سیدی افضل میاں! مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے

ازقلم: مبارک حسین مصباحی، مبارک پور

یہ افسوس ناک خبر تو آپ کو مل چکی ہوگی، حضرت سید محمد افضل میاں قادری برکاتی ۳۰ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ /۱۵ دسمبر ۲۰۲۰ء کوورون ہاسپیٹل علی گڑھ میں ۹؍ بج کر ۳۰؍ منٹ پر داغِ مفارقت دے گئے، وصال کے بعد اولین فرصت میں نوجوان صحافی محترم محمد اظہر نور نے علی گڑھ سے اس حادثۂ فاجعہ کی خبر دی، یہ اندوہ ناک خبر سنتے ہی دل دھک سے ہو گیا، کلماتِ استرجاع پڑھے اور چند سورتیں تلاوت کر کے حضرت کی روحِ پر فتوح کو ایصالِ ثواب کیا۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کے طفیل آپ کی خوب خوب مغفرت فرمائے۔ آمین۔
۱۴۲۳ھ /۲۰۰۲ء میں ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پورنے سیدین نمبر ۱۳۳۲ صفحات پر جاری کیا۔ یہ مارہرہ مطہرہ کے دو ساداتِ کرام تھے، حضور سید العلما قدس سرہ ، حضور احسن العلما قدس سرہ ، حضور احسن العلما کے چار فرزندان ارجمند ہیں، پروفیسر حضرت امین ملت سید محمد امین میاں قادری برکاتی سجادہ نشیں خانقاہ قادریہ برکاتیہ ، معروف افسانہ نگار و فکشن رائٹر سابق چیف انکم ٹیکس کمشنر کولکاتا، سید اشرف میاں قادری برکاتی، تیسرے حضرت سید محمد افضل میاں قادری برکاتی اور چوتھے شیخِ طریقت حضرت سید نجیب حیدر میاں قادری برکاتی زیبِ سجادہ خانقاہ قادریہ برکاتیہ۔
خانوادۂ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ کا فیضان جامعہ اشرفیہ مبارک پور پر ہمیشہ رہا ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی رہے گا، صاحبِ سجادہ پروفیسر سید محمد امین میاں کے بڑے فرزند ارجمند ولی عہد حضرت مولانا سید شاہ محمد امان میاں قادری برکاتی دامت برکاتہم القدسیہ ، نام ور فاضل اشرفیہ ہیں، ماشاء اللہ ، سب کے سب پیکرِ اخلاق اور نور والے آقا ﷺ کی نورانی کرنیں ہیں۔ نورِ جاں، عطر مجموعہ آلِ رسول مارہروی قدس سرہ کے مرید و خلیفہ امام احمد رضا محدث بریلوی نے کیا خوب عرض کیا ہے؂
تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا تو ہی عینِ نور تیرا سب گھرانا نور کا
حضرت سید محمد افضل میاں قادری برکاتی دینی اور عصری علوم کی قدآور شخصیت تھی، پر نور چہرہ، بڑی بڑی جھیل سی آنکھیں، مسکراتے لب، بلند قد و قامت، انداز و ادا میں اپنائیت کی خوشبو، جو دیکھے دیکھتا رہ جائے۔جود و سخاکے پیکر، شعر و ادب کی خوشبو آپ کی ایک ایک ادا سے پھوٹتی تھی۔
شارحِ بخاری حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی کے خادم کی حیثیت سے ۲۶؍۲۷ اکتوبر ۱۹۹۱ء میں مارہرہ مطہرہ ہم پہلی بار حاضرہوئے، حضور احسن العلما کی نگاہ پڑی، فرطِ مسرت سے جھوم اٹھے، فرمایا: لو اب ”برکاتی مفتی“ آگئے، ہمارا عرس مکمل ہو گیا۔
حضرت سید افضل میاں بہت بلند اخلاق اور بزرگوں کے ادب شناس تھے، اپنے سلسلے کے بزرگوں سے حد درجہ عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی کے خوب شیدائی تھے، عصری تعلیم میں کافی بلند تھے، شعر و ادب میں عمدہ ذوق رکھتے تھے، تقریر بھی باضابطہ کرتے تھے۔ ہوا یہ کہ ایک بار مارہرہ مطہرہ عرسِ قاسمی میں ادبی اور صحافتی پروگرام تھا، چند حضرات بطور خطیب منتخب تھے، ان میں ایک نام احقر مبارک حسین مصباحی عفی عنہ کا بھی تھا۔ آخر میں حضرت سید افضل میاں قادری تشریف لائے اور لگ بھگ دس پندرہ منٹ کا بڑا معلومات افزا خطاب فرمایا۔ ایک بار اور مارہرہ مطہرہ میں عرسِ قاسمی کے موقع پر اہلِ سنت کے مسائل پر ورکشاپ تھا۔ اس میں بھی منتخب حضرات نے اپنے دانش ورانہ بیانات دیے، جب احقر مبارک حسین مصباحی عفی عنہ کا نام پکارا گیا تو چاے وغیرہ آگئی، حاضرین فطری طور پر چاے کی جانب متوجہ ہوئے تو ہم نے عرض کیا کہ پہلے ہم لوگ چائے سے فارغ ہو جائیں ،مگر حضرت سید افضل میاں قادری برکاتی نے فرمایا: حضرت! آپ فرمائیے ہم سراپا سماعت ہیں۔ ہم نے بولنا شروع کر دیا، بفضلہٖ تعالیٰ تمام حضرات نے بڑی دلچسپی سے ہماری باتیں سماعت فرمائیں اور بعد میں ہمیں باتفاق راےتحریک کے ایک ذمہ دار کی حیثیت سے منتخب فرما دیا۔
شعرو سخن او ر ادب کی دوسری اصناف کا بہت پاکیزہ ذوق رکھتے تھے۔ بڑے ہی خوش گلو تھے ۔ بہترین لب و لہجے میں جب کلامِ رضا پرھتے تو محفل پر ایک کیف و سرور طاری ہوجاتا ۔ آپ کا ویڈیو سننے کو ملا، بڑے والہانہ انداز سے پڑھ رہے ہیں۔
د ل عبث خوف سے پتہ سا اڑا جاتا ہے پلہ ہلکا سہی بھاری ہے بھروسا تیرا
ایک میں کیا مِرے عصیاں کی حقیقت کتنی مجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے اشارا تیرا
مفت پالا تھا کبھی کام کی عادت نہ پڑی اب عمل پوچھتے ہیں، ہائے نکما تیرا
آپ مارچ196۴ء میں مارہرہ مطہر ہ میں پیدا ہوئے ۔قرآن عظیم گھر پر پڑھا، دینی تعلیم خاندانی بزرگوں سے حاصل فرمائی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے L.L.Bاور L.L.Mکیا اور 1990ء میں I.P.S میں منتخب ہو کر اگست 1990 میں نیشنل پولیس اکیڈمی حیدرآباد سے آپ نے ملازمت کا سلسلہ شروع کیا ۔مدھیہ پردیش کیڈر میں ضلع چھتر پور میں بحیثیت سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی تعینات ہوئے ۔ طے شدہ مدت کے مطابق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں رجسٹراربھی رہے۔ آپ نے اپنے رجسٹرار ہونے کے دور میں اہلِ سنت کے مدارس کے الحاق میں نوازش خسروانہ سے لیا ۔اس کے بعد گوالیار کے ایس۔ایس۔پی کے منصب پر فائز ہوئے۔ ایک عرصے تک محکمۂ سی آئی ڈی کے ڈی آئی جی بھی رہے ۔فی الحال آپ بھوپال ، مدھیہ پردیش میں اکونومک آفینس ونگ کےایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کے منصب پر فائز رہے۔گذشتہ برس آپ کی طبیعت ناساز ہوئی تب سے مسلسل زیر علاج رہے ۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے عقیدت مندانِ خاندان برکات دعائیں کرتے رہے لیکن مرضیِ مولیٰ از ہمہ اولیٰ کے مصداق سید محمد افضل میاں اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے ۔ چند روز قبل آپ کی ایک ویڈیو کلپ دیکھی جس میں آپ اپنے مخصوص انداز میں یہ دو شعر پڑھ رہےتھے، یہ در اصل اپنے وصال کی قبل از وقت خبر دے رہے تھے۔
جان کر منجملۂ خاصانِ مے خانہ مجھے مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے
ننگِ مے خانہ تھا میں ساقی نے یہ کیا کردیا پینے والے کہہ اٹھے یاپیرِ مے خانہ مجھے
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سر سید ڈبیٹ میں تین مرتبہ خطاب جیتا ۔ 2019ء میں یومِ آزادی کے جشن کے موقع پر مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی کمل ناتھ کے ہاتھوں سید محمد افضل میاں علیہ الرحمہ کوان کی خدمات کے اعتراف میں صدر جمہوریہ ایوارڈ پیش کیاگیا تھا۔ یہ ایوارڈ 25؍ سالہ بے داغ اور امتیازی خدمات کے لیے دیا جاتا ہے جسے پریسیڈنٹ میڈل فار ڈسٹنگوزڈ سروسیز کہا جاتا ہے۔
سید محمد افضل میاں کوشہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہٗ سے شرفِ بیعت حاصل تھا جب کہ خلافت و اجازت والد گرامی حضور احسن العلما سے حاصل تھی ۔ آپ کی زوجۂ محترمہ حضورامین ملت کی بیگم کی چھوٹی بہن ہیں جو بفضلہٖ تعالیٰ زیور تعلیم سے آراستہ ہیں۔ ماشآء اللہ ایک بیٹا جن کا نام سید برکات حیدر ہے جو اعلیٰ تعلیم سے بہر مند ہیں۔ ایک بیٹی سیدہ کائنات ہیں ۔
مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے ہمیشہ نہ صرف متفکر رہا کرتے تھے بلکہ اس کے لیے عملی طور پر البرکات ایجوکیشنل سوسائٹی کے تحت آپ نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔آپ اس کے فاؤنڈر اور ایکزکٹیو ممبر تھے۔ماہ نامہ” آج کل “وغیرہ میں آپ کی گراں قدر تحریریں اور خاکے شائع ہوتے تھے، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ صرف زبان ہی کے دھنی نہیں تھے بلکہ اچھے ادیب اور قلم کار بھی تھے۔ آپ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی لٹریری کلب کے رکن رہے، آپ کو مختلف مواقع پر متعدد ایوارڈ ملے۔
فریدیؔ صدیقی مصباحی نے بڑی حق لگتی بات کہی ہے؂
علم و عمل ہے پستیِ اقوام کا علاج دیتے ہوئے دلوں پہ وہ علمی اذاں چلے
بلا شبہہ آپ ایک اعلیٰ سادات خاندان کے چشم و چراغ تھے، آپ کی پرورش حضور احسن العلما کی زیرِ نگرانی ہوئی ، پولیس جیسے محکمہ میں حسنِ کارکردگی کا مظاہرہ کوئی معمولی بات نہیں، ہندوستان بھر کے پولیس محکمہ میں آپ کی لیاقت اور دیانت کے چرچے تھے۔ تدفین سے قبل اسٹیٹ پولیس نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔خاندانی مریدین اور متوسلین بھی آپ سے بھر پور عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ملک اور بیرون ملک کی قدآور مذہبی شخصیات نے درد و غم کے ساتھ اظہارِ تعزیت پیش کیا، اسی طرح متعدد اہم سیاسی حضرات نے زبان و قلم سے اظہارِ غم کیا۔ علی گڑھ سے مارہرہ مطہرہ تک غم کی چادر بچھ گئی تھی، ملک اور بیرون ملک جہانِ اہلِ سنت میں غم و اندوہ کا ماحول رہا۔ آپ کی نمازِ جنازہ میں بھی مختلف طبقات کے کثیر افراد تھے، آپ کے برادرِ کبیر امینِ ملت ، حضرت سید محمد امین میاں قادری برکاتی دامت برکاتہم العالیہ نے نمازِ جنازہ ادا کرائی، انتہائی افسردگی کے ماحول میں مارہرہ مطہرہ میں آپ کو سپردِ خاک کیا گیا۔
جامعہ اشرفیہ مبارک پور ، دیگر مدارس اور خانقاہوں میں تعزیتی نشستیں ہوئیں، قرآن خوانی اور دیگر اوراد و وظائف کا آپ کو ایصالِ ثواب کیا گیا۔ ہم دل و دماغ کی مکمل عقیدتوں کے ساتھ آپ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی خوب خوب مغفرت فرمائے۔ صغائر و کبائر معاف فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
جز ذاتِ خدا وند کے ہے دائم و باقی دنیا میں صدا کوئی رہا ہے کہ رہے گا
ہم خاص طور سے تعزیت پیش کرتے ہیں قابلِ صد احترام آپ کی اہلیہ محترمہ سیدہ دام ظلہا العالی، آپ کے فرزندِ ارجمند عالی جناب سید برکات حیدر سلمہٗ ربہ اور آپ کی بیٹی محترمہ سیدہ کائنات سلمہا اللہ تعالیٰ کی بارگاہوں میں، اسی کے ساتھ ہم آپ کے پورے خاندان کو تعزیت پیش کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ سب کو صبرِ جمیل اور اجرِ جزیل عطا فرمائے۔ آمین۔ بجاہ حبیبک یا رب العالمین، جل و علیٰ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
تاج الصوفیا حضرت مولانا شاہ راشد رضا آسوی مصباحی بھی نہیں رہے
شہزادۂ فیض العارفین ، پیرِ طریقت تاج الصوفیا حضرت مولانا شاہ راشد رضا آسوی مصباحی بھی نہیں رہے۔ ۲۲ ربیع الآخر ۱۴۴۲ھ ، ۸ دسمبر ۲۰۲۰ء بروز منگل حرکتِ قلب بند ہو نے سے صبح چار بجے ممبئی میں وصال فرما گئے۔ افسوس ناک خبر ملتے ہی ِاِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیۡہِ رٰجِعُون پڑھا ، چند سورتیں تلاوت کیں اور مغفرت کی دعا کرتے ہوئے انھیں ایصالِ ثواب کیا۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب شافعِ محشر ﷺ کے طفیل آپ کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
حضرت باوقار فاضلِ اشرفیہ مبارک پور تھے۔ آپ کے والدِ گرامی فیض العارفین حضرت علامہ شاہ غلام آسی پیا حسنی ابو العلائی جہانگیری قدس سرہ باصلاحیت فاضلِ جلیل تھے۔ برسوں تک آپ کی تعلیم دار العلوم اشرفیہ مبارک پور میں ہوئی۔ حضور حافظِ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی اور دیگر جید اساتذہ کرام آپ کے اساتذہ تھے۔ حضرت فیض العارفین سے ہمارے عقیدت مندانہ رشتے تھے۔ ان سے جب ہم ملاقات کا شرف حاصل کرتے تو حسبِ عادت جھوم جاتے اور دونون ہاتھ اٹھا اٹھا کر خوب دعائیں فرماتے، فراغت کے بعد آپ نے ناگ پور کے دار العلوم میں تدریسی خدمات انجام دیں، ایک سے ایک یکتاے روزگار آپ کے تلامذہ تھے اور بعض اب بھی بقیدِ حیات ہیں۔
آپ سلسلۂ عالیہ ابو العلائیہ جہانگیریہ بھیسوڑی شریف، ضلع رام پور سے منسلک ہو گئے تھے اور پھر سب کچھ چھوڑ دیا اور خانقاہوں کی تعمیر و ترقی میں لگ گئے۔ رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری قدس سرہ آپ کے برادرِ خور دتھے۔ فیض العارفین فرماتے تھے کہ حضور حافظِ ملت نے ہم دونوں بھائیوں کو تیار کیا، ہم ملک بھر میں ابو العلائی، جہانگیری خانقاہیں تعمیر کرا رہے ہیں، اور ہمارے بھائی حضرت علامہ ارشد القادری ملک اور بیرون ملک مدارس قائم کر رہے ہیں۔
سرِ دست ہمیں یہ عرض کرنا ہے کہ تاج الصوفیا حضرت مولانا شاہ راشد رضا علیہ الرحمہ ضلع رام پور کی تحصیل قصبہ ملک میں اپنے وسیع مکان میں رہتے تھے جو خانقاہ ابو العلائیہ جہانگیریہ کے نام سے معروف ہے۔ ہم حضرت فیض العارفین کے زمانے سے اب تک کم از کم دس بارہ بار جا چکے ہیں۔ تاج الصوفیا حضرت خواجہ صوفی راشد رضا آسوی متعدد بار ہمارے وطن قصبہ شاہ آباد ضلع رام پور تشریف لائے ہیں۔ حضرت نے غریب خانے پر قیام بھی فرمایا ہے۔ دونوں ہی بزرگ روحانی علاج و معالجہ بھی فرماتے تھے،چند اہلِ شاہ آباد نے بھی آپ کے علاج اور دعا سے استفادہ کیا۔
آپ ایک زندہ دل ، خوب رو، وجیہ، متوسط قد و قامت، گٹھیلا بدن، بلند نورانی پیشانی، بڑی بڑی آنکھیں، چہرے پر مسکراہٹ کے آثار ، جبہ شریف دراز،صدری صوفیانہ، رومال لمبا زعفرانی، بلند صوفیانہ ٹوپی یا عمامہ شریف ، آپ اپنے وجودِ ناز میں سلسلۂ ابو العلائیہ جہانگیریہ کی کرامت نظر آتے تھے۔ ملاقات پر صرف مصافحہ نہیں بلکہ دونوں ہاتھ پھیلا کر سینے سے لگا لیتے تھے۔
۱۰ دسمبر ۲۰۲۰ء کو بروز جمعرات ظہر کی نماز کے بعد مدھوپور شریف اترولہ میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی، وہیں خانقاہ ابو العلائیہ جہانگیریہ آسویہ ہے، جس کے آپ سجادہ نشیں تھے۔ اسی خانقاہ میں حضور فیض العارفین کا مزار اقدس ہے۔ حضرت کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں ہزار افراد شریک ہوئے۔ ان میں علماء مشائخ اور صوفیاے کرام کی تعداد بھی کثیر تھی، آپ کو انتہائی حسرت و غم کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی خوب خوب مغفرت فرمائے۔ آمین۔ حضرت تاج الصوفیا نے اس خانقاہ میں دار التصوف بھی تعمیر کیا تھااور وہیں سے دعوتی اوراصلاحی تبلیغی دورے فرماتے تھے۔ شہزادۂ علامہ ارشد القادری حضرت علامہ ڈاکٹر زرقانی دام ظلہ العالی نے فرمایا :کہ” آپ ہمارے گھر کے بزرگ صوفی عالمِ دین اور ہم سب کے سرپرست تھے، آپ کے وصال کی وجہ سے اب ہمارا خاندان اپنے بزرگ سرپرست سے محروم ہو گیا ہے۔“
آپ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتی اعظم ہند بریلوی قدس سرہ سے مرید تھے اور انھیں سے آپ کو سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کی خلافت و اجازت بھی حاصل تھی۔ آپ اپنے مرشدِ کامل سے حد درجہ محبت اور وارفتگی رکھتے تھے۔ آپ کی مقبولیت میں ان کا بھی بہت بڑا فیضان تھا اور ان شاء اللہ تعالیٰ قبر و حشر میں بھی رہے گا ۔
حضرت تاج الصوفیا کی علمی اور روحانی شخصیت باغ و بہار تھی، آپ ہر سال جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت قدس سرہ کے عرس مبارک میں تشریف لاتے، اگر وقت سے آجاتے تو حضرت حافظِ ملت کی خانقاہ عزیزیہ پرانی بستی میں پہلی فاتحہ کے موقع پر تشریف لاتے تھے۔ دیکھ کر کھل اٹھتے، ہم مصافحہ اور معانقہ کرنے کا شرف حاصل کرتے۔ حضور فیض العارفین قدس سرہ کے دور سے ہی مبارک پور میں سلسلۂ عالیہ ابو العلائیہ جہانگیریہ آسویہ کے مریدین و متوسلین ہیں۔ مریدین و معتقدین کی خاصی تعداد آپ کے ساتھ ہوتی۔ آپ کے ساتھ آپ کے دیوانوں کو دیکھ کر سمجھ میں آتا کہ مریدین اور دیوانوں کا کیا انداز ہونا چاہیے۔ ہم نے متعدد بار ان بزرگوں کے ساتھ بھیسوڑی شریف بھی حاضری کی سعادت حاصل کی۔ بڑے بڑے یکتائے روزگار بزرگوں کے مزارات ہیں جہاں ملک اور بیرون ملک سے دیوانے اور چاہنے والے آتے رہتے ہیں۔ ہم نے بھی فاتحہ پڑھنے اور ان کے طفیل دعائیں مانگنے کا شرف حاصل کیا۔
حضرت تاج الصوفیا مجھ سے فرمانے لگے:ایک بار ابا حضورا چھے موڈ میں تھےفرمانے لگے میں اپنی وراثت اپنی موجودگی میں اپنے دونوں بیٹوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہوں چچا میاں (علامہ ارشدالقادری) بھی تشریف فرما تھے۔ میں نے چچا میاں سے عرض کیا تقسیم وراثت سے قبل میری ایک گزارش مان لی جائے ۔علامہ صاحب نے فرمایا :کہو کیا کہنا چاہتےہو ۔“مولانا راشد میاں نے عرض کیا ”صرف ابا حضور کو مجھے تن تنہا دے دیا جائے اور باقی تمام مال و جائداد میرے بھائی کو دے دی جائے۔ یہ سن کر علامہ صاحب نے اپنی مسرتوں کااظہار فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا :”بہت ہوشیارہواب بھی تم ہی فائدے میں ہو۔“
متعدد بار آپ کی اہلیہ محترمہ مبارک پورساتھ میں تشریف لائی ہیں، محترمہ اس وقت ممبئی میں بھی آپ کے ساتھ تھیں، کسی مرید کے گھر ممبئی میں قیام تھا، ہارٹ اٹیک ہوا اور یہ دنیا چھوڑ کر جنت نشیں ہو گئے۔ آپ کی چار بہنیں اور ایک برادرِ صغیر ہیں، سب نیک اور صالح ہیں۔ آپ کے دو فرزند ارجمند ہیں، محبِ مکرم حضرت مولانا صوفی ضیاء الطیف قادری ابو العلائی اور جناب فیض اللطیف اور چند بیٹیاں ہیں۔
ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ وہ اپنے حبیب مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کے طفیل آپ کی خوب خوب مغفرت فرمائے اور اپنے خصوصی فضل و کرم سے آپ کی تمام نیکیاں قبول فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ تمام پس ماندگان، خاص طور پر اہلیہ محترمہ دام ظلہا العالی ، اولاد امجاد، دیگر اہلِ خانہ اور مریدین و متوسلین کو صبر و اجر سے سرفراز فرمائے۔ آمین۔ بجاہ سید المرسلین ولیہ الصلوٰۃ والتسلیم۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ذکی احمد، شخصیت اور شاعری: ایک مطالعہ

تحریر: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی، نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے