حضرت نظام الدین اولیا محبوب الہی کی زندگی اور تعلیمات

تحریر: شاہ نواز عالم ازہری سربراہ اعلی جامعہ حنفیہ رضویہ مانکپور شریف کنڈہ پرتاپ گڑھ 9565545226

سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ شیخ فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ کے خلفاء میں سے آپ کا نام محمد بن احمد بخاری اور آپ کا لقب سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء تھا، خدا تعالی کی بارگاہ میں محبوب اور مقرب تھے آپ کی برکات کے اثرات سے ہندوستان لبریز ہے، آپ کے دادا علی بخاری اور نانا خواجہ عرب دونوں اکھٹے بخارا سے لاہور تشریف لائے، یہاں ایک عرصہ طویل رہنے کے بعد بدایوں چلے گئے اور وہاں مستقل سکونت اختیار کی، آپ بہت تھوڑی سی عمر کے تھے کہ آپ کے والد ماجد خدا کے پیارے ہوگئے جن کا مدفن بدایوں ہی میں ہے ۔ایک روایت کے مطابق آپ کے والد گرامی کا نام احمد عرب ہے ۔خواجہ نظام الدین اولیا کے والد گرامی نہایت باکمال نیک دل بزرگ تھے حکومت وقت آپ کو بدایوں کا قاضی منتخب کیا تھا ادہر آپ بدایوں میں ہی پیدا ہوئے 27صفر 534ہجری ادھر دہلی میں اگلے ماہ میں قطب الاقطاب کا انتقال ہوگیا، جب شیخ نظام الدین اولیاء کچھ بڑے ہوئے تو آپ کی والدہ محترمہ نے آہ کو ایک مدرسہ میں تعلیم کے حصول کے لئے داخلہ کرادیا جہاں پہ آپ نے قرآن کریم اور دیگر کتابوں کی تعلیم شروع کی ،آپ کی والدہ محترمہ آپ کی تعلیم نہایت توجہ سے دلائ جب آپ پچیس سال کے ہوگئے تو آپ اپنی والدہ کے ساتھ دہلی پرانے قلعہ کے قریب ایک شخص کے دروازے پر قیام فرمایا اور اس فاضل وقت مولانا شمس الدین شمس الملک کے درس میں شریک ہوئے ،دہلی سے فراغت کے بعد شیخ فرید الدین کے شوق ارادت میں پاک پٹن تشریف لے گئے اس وقت آپکی عمر بیس سال کی تھی پاک پٹن پہونچ کر آپ نے شیخ فرید الدین گنج شکر سے قرآن کریم کے چھ پارے تجوید کے ساتھ پڑھے عوارف کے چھ باب کا درس لیا تمہید ابوشکوسلمی اور بعض دیگر کتب بھی شیخ فرید الدین سے پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ۔خواجہ نظام الدین اولیا شیخ فرید الدین گنج شکر سے عرض کیا کہ؛ اب تعلیم ترک کرکے عبادت اور اورادو وظائف میں مشغول ہوجاؤ؟ فرمایا کہ ہم کسی کو تعلیم سے منع نہیں کرتے وہ بھی کرو یہ بھی کرو پھر دیکھو کون غالب آتا یے درویش کے لئے علم ضروری ہے تاکہ وہ فریب شیطان سے محفوظ رہے، اس جوبی جملہ سے اس جاہل پیر کے لئے مقام عبرت ہیں جو کہتے ہیں کہ علم کی ضرورت کیا ہے یقینا بابافرید کا یہ جملہ سے علم دینی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جس کے اندر علم دینی نہ ہو وہ پیر نہیں بلکہ شیطان کا کھیلونا ہے، 672میں خواجہ نظام الدین اولیا کو بابا فرید گنج شکر سے خلافت حاصل ہوئ ہے، سیر الاولیا میں مذکور ہے کہ خواجہ نظام الدین اولیا کو جب قبر میں اتارا گیا تو وہ خرقہ جو آپ کو شیخ فرید الدین گنج شکر عنایت فرمایا تھا وہ آپ کے جسم پر اوڑھا دیاگیا اور شیخ کی جائے نماز آپ کے سر مبارک کے نیچے رکھ دی گئ، ایک مرتبہ فرمایا کہ جب میرے مخدوم نے مجھے خلافت سے نوازا تو ارشاد فرمایا کہ اللہ نے تمہیں عقل، علم اور عشق کی دولت سے سرفراز فرمایا ہے جس میں یہ تینوں چیزوں سے کام بحسن وخوبی پایہ تکمیل تک پہونچنا یے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں محمد شعیب رضا

محمد شعیب رضا نظامی فیضی ہماری آواز اردو،ہندی ویب پورٹل و میگزین کے بانی و چیف ایڈیٹر ہیں۔ رابطہ نمبر: 09792125987 (ادارہ)

یہ بھی پڑھیں

ذکی احمد، شخصیت اور شاعری: ایک مطالعہ

تحریر: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی، نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے