غزل: اس کی محفل میں وہ گمنام ہوا

خیال آرائی: ناطق مصباحی

اپنی کاوش میں وہ ناکام ہوا
اپنے کرتوت سے بدنام ہوا

جس نے سینچا ہے خون سے گلشن
اس کی محفل میں وہ گمنام ہوا

جو تباہی کاسبب نہ سمجھے
اسکی نظروں میں وہ خوشنام ہوا

آج اسکے بھی ہوگئے نالاں
دیکھ صیاد زیر دام ہوا

اچھے شعبوں سے خوشنوائی تھی
منفعت بخش ہی نیلام ہوا

دیکھ ناطق بلکتے بھوکوں کو
حادثہ ان کا سرعام ہوا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل: بحث کا کچھ نہیں جس کو سلیقہ

بحث کاجو بھی ہے بہتر طریقہنہیں بحاث کواس کا سلیقہ بحث میں صغریٰ کبریٰ حداوسطنہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے