سلسلۂ قادریہ منوریہ، سلسلۂ چشتیہ اشرفیہ، سلسلۂ قادریہ برکاتیہ رضویہ کے عظیم بزرگ جلالۃ العلم ابوالفیض حضور حافظِ ملت نور اللہ مرقدہ

ازقلم: مبارک حسین مصباحی، مبارک پور

جلالۃ العلم ابو الفیض حضور حافظِ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی نور اللہ مرقدہ بچپن ہی سے پنجگانہ نمازیں پابندی سے ادا فرماتے، جہاں تک ہماری معلومات ہے کہ بلوغ کے بعد آپ نمازِ تہجد بھی ادا فرماتےرہے،قرآن عظیم کی تلاوت بڑی کثرت سے فرماتے، والدین کریمین کی خدمت اور حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔ ۱۳۴۲ھ/۱۹۲۳ء میں آپ بحیثیت طالب علم اجمیر مقدس تشریف لے گئے ۔ آپ نے ۹ برس کا عرصہ خواجہ غریب نواز کی نگری اجمیر مقدس میں گزارا۔ وہاں ایک جانب آپ جامعہ معینیہ عثمانیہ میں دینی علوم حدیث، تفسیر اور علمِ فقہ وغیرہ کا درس حاصل فرماتے، دوسری جانب مے کدۂ روحانیت سے عرفانی چشتی جام پیتے، آپ نے اجمیر مقدس میں علمی اور عرفانی دولت کا بھر پور حصہ حاصل فرمایا۔ خواجۂ خواجگاں سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز شاہ معین الدین چشتی اجمیری قدس سرہ کی درگاہ میں بڑے بڑے علما، مشایخ، سلاطین، سیاسی حضرات اور عوام حاضر ہوتے اور ان کے وسیلے سے بارگاہِ الٰہی جل مجدہ سے بھیک مانگنا اپنی سعادت سمجھتے رہے ہیں۔ آٹھ سو برس سے زیادہ عرصہ ہوا، دنیا کے گوشے گوشے سے طالبانِ حق اور حالات کے مارے اس مقدس دربار میں بھکاری بنے کھڑے رہتے ہیں۔ کیسے کیسے یکتاے روزگار اپنے سروں پر پھولوں کی چادریں لیے اپنی باری کے انتظار میں سراپا نیاز بنے نظر آتے ہیں۔
یہ کوئی ۱۹۳۳ سے پہلے کی بات ہے ، کچھوچھہ مقدسہ کے روحانی تاج دار شیخ المشائخ سید شاہ محمد علی حسین اشرفی جیلانی قدس سرہ بھی اس عالی دربار میں حاضر ہوئے۔ آپ سلسلۂ چشتیہ اشرفیہ کے عظیم بزرگ ہیں، اس عظیم روحانی خانقاہ سے آپ کا روحانی اور قلبی تعلق ہمیشہ رہا ہے ۔ آپ بار بار اس خانقاہ عالیہ چشتیہ معینیہ میں حاضر ہوتے رہتے تھے۔ اس بار حاضری اور روحانی اکتسابِ فیض کے بعد آپ اسی خانقاہ کے ایک مقام پر تشریف فرما ہوئے اور آپ نے فرمایا :آج جو سلسلۂ روحانیت میں داخل ہونا چاہے آئے ہم حاضر ہیں۔ آپ کے پاس سلسلۂ چشتیہ کے ساتھ دیگر سلاسلِ حقہ بھی تھے اور خاص طور پر سلسلہ عالیہ قادریہ منوریہ معمریہ بھی تھا۔ اس سلسلہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف چار واسطوں سے حضور غوثِ اعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی بغدادی قدس سرہ تک پہنچ جاتا ہے۔دار العلوم معینیہ عثمانیہ کے چالیس خوش قسمت طلبہ ایک ساتھ سلسلۂ عالیہ قادریہ منوریہ معمریہ میں داخل ہو ئے، اور سلسلۂ عالیہ چشتیہ اشرفیہ میں طالب ہوئے۔ حضور حافظِ ملت قدس سرہ بھی اس چالیس نفری قافلۂ ارادت میں فردِ فرید تھے۔
حضور حافظِ ملت اپنے ایک انٹر ویو میں فرماتے ہیں :
”حضرت شاہ علی حسین صاحب اشرفی میاں ہمارے زمانۂ طالب علمی میں اجمیر شریف پہنچے، ان کے پاس سلسلہ منوریہ تھا جس میں حضور غوثِ اعظم تک صرف چار واسطے ہیں۔ ہم چالیس رفقاے درس ایک ساتھ اس سلسلے میں داخل ہوئے اور سلسلہ چشتیہ اشرفیہ میں طالب ہوئے۔ بعد میں جب مبارک پور آیا، اور یہاں حضرت اشرفی میاں کی تشریف آوری ہوئی تو مجھے خلافت بھی دے دی۔ میں نے عرض کیا حضور! میں تو اس کا اہل نہیں، فرمایا: ”داد حق را قابلیت شرط نیست“۔(انوارِ حافظِ ملت، ص:۱۶)
غوثِ اعظم قدس سرہ غوثیتِ کبریٰ کے بلند مقام پر فائز ہیں، آپ ولایت و معرفت کے تاجدار ہیں۔ سلسلۂ عالیہ قادریہ عظیم روحانی سلسلہ ہے۔ حضور غوثِ اعظم کے روحانی انوار و تجلیات تمام سلاسل پر ہیں، سلسلہ چشتیہ ہو، سلسلہ نقشبندیہ ہو ، سلسلہ سہروردیہ ہو یا دیگر تمام سلاسل، بلکہ ولایت و معرفت کی کنجی اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرما دی ہے۔
جس وقت حضور سیدنا غوثِ اعظم ﷫ نے اولیاے کرام کے روبرو حکمِ الٰہی کے مطابق بغدادِ مقدس میں ارشاد فرمایا ” قَدَمِیۡ ہٰذِہِ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیَ اللہِ “ ” میرا یہ قدم اللہ عز و جل کے ہر ولی کی گردن پر ہے“ تو اس وقت خواجہ غریب نواز چشتی اجمیری ﷫ اپنی جوانی کے دنوں میں ملک خراسان کے دامن کوہ میں عبادت میں مصروف تھے، وہاں بغداد شریف میں ارشاد ہوتا ہے اور یہاں غریب نواز ﷫ نے اپنا سر جھکایا اور اتنا جھکایا کہ سرِ مبارک زمین تک پہنچا اور فرمایا:”بَلۡ قَدَمَاکَ عَلٰی رَأسِی وَعَیۡنِیۡ“ بلکہ آپ کے دونوں قدم میرے سر پر ہیں اور میری آنکھوں پر ہیں۔ سرکار غوثِ اعظم نے یہ منظر دیکھا تو اظہارِ مسرت فرماتے ہوئے بحکمِ الٰہی آپ کو ہند کی روحانی سلطنت کی خوش خبری بھی عطا فرما دی۔حضور غریب نواز قدس سرہ العالی سلطان الہند ہوئے اور یہاں تمام اولیاے عہد و ما بعد آپ کے محکوم ہوئے۔
نہ کیوں کر سلطنت دونوں جہاں کی ان کو حاصل ہو سروں پر اپنے لیتے ہیں جو تلوا غوثِ اعظم کا
شیخ المشائخ اعلیٰ حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی جیلانی کی ولادت ۲۲؍ ربیع الآخر ۱۴۶۶ھ /۷ مارچ ۱۸۵۰ بروز دوشنبہ بوقت صبح صادق کچھوچھہ مقدسہ میں ہوئی۔ وصال پر ملال رجب المرجب ۱۳۵۵ھ میں ہوا۔ آپ علم و روحانیت کے تاجدار تھے، مجددِ سلسلۂ اشرفیہ تھے، آپ کے عہدِ حیات میں سلسلہ اشرفیہ عالمی سطح پر بڑی تیزی سے پھیلا۔ آپ انتہائی خوب رو اور وجیہ ترتھے، کتنے ہی متلاشیانِ حق آپ کا دیدار کر کے تائب ہوئے اور سلسلۂ چشتیہ اشرفیہ میں داخل ہو گئے، آپ سیدنا عبد الرزاق نور العین قدس سرہ کی نسل پاک کی حسین یادگار تھے، سرکار غوث اعظم جیلانی بغدادی قدس سرہ کی نسل سے حسنی اور حسینی سید تھے۔ بلا شبہہ آپ سیدنا مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ کی روحانی اولاد سے تھے۔
امام ابلسنت امام احمد رضا فاضل بریلوی کو جب معلوم ہوا کہ ان کی پیرومرشد حضرت آل رسول کی طبیعت زیاده ناساز ہےتو آپ خود بغرض مزاج پرسی مارہره شریف تشریف لے گئے۔ حضرت آل رسول نے اعلىٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کو دیکھ کرفرمایاکہ میرے پاس سرکار غوت أعظم والرضوان کی امانت ہے جسے اولاد غوث اعظم میں شبیہ غوث الثقلین مولانا سید شاه ابواحمد محمد على حسین اشرفی کچھوچھوی کو سونپنی اور پیش کرنی ہے اور وه اس وقت شیخ المشائخ محبوب الٰہی حضرت نظام الدين اولیاء چشتی کے آستانہ پر ہیں محراب مسجد میں ملاقات بوگی۔
سیدی امام احمدرضا فاضل بریلوی دلی تشریف لائے حضرت محبوب الٰہی کے آستانہ پر حاضری دی پھر مسجد میں تشریف لائے تو واقعی پیر کی نشاندہی کے بموجب حضرت اشرفی میاں کومحراب مسجد میں پایا اور خوشی سے جھوم اٹھے اوربرجستہ في البدیہہ یہ شعر کہے ؟
اشرفی اے آئینۂ حسنِ خوباں اے نظر کردہ و پروردۂ سہ محبوباں
اے اشرفی میاں سرکار! آپ کا چہرۂ انور حسن وخوبی کا آئینہ ہے۔آپ تینوں محبوبین کے پرورده اور نظر کرده ہیں۔محبوب سبحانی غوث الاعظم شیخ عبدالقادرجیلانی ،محبوب الٰہی سلطان المشائخ حضرت نظام الدين اولیا ،محبوب یزدانی غوث العالم سلطان مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی ۔پھر عرض مدعا کیا۔ اعلىٰ حضرت اشرفی میاں نے مارہره شریف میں حاضری دی حضرت سید شاه آل رسول نے سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ کی اجازت اور خلافت بخشی اور یہ فرمايا کہ جس کا حق تھا اس تک یہ امانت پہنچا دی اس کے بعد حضرت سید شاه آل رسول کے اعلىٰ حضرت اشرفی میاں خاتم الخلفا کہلائے۔(صحائف اشرفی)
حافظ ملت کی دینی اور علمی سربراہی میں اشرفیہ کے ارباب حل وعقد اور مخلصین اہل سنت نے محرم ۱۳۵۳ھ سے ربیع الآخر ۱۳۵۳ھ کے تقریری ہنگاموں کا ماحول سرد پڑتے ہی ایک نیا تعمیری سفر شروع کر دیا، جامع مسجد راجہ مبارک شاہ میں جمعہ کےدن اشرفیہ کی تعمیر و ترقی کا منصوبہ پیش کر کے چندہ کی مہم شروع کردی، مبارک پور کے زندہ دل سنی مسلمانوں نے اس وقت کی معاشی کمزوری کے باوجود ہر ممکن تعاون پیش کیا، دو ماہ تک چندہ کی وصولیابی کا سلسلہ چلتا رہا، اس چندہ کے پر جوش ماحول کی منظر کشی کرتے ہوئے رو د اد اشرفیہ کے مرتب رقم طراز ہیں:
”روپیہ پیسہ ، گائے، بھینس، مرغی، بکری، گھوڑا، برتن، کپڑا، زیور،ہر قسم کی چیز کو نثار کیا، وہ کون سی اپنی ضرورت کی چیزیں ہیں جومسلمانان مبارک پور نے اپنے مدر سہ پر قربان نہ کی ہوں۔ ایثارو قناعت اسی کا نام ہے ، زیور عورتوں کو کس قدر مرغوب و محبوب ہے ، ہر چیز سے پیارا اور ہر چیز سے محبوب تر عورتوں کے لیے زیورہے مگر واہ رے جذبۂ دینی ! پہلی منزل کے تعمیری چندہ میں علاوہ طلائی زیور کے عورتوں نے تخمیناً سوا من پختہ زیور مدرسہ پر نثارکیا۔ (روو او دار العلوم اشرفیہ ، ص: ۳۔۱۳۵۹ھ)
حضور حافظِ ملت اپنے شیخِ طریقت کے مرید، طالب اور خلیفہ ہیں۔ اس دور کے اکثر جید علما و مشایخ حضور شیخ المشائخ سے مرید و طالب تھے۔ بہت سی اہم شخصیات کو آپ نے اجازت و خلافت سے بھی سرفراز فرمایا۔اعلیٰ حضرت سیدنا شاہ علی حسین اشرفی جیلانی نے درجنوں مدارس، جامعات اور خانقاہوں کا سنگ بنیاد رکھا ، مبارک پور اور قرب و جوار کے علاقوں میں بھی آپ کا حلقۂ ارادت تھا۔ مدرسہ اشرفیہ لطیفیہ میں لفظ ”اشرفیہ“ بھی حضور مخدوم اشرف قدس سرہ کی نسبت سے لگاہے ، حضور حافظِ ملت کی کد و کاوش سے ایک برس کے بعد جب دار العلوم اشرفیہ مبارک پور کا سنگ بنیاد رکھا گیا تو اس میں حضور سید شاہ علی حسین اشرفی جیلانی ، حضور محدثِ اعظم ہند کچھوچھوی اور حضور صدر الشریعہ علامہ شاہ امجد علی اعظمی کو مدعو کیا گیا۔ حضور اشرفی میاں کو بطور خاص چاندی کی کرنی دی گئی، جمعۃ المبارکہ ۱۲ شوال المکرم ۱۳۵۳ھ مطابق ۱۰ جنوری ۱۹۳۵ء میں گولہ بازار مبارک پور میں سنگ بنیاد رکھا ۔ آپ نے کرنی سے نیو میں گارا بچھایا اور اینٹ چنی، اس کے بعد فرمایا”فقیر نے تو اپنی کرنی دکھا دی اب تم بھی اپنی کرنی دکھاؤ“۔ اس کے بعد مذکورہ بزرگوں ، حضور حافظِ ملت اور دیگر علما و مشایخ نے سنگ بنیاد میں حصہ لیا۔ حضورشیخ المشائخ کے اس اہم ارشاد نے فضا میں کرنٹ دوڑا دیا۔ یہ جملے فضا میں ابھرے تو اہلِ مبارک پور کے دل دار العلوم اشرفیہ کی نیو میں جھک گئے۔ مبارک پور کے غیور مردوں اور باوقار خواتین نے داد و دہش اور ایثار و قربانی کا حق ادا کردیا۔ خانۂ مصطفیٰ ﷺ کی تعمیر کے لیے مبارک پور کے غیور مسلمانوں کے دلوں میں جو حیرت انگیز جذبات تھے، ان کی اپنی ایک مثال ہے۔
دوسری خلافت و اجازت صدر الشریعہ، بدر الطریقہ حضرت علامہ شاہ مفتی محمد امجد علی اعظمی قدس سرہ نے عطا فرمائی، یہ سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کی تھی۔ اس سلسلہ عالیہ سے بھی آپ کو بھر پور فیض حاصل ہوا۔ حضور صدر الشریعہ آپ کے مخلص استاذ و مربی اور شیخ اجازت و خلافت تھے۔ حضور حافظِ ملت نے اپنے استاذ گرامی وقار سے صرف کتابیں ہی نہیں پڑھیں، بلکہ ان کی عملی زندگی کو بھی پڑھا ، سنتِ مصطفیٰﷺ کے مطابق ان کی زندگی کو آپ نے اپنی زندگی میں اتارنے کی بھر پور کوشش فرمائی۔ کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے اور رہنے سہنے کی ایک ایک ادا پر عمل کیا۔ حضور حافظِ ملت کی زندگی کے معمولات عام طور پر سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق ہوتے تھے، بلا شبہہ، آپ سچے نائب رسول ﷺ تھے۔ یہ ایک تاریخی سچائی ہے کہ پاس پورٹ کے لیے فوٹو سازی کا قانون بین الاقوامی طور پر لازم قرار دے دیا گیا، علماے کرام نے اس کے لیے حیلہ شرعی کیا اور شرعی ضرورت کے پیشِ نظر اس میں رخصت کا راستہ اختیار کیا۔ حضور حافظِ ملت اپنا فوٹو بنوانا حرام سمجھتے تھے، تقویٰ شعاری کے اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے آپ نے فوٹو کے بغیر حج و زیارت کی سعادت حاصل فرمائی، اگر چہ اس مقصد کے حصول کے لیے بڑی زحمتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
حضور حافظِ ملت کے ملک اور بیرون ملک کثیر مریدین اور تلامذہ ہیں۔ اب آپ کے جانشین صاحبِ سجادہ حضور عزیز ملت دامت برکاتہم العالیہ رشد و ہدایت کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ملک اور بیرون ملک آپ کے کثیر مریدین اور متوسلین ہیں۔ آپ کے خلافت یافتہ حضرات کی تعداد بھی کثیر ہے۔اللہ تعالیٰ صحت و سلامتی کے ساتھ آپ کا سایۂ کرم اہلِ سنت پر دراز فرمائے۔ آمین۔
چھالیسواں عرس حضور حافظِ ملت نور اللہ مرقدہ
جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی قدس سرہ العزیز اپنے عہد کی مقبول ترین شخصیت تھے۔ آپ ۱۹۳۴ء میں بحیثیت صدر المدرسین مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور تشریف لائے، اس کے بعد دار العلوم اشرفیہ اور جامعہ اشرفیہ تک کا طویل سفرطے فرمایا۔ اس وقت جامعہ اشرفیہ مبارک پور بر صغیر کا عظیم ادارہ ہے۔ حضور حافظِ ملت کے تلامذہ نے ملک اور بیرون ملک گراں قدر خدمات انجام دیں اور دے رہے ہیں ۔ قطب الارشاد حضور حافظِ ملت نور اللہ مرقدہ عارف باللہ تھے، آپ کے مریدین و متوسلین بھی بڑی تعداد میں ہیں۔ آپ کے جانشین آپ کے شہزادے عزیز ملت پیر طریقت حضرت علامہ شاہ عبد الحفیظ عزیزی سربراہِ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ مبارک پور ہیں۔
کووڈ-۱۹ کی مہاماری کے پیش نظر محدود پیمانے پر حضور حافظِ ملت قدس سرہ کا عرس منعقد ہوا۔ اس ایک روزہ عرس کا آغاز خانقاہ عزیزیہ مدرسہ اشرفیہ پرانی بستی مبارک پور سے ہوا۔ نمازِ فجر کے بعد قرآن خوانی ہوئی، تلاوت، نعت، منقبت اور خطاب کے بعد صاحبِ سجادہ حضور عزیز ملت دامت برکاتہم العالیہ نے شجرہ شریف پڑھا، حسبِ سابق مجمع کافی تھا۔ انجمن غوثیہ پرانی بستی فاتحہ کے لیے بڑی مقدار میں حلوہ تیار کرتی ہے۔ صاحبِ سجادہ نے رسولِ اعظم ﷺ، انبیاے کرام، صحابۂ عظام ،سرکار غوثِ اعظم اور سلطان الہند خواجہ غریب نواز وغیرہ کی بارگاہوں میں ایصالِ ثواب کیا اور خاص طور پر صاحبِ عرس جلالۃ العلم ابو الفیض حضور حافظِ ملت قدس سرہ کی بارگاہ میں ایصال ثواب کیا۔ سب کی جائز مرادوں کو پوری کرنے کے لیے حضور حافظِ ملت اور دیگر بزرگوں کے وسیلے سے دعا فرمائی۔ سیاسی، سماجی، مذہبی احوال کے لیے بھی گراں قدر دعا فرمائی۔ آخر میں حلوے کے پیکٹ تقسیم کیے گئے۔
اس بار باضابطہ چادر کا جلوس تو نہیں نکلا ، مگر خانقاہ پر دو تین انجمنوں نے چادریں پڑھیں اور بڑی تعداد میں افراد جمع ہوئے، حضور صاحبِ سجادہ وہاں سے بذریعہ گاڑی مزار شریف کی جانب تشریف لے گئے۔ عصر کی نماز کے بعد مزارِ اقدس پر چادریں پیش کی گئیں۔ فاتحہ شریف کے بعد حضور صاحبِ سجادہ نے شجرہ خوانی فرمائی اس کے بعد مریدین و متوسلین کے لیے دعائیں فرمائیں۔
سخت پابندیوں کے باوجود بیرونی روڈ پر دوکانیں لگیں، مجمع بھی کسی حد تک رہا، ہاں عرس کی انتظامیہ نے گراؤنڈ میں کوئی دوکان نہیں لگنے دی، جو بیرونی زائرین تشریف لائے تھے ان کے قیام و طعام کا معقول انتظام تھا۔
عشا کے بعد عزیز المساجد کے اندرونی حصے میں اجلاسِ عام کا اہتمام ہوا۔ جس میں قرآن عظیم کی تلاوت ، نعتوں اور منقبتوں کے نذرانے پیش کیے گئے۔ ایک خطاب ولی عہد خانقاہ عزیزیہ محب گرامی وقار حضرت مولانا محمد نعیم الدین عزیزی دام ظلہ العالی نے فرمایا۔ آپ نے خطبۂ مسنونہ کے بعد پہلے تمام زائرین کا شکریہ ادا کیا، نیز فرمایا : ہم عذر پیش کرتے ہیں کہ آپ حضرات کے شایانِ شان ہم اہتمام نہیں کر سکے، آپ حضرات جن مقاصد اور جن مرادوں کو لے کر آئے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کی حاضری قبول فرمائے، بزرگانِ دین اور حضور حافظِ ملت نور اللہ مرقدہ کے طفیل آپ کی تمام آرزوؤں کو پورا فرمائے ۔ آمین۔
آپ نے خاص طور پر نماز کی پابندی اور صدق مقال پر زور دیا، اسی ضمن میں آپ نے اپنے دادا جان حضور حافظِ ملت قدس سرہ کا ایک اہم واقعہ بیان فرمایا۔ حضور حافظِ ملت ایک بار اپنے وطن بھوج پور تشریف لے گئے۔ وہاں ایک بزرگ کا بڑا ذکر تھا، آپ نے اپنے برادرِ صغیر مولانا حکیم عبد الغفور سے فرمایا، چلیے ان سے ملاقات کر آتے ہیں، یہ دونوں بزرگ اس آبادی میں پہنچے تو عصر کی اذان ہو رہی تھی، مذکورہ فرد بھی نماز کے لیے نکلے ، یہ دونوں بزرگ کچھ دور تھے کہ موصوف مسجد میں داخل ہوئے، تو حضور حافظِ ملت نے دیکھا کہ انھوں نے اپنا بایاں پیر پہلے مسجد میں داخل کیا۔ حضور حافظِ ملت نے حکیم صاحب سے فرمایا ، چلیے واپس چلیے ہم نے دیکھ لیا ، یہ شخص جب سنت ادا نہ کر سکا تو باقی معاملات کیا ہوں گے۔ حضرت مولانا محمد نعیم الدین عزیزی نے فرمایا کہ اے زائرینِ عرس! حضور حافظِ ملت کے عرس مبارک سے کچھ لے جاؤ یا نہ لے جاؤ مگر یہ دو باتیں ضرور لے جاؤ کہ ہمیشہ سچ بولیں گے اور نماز کبھی نہیں چھوڑیں گے۔
چند کتابوں کا رسمِ اجرا ہوا، یہ اہم کام حضرت مولانا مسعود احمد برکاتی استاذ جامعہ اشرفیہ اور سراج الفقہا حضرت مفتی محمد نظام الدین رضوی صدر المدرسین نے انجام دیا۔ آخری خطاب خطیب الہند حضرت مولانا عبید اللہ خان اعظمی سابق ایم پی نے فرمایا۔
آپ کے خطاب کا موضوع تھا: ﴿وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّڪٰوۃَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ ۝۵۶﴾
ترجمہ:اور نماز برپا رکھو اور زکوٰۃ دو اور رسول کی فرمانبرداری کرو اس امید پر کہ تم پر رحم ہو۔
اس میں کوئی شبہہ نہیں آپ کو اللہ تعالیٰ نے خطابت اور سیاست کی بڑی خوبیاں عطا فرمائی ہیں، آپ بھی کرونا کی زد میں آگئے تھے، خیر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا اور آپ صحت مند ہو گئے، آپ نے فرمایا: ڈاکٹروں کی دوا عارضی مقام رکھتی ہے اور حضور حافظِ ملت کی دعا دائمی مقام رکھتی ہے۔ اس وبا سے بے شمار لوگ متاثر ہوئے، لاکھوں لوگ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ کتنے اس وقت بھی متاثر ہیں، اربابِ فکر و نظر کے پاس کچھ کہنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے نماز قائم کرو، زکات ادا کرو اور رسول اللہ کی اطاعت کرو، مگر نماز کا قیام کیسے ہوگا، زکاۃ کی ادائیگی کیسے ہوگی اور اطاعتِ رسول کا انداز کیا ہوگا؟ انہیں ساری چیزوں کو سمجھنے اور سمجھانے کا کام مدارس میں ہوتا ہے ۔ حضور حافظِ ملت کے منصوبے میں جامعہ اشرفیہ بھی تھا اور ایک عظیم الشان مسجد بھی تھی۔ آپ ذرا غور کریں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے علم حاصل کرنے کا درس دیا، علم ہوگا تو انسان عمل کرے گا، اچھے برے کاموں کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے علم ضروری ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہوا: ﴿ اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ۝۱ ﴾ ترجمہ:”پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا“۔باقی تمام احکام اللہ تعالیٰ نے بعد میں نافذ فرمائے ہیں۔
ہمارے جن احباب نے حضور حافظِ ملت کی زیارت کی ہے وہ جانتے ہیں کہ حضور حافظِ ملت شریعت کی عملی تصویر تھے۔ ان کا سونا جاگنا، چلنا پھرنا، اٹھنا بیٹھنا اور پڑھنا پڑھانا سب کچھ شریعت کے مطابق تھا۔ ان کی عبادت اور معمولات دیکھ کر لوگ سمجھ لیتے تھے کہ شرعی مسئلہ یہی ہے۔
حضرت نے مزید فرمایا: برائی اور بے حیائی ہر جگہ یہاں تک کہ مسجدوں اور مدرسوں میں بھی ہے۔ دنیا کی حکومتیں اربوں کھربوں روپے اس کی اصلاح کے لیے خرچ کرتی ہیں، یہ تھانے، یہ کچہریاں، یہ ہائی کورٹ، یہ سپریم کورٹ ، یہ لوک سبھا، یہ پارلیمنٹ، مگر برائی اور بے حیائی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِؕ وَلَذِکْرُ اللہِ اَکْبَرُؕ وَاللہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوۡنَ۝۴۵﴾ (العنکبوت:۴۵)
ترجمہ: اور نماز قائم فرماؤ بیشک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بُری بات سے اور بیشک اللّٰہ کا ذکر سب سے بڑا اور اللّٰہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔
یہ چند بنیادی باتیں ہم نے ذکر کی ہیں ورنہ آپ کی خطابت فکر و فن سے لبریز ہوتی، تاثیر ایسی کہ خطابت کے دوران سامعین سراپا سماعت بن جاتے۔
گیارہ بج کر پچپن منٹ پر قل شریف کا اہتمام ہوا، چند قراے کرام نے قرآن عظیم کی تلاوت کرنا شروع فرمائی، پوری فضا کلامِ الٰہی کے روحانی خمار میں ڈوب گئی، ہر طرف خاموشی چھا گئی، صاحبِ سجادہ حضور عزیز ملت دامت برکاتہم العالیہ نے شجرہ خوانی فرمائی۔صلاۃ و سلام اور دعا کے بعد اجلاس اپنے اختتام کو پہنچا اورحضور صاحبِ سجادہ نے عرس حافظِ ملت نور اللہ مرقدہ کے عرس کے اختتام کا اعلان فرمایا۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

منقبت: خدا کے دین کے اک پاسباں ہیں حافظِ ملت

نتیجۂ فکر: شمس الحق علیمی، مہراج گنج خدا کے دین کے اک پاسباں ہیں حافظِ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے