ائمہ بہار کے لیے حکومت کا خوش آئند قدم

ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی
ادارۂ شرعیہ، سلطان گنج پٹنہ، بہار

بہار کے وزیر اعلی کے منصب پر بہت سی شخصیتیں فائز رہی اور آنے والے وقتوں میں فائز بھی ہونگی ہر ایک نے اپنے اعتبارسے بہار کی ہمہ جہت ترقی کیلئے کوششیں بھی کی ہیں مگر بہار کے موجودہ وزیر اعلی جناب نتیش کمار جی نے اپنی اصول پسندی کی جو بنیاد ڈالی ہے اس میں برادری، نسل، مذہب اور جماعت کی تخصیص نہیں وہ عملی طور پر بلا تفریق سارے باشندگان بہار کے لئے کام کرتے ہیں انکی ترجیحات میں ہے کہ بہار اقتصادی،معاشی،سماجی،تعلیمی اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی کی ایک مثالی ریاست ہو،اس لئے کہ ایک وسیع لسانی،تہذیبی اور تمدنی رعنائی رکھنے والا ملک وریاست کسی کو نظر انداز کرکے بین الاقوامی سطح پر اپنی عظمت نہیں منوا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ نتیش کمار سب کیلئے یکساں مواقع اور سب کے ساتھ یکساں انصاف پسندی کی پالیسی پر گامزن ہے ان کے طویل عہد حکومت میں فرقہ ورانہ فسادات کا بھی سد باب ہوا ہے اور اس کی شرح بھی کم ہو ئی ہے اس کا میابی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ قانون کی نظر میں جو مجرم پایا گیا بلاتفریق اسے سزا ملی اس سے امن وامان بھی بحالی کا راستہ ہموار ہو اہے ا ور فرقہ وارانہ ہم آہنگی بھی مضبوط ہو ئی ہے یہ ایک پیغام ان ارباب اختیار کے لئے جو مجرم کو انصاف کا خواب دیکھتے اور دکھا تے ہیںانہیں اس فلسفہ کو سمجھنا چاہئے کہ مجرم کو بچا کر نہ تو انصاف کیا جاسکتا ہے اور جرم کو روکا جا سکتا ہے ۔مظلوم کیلئے انصاف اور مجرموں کیلئے سزا نتیش جی کی پالیسی میں شامل ہے ۔
گھر سے باہر تک من وامان قائم کرنے ہی کی غرض سے ایک خطیرآمد کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انہوں نے بہار میں شراب بندی کا قانون نافذ کیا اس سے حکومت کی آمد کا ایک دروازہ ضرور بند ہوا مگر لاکھوں گھروں کے دروازے پر امن ومحبت کی بہاریں دستک دینے لگیں گھریلوں تشدد اور سرعام لڑائی جھگڑا بھی کم ہو نے لگا ۔سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے وہ جن کے حلیف ہیں ممکن ہے کہ عالم سیکولر مزاج ہندوستانی اور اقلیتوں کے درمیان انکے متعلق مثبت گمان نہ ہو مگر انہوں نے ہر موقع پر عملا یہ ثابت کیا ہے کہ ہم سب کیلئے کام کرتے ہیں۔2005میں اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے بہار کی تعلیمی حالت سدھارنے کا منصوبہ بنایا اور یہ بات ظاہر ہے کہ کوئی تعلیمی انقلاب بغیر معلم کے نہیں آسکتا ادھر بہار کے اسکول کالج کی حالت یہ تھی کہ پڑھنے والے ہیں تو پڑھانے والے نہیں اس کمی کو دور کرنے کیلئے انہوں نے شیکشا متروں کی بحال کیا۔میرٹ لسٹ کی بنیاد پر اساتذہ کی بحالی ہو ئی، مدرسہ بورڈ کے (مولوی مساوی انٹر )سند یافتہ کیلئے یہ بہترین موقع ثابت ہوا اور ہزاروں علماء شیکشا متر ہوگئے ابتداء میں انکی تنخواہ صرف 1500روپئے تھی جو اب، 25000سے متجاوز ہے باقی جو انکے مطالبات ہیں حکومت اس کیلئے بھی سنجیدہ غوروفکر کررہی ہے امید ہے کہ وقت آنے پر مناسب اقدامات کئے جائیں گے ٹولہ شیشک ،آنگن باڑی اور تعلیمی مرکز میں بھی مسلم اقلیتیوں کی مناسب نمائندگی ہوئی ہے
حالیہ انتخاب میں ان لوگوں میں جو برسررازگار ہو گئے حکومت کے تئیں احسان سپاسی کا جذبہ ہونا چاہئے تھا جس کا کماحقہ مظاہرہ نہیں ہو سکااس لئے کہ کچھ قانونی پیچ و خم کی وجہ سے ان کے مطالبات پو رے نہیں ہو سکے ہیں حکومت سے امید ہے کہ وہ اس سلسلے میں ضرور کو ئی کام کر یگی اور ان اساتذہ سے امید ہے کہ وہ آئندہ حکومت کو اپنی شکرگذار ہو نے کا احساس دلائیں گے۔
مسلم اقلیت کی معاشی زبوحالی کا قصہ ان سنا نہیں ہے ہر شخص اس سے واقف ہے کہ ہندوستان میں سب سے زیادہ معاشی طور پر کمزور مسلمان ہیں تعلیم ،نوکری تجارت اور دیگر معاشی ذرائع میں مسلمانوں کی نمائندگی دو تین فیصد سے زیادہ نہیں ہے مساجد کے ائمہ اور موذن اور مدارس کے علماء کی ملازمت اور تنخواہ کا معاملہ اسی کمزور اقلیت کے کاندھے پر ہے جس کی وجہ سے یہ طبقہ بھی معاشی طور پر انتہائی کسمپرسی کا شکار ہے ۔کویڈ (19 )کے دوران علماء پر کیا بیتی اور اب کیا بیت رہی ہے اسے صرف علماء ہی سمجھ سکتے ہیں۔ ہزاروں ائمہ منصب امامت سے ہٹا دیئے گئے ہزاروںمدرسوں نے مدرسین کی تنخواہوں سے دستبرداری کا اعلان کیا اس طرح سے علما ئے دین کے لئے کرونا کا دور دوہری آفت ثابت ہوا جوان میں صاحب ثروت تھے ان کا کام تو کسی طرح چل گیا مگر جو مفلوک الحال تھے انہوں نے اس فیلڈ سے ہمیشہ کیلئے منہ موڑ لیا کچھ چھوٹے موٹے دھندے سے لگ گئے اور کچھ کل کارخانے کے مزدور بن گئے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ایسے حالات میں حکومت کی طرف سے ائمہ وموذنین ک کے لئے کوئی قدم اٹھانا کتنا قابل تعریف کام ہو سکتا ہے اور یہ کام بہار کے بے لوث وزیر اعلیٰ نتیش کمار جی نے انجام دیا ہے۔ حکومت کی طرف سے رجسٹرڈ مساجد کے ائمہ کو پندرہ ہزار اور موذنین کو دس ہزار تنخواہ دینے کی ذمہ داری وقف بورڈ کو سونپی گئی ہے سر دست اس سے بہار کے ۱۰۵۷مسجدکے ائمہ و موذن مستفید ہو ں گیممکن ہے کہ کچھ لوگ یہ سمجھ رہے ہوں کہ کونسا بڑا کام ہے مگر واقعی جن حالات میں یہ کیا گیا ہے اس کی جتنی تعریف کی جا ئے کم ہیاور ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک مرتبہ پھر نتیش جی اقلیتوں میں اپنا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ کوئی ہمارے تعلق سے چاہے کچھ بھی سوچے مگر ہم ہر بہار کے ایک ایک فرد کی ترقی و خوشحالی کیلئے کام کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ ان سے پہلے دہلی میں اروند کیجریوال نیا ئمہ ومؤذن کی تنخواہ سرکاری طور پر دیئے جانے کا قانون پاس کیا تھا مگر مجھے اچھی طرح یاد ہے جب دہلی میں اسمبلی انتخاب قریب تھا تب انہوں نے ایسا کیاحالیہ دنوں میں پورے طور پر تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے دہلی کے ائمہ نے صدائے احتجاج بھی بلند کیا تھا مگر نتیش جی نے ۲۰۲۰؁ء کے الیکشن ہونے کے بعدیہ قدم اٹھا یا ہے جس میں بہت سے لوگوں نے انہیں نظر انداز کر دیا ہے حالانکہ اس بات کا اعتراف بہار کے بیشتر افراد کو ہے کہ نتیش جی کا کوئی بدل نہیں ہے اس کی بھی ایک خاص وجہ تھی جس سے ارباب سیاست خوب واقف ہیں ۔مگر نتیش کمار جی نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ میں کسی کا حلیف رہوں ان کے نظریہ کا پابند نہیں بلکہ اپنی پالیسی پر گامزن رہتا ہوں انہوں نے الیکشن سے قبل مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونیورسٹی کی خوبصورت عمارت بھی بنوائی ہے ساتھ ہی مدرسہ بورڈ اور اس میں تعلیمی خدمات انجام دینے والے اساتذہ کیلئے بھی کئی ٹھوس قدم اٹھائے ہیں عنقریب جس کے مثبت نتائج ظاہر ہوں گے سرست حکومت نے ائمہ اور موذنین کیلئے جو پہل کیا ہم اسکی تحسین و تائید کرتے ہیں عزت مآب وزیر اعلی اور اس کام کو سر انجام دینے والے تمام ارباب اختیارات کے شکر گزار ہیں کہ انہونے ایک پریشان کن حالات میں ائمہ وموذنین کیلئے ایک خوش آئن پیش رفت کی ہے امید ہے کہ ائمہ وموذنین اور مقتدی حضرات بھی وقت آنے پر حکومت کو اپنا بھر تعاون اور اعتماد سونپیں گے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نوجوان صحافی عارف اقبال ”کلدیپ نیر“ ایوارڈ سے سرفراز

مالی گھاٹ/بہار: 26/ مارچ (عبد الرحیم برہولیاوی)ای ٹی وی بھارت اردو سے وابستہ جواں سال …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے