20سال بعد Simi کے 124 کارکنان باعزّت بری "ہم کو عبث ہی بدنام کیا”

تحریر: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری

2001میں سورت کے راج شری ہال میں آل اندیا مائناریٹیز بورڈ کے زیر اہتمام مسلمانوں کے تعلیمی مسائل پر غور خوص کے لیے آئے 127اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کو سورت پولس نے گرفتار کیا تھا۔ 20 بیس سال بعد اب انھیں سورت کی عدالت نے با عزت بری کردیا ہے-
ملک بھر میں اس طرح کے بہت سارےعدالت کے فیصلے آئے ہیں جن میں بڑی تعداد میں گرفتار برسوں جیلوں میں قید رکھے گئے مسلم نوجوانوں کو کئی سالوں کے بعد عدالت نے باعزت بری کرنے کا فیصلہ سنایا-جب بے گناہی کا فیصلہ آیاتو وہ بوڑھے، ان کا کریئر تباہ، گھر بکھرا ہوا، نوکری روزگار ختم، ان کے بچے تعلیمی میدان میں پیچھےاور بے سہارا، والدین ضعیف اور امراض کا شکار اور رشتہ دار ان سے کنارہ کش ہو چکے تھے۔

کہیں ظلمتوں میں گھر کر ہے تلاش دست رہبر
کہیں جگمگا اٹھی ہیں میرے نقش پا سے راہیں

انصاف کی دیوی کہتی ہے "بھلے ہی 100 مجرم گرفت سے چھوٹ جائیں، سزہ نہ پا سکیں، لیکن کوئی ایک بے گناہ بھی غلط طریقے سے ناانصافی کا شکار نہ ہو”۔۔۔۔۔

مسلمانوں کی بے گناہی کی اس طرح کی نیوز اب ٹی وی چینل چیخ چیخ کر گلا پھاڑ کر کیوں نہیں بیان کرتے؟ اب کیوں دن بھر اس پر ڈبیٹ نہیں کروائی جاتی؟ قانون کے ایکسپرٹ کو مدعو کر کے کھلی بحث کیوں نہیں ہوتی؟؟؟؟
ظاہر ہے کہ آپ مسلمان ہیں اس لیے آپ کی برائی دکھا کرواہ واہی بٹوری جاتی ہے آپ کو مجرم ثابت کرنے کے لیے میڈیا میدان میں کود پڑتا ہے اور ان کے چاہنے والے خوش ہوتے ہیں ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
20کروڑ ملّت اسلامیہ میں سے کتنے ہیں جو simi کو جانتے ہیں؟
کتنوں کو معلوم ہے کہ ان پر پابندی کیوں لگائی گئی ۔؟؟
ظاہر ہے کہ نہ ہم اخبار پڑھتے ہیں نہ ہماری نظر اتنی وسیع ہیے۔ہم کو تو جو کچھ میڈیا دکھاتا ہے اکثر اسی کو سچ سمجھ لیتے ہیں ۔گہراعلم، اعلیٰ تعلیم، شعور، مومنانہ فراست، بصیرت، فاسق کی خبر پر نظر،باطل کا ایجنڈااور تجزیہ کرنے کی فرصت کہاں ہے ہمارے پاس ۔ہمارے اپنے مسائل میں ہم خود الجھے ہوئے ہیں الجھائے گئے ہیں-

کنکر پتھر کی تعمیر یں، مذہب کا مفہوم نہیں
ذہنوں کی تعمیر بھی کیجیے گنبد اورمحراب کے ساتھ

پھر مسلک ،جماعتوں کی تقسیم نے اخوت اسلامی کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔اب ہم بنیان مرصوص بھی نہیں، نہ کلمہ گو الله کا کنبہ نظر آتا ہے۔
ہم جیسے بھی، جو کچھ بھی ہیں اس بات کی کوشش کریں کہ حق وصداقت کو تلاش کرنے ہی میں یقین رکھیں گے اور پوری ملت اسلامیہ میں اتحاد، اور اسے جسدواحد بنانے کا کام کریں گے۔رواداری، انصاف، تعلیم، اکرام مسلم کے لیے اپنے دلوں کو وسعت دیں گے۔مظلوموں کو انصاف دلانے کے لئے قانونی جدوجہد کریں گے ۔باعزت بری کیے گئے بے گناہوں سے آنکھیں نہ چرائیں گے۔انھیں معاشرے میں عزت کامقام دیں گے،ان کے ساتھ ہمدردی اور مواسات کریں گے۔مومنانہ فراست سے معاملات کو دیکھیں گے اور اپنے اوقات کو پُر امن تعمیر ی کاموں میں لگائیں گے۔ایسے مظلوموں سے ہمدردی کرکے اپنا فرض ادا کریں گے۔

وہ چند نوجوان تھےجو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔ (الکہف:13)
اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (SIMI) عصری تعلیم حاصل کرنے والےصالح نوجوان کی تنظیم تھی۔

نہ حوصلہ نہ تمنا، نہ ولولہ نہ امنگ؟
یہ بے حسی نہیں اے دل تو بے حسی کیاہے؟

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ ضروری نہیں ہے

ساجد محمود شیخ، میرا روڈ مکرمی!مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک بار پھر سخت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے