گلشن شعیب الاولیاء کا ایک عظیم پاسبان (قسط اول)

تحریر: اظہار احمد فیضی
دارالعلوم اہلسنت یار علویہ فیض الرسول نوڈہوا سکھوانی مہراج گنج

کاٸنات کی اس وسیع فضا میں جب سے حضرت آدم علیہ السلام نے رخت اقامت ڈالا ہے نیلگوں آسمان کے ساۓ میں جب سے دنیا کو آباد ہونا نصیب ہواہے روزآنہ نہ جانے کتنے لوگ پیدا ہوتے ہیں اور نہ جانے کتنے انتقال کرجاتے ہیں چند ہی دنوں کے بعد ان کے نام ونشان تک مٹ جاتے ہیں کوٸ نہیں جانتا کون تھا کہاں پلا کہاں بڑھا سیرت کیا ہے کردار کیا ہے
مگر بعض خاصان خدا اور محبوبان خدا ایسے ہیں کہ آج بھی ان کے نام ونشاں موجود ہیں
آخر بات کیا ہے کہ دنیا بعض کو بھلادیتی ہے اور بعض کو یاد رکھتی ہے تو غور و فکر کر نے پر پتہ چلتا ہے کہ جو دنیا میں اپنے لۓ جیتاہے قوم اسے بھلا دیتی ہے اور جو اللہ ورسول کے لۓ جیتا ہے دنیا اسے نہیں بھلاتی یوں کہیۓ کہ جس کی زندگی کا مشن اللہ ورسول کے نام کو بلند کرناہو تو اللہ رب العزت بھی قیامت تک اس کے نام کو بلندی دے دیتا ہے
انھیں خاصان خدامیں سے ایک ذات تھی سیدی مرشدی تاج الاصفیا۶ رٸیس الاتقیا۶ گل گلزارقادریت شمع شبستان چشتیت مجاہد سنیت مظہر شعیب الاولیا۶ حضرت مولانا الحاج الشاہ صوفی محمد صدیق صاحب المعروف خلیفہ صاحب علیہ الرحمہ کی جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اپنا سب کچھ رضاۓ مولی کے حصول اور اسلام کی سربلندی اور دین وسنیت کی رہنماٸ اور حرمت مصطفی علیہ التحیة والثنا۶ سے کھیلنے والوں کی سرکوبی کے لٸے وقف کردیا تھا
حضور مظہر شعیب الاولیا ۶ ایسے مذہبی اور دینی گھرانے میں پیدا ہوۓ تھے آپ نے اس ماحول میں آنکھیں کھو لی تھیں جہاں قال اللہ اور قال الرسول کی صداٸیں بلند ہو رہی تھیں
آپ حضور شعیب الاولیا علیہ الرحمہ کی آغوش تربیت میں پلے بڑھے پروان چڑھے جسکی وجہ سے آپ کی زندگی حضور شعیب الاولیا ۶ کی زندگی کا آٸینہ دار بن گٸ
حضور مظہر شعیب الاولیا۶ کی ذات بابرکات خدمت خلق، اخلاق و کردار، تبلیغ وارشاد، اخلاص وللہیت ،علم وعمل، عبادت وریاضت، تقوی وطہارت، جود وسخاوت سے مرصع اور احترام اکابر ،خردہ نوازی، تواضع وانکساری سے مزین تھی حاجت مندوں کی حاجت رواٸ اور ضرورت مند طلبہ اور فقرا۶ کی (بذریعہ امداد) دلجوٸی اور مہمانوں کی مہمان نوا زی آپ کا طرہ امتیاز تھا
نیز سخاوت وفیاضی اورمنکسر المزاجی کا یہ عالم تھاکہ بہت ساری خوبیوں اور کمالات پر فاٸز ہونے کے باوجود عموما سنی علما۶ سے ملاقات کے وقت مصافحہ کے ساتھ ساتھ دست بوسی بھی کرتے اور نذر ونذرانے بھی پیش فرماتے اس دور کا شاید کوٸی ایسا عالم دین بچا ہو جسکی ملاقات حضور مظہر شعیب الاولیا۶ سے ہوٸی ہواور نذرانہ نہ دیاہو آپ کے دل وجگر کے کسی گوشے میں لالچ کا گزر تک نہ تھا اورنہ ہی
حرص وطمع کو کبھی اپنے قریب پھٹکنے دیا مریدوں کی دولت وثروت پر کبھی بھی آپ کی نظر نہ رہی اور نہ ہی آپ نے کبھی اپنی ذات کے لٸے کسی سے کسی بھی چیز کا مطالبہ کیا اگر آپ چاہتے تو پیری مریدی کے ذریعے بے پناہ مال ودولت اکٹھا کر لیتےمگر ذخیرہ اندوزی سے نفرت اور سخاوت سے محبت آپ کو حضور شعیب الاولیا۶علیہ الرحمہ سے ورثہ میں ملا ہواتھا
آپ اپنے والدگرامی مرتبت سرکار شعیب الاولیا۶ کے مبارک قول طمع نہ کر جمع نہ کر منع نہ کر پر بڑی شدت سے عمل پیرا تھے
حد تو یہ ہے کہ ممبٸ جیسے شہر کا دورہ کر کے گھر تشریف لاتے اور مریدوں کا پیش کیا ہوا نذرانہ گھر پہونچنے سے پہلے ہی راستے میں غربا۶ .،فقرا۶، علما۶، میں تقسیم فرمادیتے اور بچا کھچا خدام اور ضرورت مند طلبہ کو دے دیتے
اور خادموں سے کہتے بابو ذرا گھر کے اندر سے پیسہ لیکر صابن لےآ ٶ یہ تھی حضور مظہر شعیب الاولیاء کی استغنا اور شان فیاضی کہ ممبٸ سے گھر تک پہونچتے پہونچتے وہ سارے پیسے ضرورت مندوں کے حوالے ہوجاتے
دیکھنے والوں نے تو یہانتک بیان کیا کہ اجمیر شریف کی مقدس سرزمین ہے حضور مظہرشعیب الاولیا۶ شاہجہانی مسجد میں تشریف فرماہیں آپ کاایک مرید غالبا سو سو کے نوٹوں کی ایک گڈی خدمت میں پیش کیا آپ نے وہیں نوٹوں کی نتھی توڑکر فرمایا اتنا ان کو دےدو اتناان کو دے دو پیش کرنے والا مرید دیکھتا رہ گیا کہ میں نے تو حضرت کو نذرانہ پیش کیا تھا حضرت نے ایک روپیہ بھی اپنے پاس نہیں رکھا آج براٶں شریف کی مقدس سرزمین پر اسی عظیم ہستی کا عرس سراپا قدس ہے پروردگارعالم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم سبھی کو حضور مظہر شعیب الاولیاء کے فیضان کرم سے مالا مال فرمائے۔ آمین

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

منقبت: قسمت میری جگا دو میرے مسعود غازی

نتیجۂ فکر: برکت اللہ فیضی، گونڈہ قسمت میری جگا دو میرے مسعود غازیبگڑی میری بنا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے