہے،یہ دیکھنا ہوگا کہ کسانوں کی یہ تحریک کہاں تک کامیابی کی منزل طے کرتی ہے؟آخر کسانوں کو اپنا گھر بار چھوڑکر سڑکوں پر کیوں اترنا پڑا؟سخت سردی کے باوجود وہ اس آندولن کےلئے کیوں پرعزم اور مصر ہیں؟انکے مطالبات اور خدشات کو حکومت دور کرنے میں کیوں ناکام ہے؟کیا اب کی بار کسانوں کو نظر انداز کرکے اور ان پرظلم وستم کرکے حکومت محفوظ رہ سکتی ہے؟ کسانوں کی موجودہ تحریک پرسپریم کورٹ کا موقف کیاہوگا ؟ ان سوالوں کا جواب آنے والے وقت میں ہی ممکن ہےابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا،بہرحال اتنا توطے ہے کہ شاہین باغ کو جس طریقے سے کچلا گیا،ان پر جس طرح پے درپے حملے کئےگئے الزامات کی بارش کی گئی،انکو جس طرح بدنام کرکے ناکام بنایا گیا کم ازکم کسانوں کے ساتھ یہ غلطی نہیں دہرائی جائےگی،اگریہ حکومت کسانوں کے ساتھ بھی یہی رویہ اختیار کرتی ہے تو پھر یہ سمجھئے کہ اب اس حکومت کاوقت قریب آچکاہے اور پھرزوال ہی اسکا مقدر بنے گا،میں نے اس سے پہلے بھی لکھا تھا کہ کوئی بھی حکومت ظلم وبربریت اور ناانصافی کےساتھ زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکتی،کچھ دنوں تک ضرور رہ سکتی ہے،بہرحال کسان اب ہماری سڑکوں پر ہیں اور آرپار کی لڑائی لڑنے کےلئے پرعزم ہیں ایسا لگتا نہیں ہے کہ انکے مطالبات کو تسلیم کئے بغیر حکومت راحت کی سانس لےسکےگی،یہ آندولن حکومت کے گلے کا ایک بہت بڑا پھندا بن چکاہے،اب حکومت اس پھندے کو کیسے ڈیل کرتی ہے یہ دیکھنے کی بات ہوگی، دہلی میں پنجاب ہریانہ،یوپی بہار اور دیگر ریاستوں کے لاکھوں کسان پہونچ چکے ہیں،اور یہ تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے،گذشتہ سال جو تحریک سی اے اے،اور این آرسی کی مخالفت میں جامعہ ملیہ اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے شروع ہوئی تھی،بعد میں یہ” شاہین باغ” میں تبدیل ہوگئی تھی،کسانوں کے نام پر شروع ہونے والی یہ تحریک کیارخ اختیار کرتی ہے یہ بھی دیکھنے کی بات ہوگی،کسانوں کی یہ تحریک قومی تحریک میں تبدیل تو ہوچکی ہے ہرطرف شاہین باغ کا منظر ہے،کینڈا کے وزیراعظم نے کسانوں کی حمایت کردی ہے،دہلی کی اکثر سڑکیں بلاک کردی گئی ہیں،شاہین باغ تحریک کے دوران صرف ایک سڑک بند تھی جس پر خوب الزام تراشی کی گئی تھی لیکن اب دہلی کےاکثر راستے بند ہیں اس پرحکومت کیا کہے گی؟شاہین باغ مظاہرین کےلئے سپریم کورٹ تک نے یہ فیصلہ سنادیاتھاکہ آپ اسطرح سڑکوں کوبلاک کرکے لوگوں کوپریشانی میں نہیں ڈال سکتے،اب اس پرسپریم کورٹ کیا کہےگا؟ بہرحال خلاصہ یہ ہے کہ ملک بےشمار مسائل کاشکار ہوتاجارہا ہے،غریبی،بھکمری اور بے روزگاری بھی ملک کا ایک اہم و سنگین مسئلہ بن چکاہے،اسوقت ملک میں بے روزگاری اتنی بڑھ چکی ہے کہ گذشتہ بیس سال میں اسکی مثال نہیں ملتی،کروڑوں نوجوان اپنی نوکری کھوچکے ہیں لیکن اسکے باوجود اس معاملے میں حکومت کی سرد مہری جاری ہے، سوال یہ ہے کہ پھر ملک کے کروڑوں نوجوان حکومت سے سوال کیوں نہیں کررہےہیں؟کیا انھیں روزی روٹی اور روزگار کی ضرورت نہیں ہے،مودی حکومت نے ہرسال دوکروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیاتھا،گذشتہ 6سالوں میں ایک بھی نوکریاں تو نہیں دی گئی البتہ لاکھوں لوگوں کو روزگار سے محروم ضرور کردیاگیاہے،اور اب حالت یہ ہے کہ بھکمری اور خودکشی کے واقعات میں تشویشناک حدتک اضافہ ہورہاہے،جتنی بے روزگاری بھارت میں اسوقت ہے ایسا گذشتہ بیس سال میں بھی کبھی نہیں ہوا،اب ایسے میں ملک ترقی کیسے کرےگا؟آخر ملک کے یہ کروڑوں بے روزگار نوجوان اپنے حقوق کےلئے کب احتجاج کریں گے؟کب اپنے گھروں سے نکلیں گے؟ اور کب آواز بلند کریں گے؟کیا ابھی یہ وقت نہیں ہے کہ کسانوں کے ساتھ مل کر ملک کے نوجوانوں کایہ بڑا طبقہ بھی اٹھ کھڑاہو اور اپنے حقوق کےلئے آواز بلند کرے،دن جیسے جیسے گذر رہاہے بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہورہاہے،سی ایم آئی ای (cmie) کی ایک رپورٹ کے مطابق بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 60 فیصد ہوچکی ہے،2014 کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ نوجوان رہتے ہیں،جہاں 35,6 کروڑ آبادی نوجوانوں کی ہے،کسی بھی ملک کی ترقی کےلئے یہ تعداد کافی حدتک یہاں کے نوجوانوں کو ملنے والی روزگار پر موقوف ہوتی ہے،نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ کے مطابق سال 2018 اور 19میں کسانوں سے زیادہ بے روزگار لوگوں نے خودکشی کی،جو انتہائی شرمناک ہے،یہ تعداد دن بہ بڑھتی جارہی ہے،ایسے میں اگر حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے تو پھر بے روزگاروں اور نوجوانوں کو سڑکوں پر نکلنا چاہئے،ایک رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیاہے کہ 2014 کے بعد سے ملک میں بہت تیزی سے بے روزگاری بڑھی ہے اور ایک منظم منصوبہ کے تحت لوگوں سے روزگار چھینا جارہاہے، نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کا نفاذ اسی لئے کیاگیا تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ بے روزگار ہوسکیں،ورنہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ حکومت اس معاملے پر سنجیدگی اختیار کرتی اور نوجوانوں کی فلاح وبہبود کےلئے قدم اٹھاتی، لیکن اب تک ایسا کچھ نہیں ہوسکا، حکومت ایک طرف ساری چیزوں کو بیچنے میں لگی ہے اور دوسری جانب مذہبی افیون پلاکر ملک کو خانہ جنگی کی طرف ڈھکیل رہی ہے،
بھاسکر ڈاٹ کام نے 2019 میں ایک خبر شائع کی تھی جس میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ آٹو موبائیل سیکٹر اس بے روزگاری سے سب سے زیادہ متاثر ہواہے،گاڑی کی خریدوفروخت میں بیس سال کی سب سے زیادہ گراوٹ آئی ہے جس سے کم ازکم دس لاکھ لوگوں کی نوکریاں جانے کاشدید خطرہ پیدا ہوگیاہے،این ایس ایس او نے جنوری 2020 میں اپنی رپورٹ میں کہاتھاکہ ملک میں اس وقت بے روزگاری 45 سال میں سب سے زیادہ بڑھی ہے،اس رپورٹ پر حکومت کے لوگوں نے کافی ہنگامہ کیاتھا، لیکن بعد میں جب حکومت نے رپورٹ جاری کی تو اس میں بھی 2017 اور 18 میں بے روزگاری کی شرح 6,1فیصد تھی جو پینتالیس سال میں سب سے زیادہ ہے،1972 اور 73 میں بے روزگاری کی یہی شرح تھی،یہ ہے اس حکومت کا کارنامہ اسکے باوجود یہ لوگ ترقی اور نوجوانوں کے فلاح بہبود کےلئے زبان نہیں کھولتے اور نہ ہی ترقی پر بات کرتے ہیں،بہار الیکشن میں ان لوگوں نےکیا کہہ کر لوگوں سے ووٹ مانگا گیا اسکو پوری دنیا نے دیکھا، اسی طرح ابھی حیدرآباد کے حالیہ الیکشن میں جے پی نڈا،امت شاہ اور یوگی کی ٹیم یہی سب دوہرارہی تھی جوبہار میں یہ لوگ کرکے آئے ہیں، گریٹر حیدرآباد الیکشن کا نتیجہ کل 4 ڈسمبر کو آئے گا دیکھنا ہوگا کہ شہر حیدرآباد کے لوگ کیا فیصلہ کرتےہیں،ملک کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے کی پوری تیاری ہوچکی ہے، اسلئے ملک کے جواہم اور سلگتے مسائل ہیں اس پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے،ایسے میں کسانوں کی ملک گیر تحریک ایک ہفتے سے جاری ہے کیا ملک کے نوجوانوں کو بھی اپنے حقوق،روزی روٹی اور روزگار کے لئے آواز اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے؟جب تک نوجوانوں کایہ طبقہ خاموشی اختیارکرتارہےگا،تب تک نہ انکامستقبل محفوظ ہوگا اورنہ ہی نوجوانوں کاتحفظ ہوسکےگا، ملک اور خود نوجوانوں کے مستقبل کا تحفظ کےلئے نوجوانوں کاسڑکوں پرنکلنا ہی ضروری ہے ، سوال یہ ہے کہ کیا ھمارے نوجوان اسکے لئے تیار ہیں؟نوجوانوں یہ غورکرنے کی ضرورت ہےاورحالات بھی اسکاتقاضہ کررہےہیں،
شاید مظفر وارثی مرحوم نے نوجوانوں کو یہی پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ

علی الاعلان کیاکرتاہوں سچی باتیں
چور دروازے سے آندھی نہیں آیاکرتی

(مضمون نگارکل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)
[email protected]

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

اغراض و مقاصد کی تکمیل کے اہم نقاط

تحریر: آبیناز جان علیموریشس 2011کی ایک پرانی ڈائری کی ورق گردانی کرتے ہوئے مجھے پرودکٹیومسلم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے