ولی کسے کہتے ہیں

از قلم: عطاءالرحمن قادری فیضی

علامہ سعدالدین تفتازانی رحمتہ علیہ نے ولی اللہ کی تعریف ان لفظوں میں فرمائ الولی ھوالعارف باللہ وصفاتہ حسب ما یمکن المواظب علی الطلاعات المجتنب عن المعاصی المعرض عن الانھماک فی اللذات و الشھوات
(شرح العقائد ص۱۰۱)اللہ تعلی کے ولی ودوست وہ مسلمان مخصوص بندے ہوتے ہیں جو بقدر طاقت بشری خدائے تعلی کی ذات وصفات کے عارف ہوتے ہیں احکام شرع کے پابند ہوتے ہیں لذت وشھوات میں منہمک ومشغول ہونے سے دور رہتے ہیں ۔خیال رہے کہ اولیاء اللہ کے مختلف درجے ہیں مگر سب اللہ تعلی کے محبوب ہیں ۔علامہ موصوف علیہ الرحمہ کی ذکر کردہ تعریف جو انھوں نے قرآن وحدیث میں عرق ریزی کے بعد نہایت ہی سلیس لفظوں میں کی ہے ۔عوام وخواص کے سارے افراد پر اولیاء اللہ کی حقیقتین منکشف ہو جاتی ہیں کی اولیاء اللہ کسی بھی حالت میں اللہ ورسولﷺک احکام وفرامین کی خلاف ورزی نہیں کرتے ۔تاحین حیات اللہ ورسول ﷺ کے ارشاد توفمودات پر خلوص و للہیت سے عمل پیرا ہوتے ہیں ۔وہ حضرات اپنی زندگی کی حقیقت سے واقف ہوتے ہیں کہ وہ فانی ہے ۔جسکی بناء پر وہ اپنی چند روزہ زندگی میں مناہی ومعاصی فواحش ومنکرات لہو ولعب اودیگر مضر افعال سے وخصال کے اپنانے سے دور رہتے ہیں ۔انکے سارے کام خواہ وہ عبادت سے تعلق رکھتے ہوں یا معاملات سے؛کتاب وسنت کی روشنی میں ہی انجام پاتے ہیں ۔وہ کتاب وسنت کے اصول وضوابط کو اپنی مستعار زندگی کا لازم وضروری جز سمجھتے ہیں۔کامل طورپر وہ فنافی اللہ اور بقاباللہ کے حقیقی درجات پر فائز ہوتے ہیں ۔جسکی بناء پر انکا چلنا پھرنا کھانا پینا سونا جاگنا اٹھنا بیٹھنا غرضیکہ انکی ساری زندگی کے سارے معمولات شریعت مصطفویہ ﷺمیں ڈھلےہوئے ہوتے ہیں ۔وہ دنیاوی لذات وشھوات سے دور رہتے ہیں انھیں ہمہ وقت یہ فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ ہمیں منتقم حقیقی جل شانہ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اپنے سارے افعال وخصال،گفتار وکردار اورسارے خلوت وجلوت کے عادات واطوار کے بارے میں جواب دہ ہونا ہے ۔خلاصہ یہ کہ اولیاء اللہ امتثال اوامر اور اجتناب نواہی کو اپنا نصب العین اور شیوۂ بندگی سمجھتے ہیں ۔ایسی ہی نفوس قدسیہ کے لئے رب تعلی کا فرمان علیشان ہے؛وامامن خاف مقام ربہ ونھی النفس عن الھوی فان الجنتہ ھی الماوی ﴿اور جو اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرا اور نفس کے خواہشات سے روکا تو بیشک جنت ہی ٹھکاناہے﴾بشارت عظمی و مژدۂ جانفزاہے۔۔۔۔۔
اور یہیں سے یعنی ولی کی ذکر کردہ تعریف سے ان نام نہاد صاحبان ولایت اہل اللہ پیروں اور مکار و فریبی باباؤں وفقیر وں کی قلعی کھل جاتی ہے جو اپنی ولایت وقرب خداوندی کے بے جا چرچا وڈھڈھورا کرتے ہیں کہ ہم طریقت والے ہیں اللہ تعلی کے قرب ونزدیکی سے ہم مستفیض ہو چکے ہیں۔ ہمیں شریعت سے کچھ مطلب و غرض نہیں ہے۔کیونکہ شریعت اسکے لئے ہے جو رب تعلی تک نہ پہونچا ہو اور ہم تو پہونچ چکے ہیں پھر ہم کو اس سے کیا مطلب؟
معاذ اللہ
اس طرح بکواس کرکے اپنی بےحیائ و بے شرمی اور بے غیرتی کا زبردست مظاہرہ کر رہے ہیں ۔مختلف الالوان ورنگ برنگی کپڑوں میں ملبوس لمبی لمبی لٹیں رکھ کر نیلے شاہ پیلے شاہ اور رنگیلے والبیلے وشرمیلے شاہ کے نام سے موسوم ہوکر یہ ضلالت وگمرہی کے پتلے و مجسمے جگہ جگہ اپنے خیمے وکٹی بناکر اپنی ولایت وبزرگی کا چرچا کرکے عوام اہلسنت کو دام فریب میں لینے کے لئے انتہائ جد جہد کر کہے ہیں ۔نہ انھیں نماز سے مطلب ہے نہ روزے سے نہ اور کسی احکام شرع سے ۔نہایت ہی بے لگام ہوکر شریعت مطہرہ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ۔چرس اور بھنگ کی لمبی لمبی کشیں لے کر بخارات خبیثہ کو فضا میں تحلیل کر رہے ہیں متعدد انگوٹھیوں کو ہاتھ کی زینت بنا کر شریعت کا مذاق اڑارہے ہیں ۔عرس کے نام پر حقیقی یا مصنوی قبروں پر بھیڑ جمع کرکے قوالی کی مجلسیں گرم کر رہے ہیں،جو ڈھول وسارنگی ہار مونیم ودیگر مزامیر کے ساتھ ہوتی ہیں۔
جسے شریعت مطہرہ نے حرام کہا ہے انھیں حرام کاموں پر مجلسوں میں ناچتے گاتے وتھرکتے ہیں اور اسی فعل حرام کو وجد وبیخودی سے تعبیر کرکے اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کرتےہیں ۔ اور ڈائلاگ کے طور پر یہ شعر پڑھ کر اپنی ہٹ دھرمی اور کٹ حجتی پیش کر رہے ہیں
تم نے پی کتابوں سے ہم نے پی نگاہوں سے
فرق بہت ہے واعظ تیرے میرے پینے میں
مگر ہماری قوم کا عجب حال ہے کہ لاکھ سمجھانے بتانے کے باوجود اپنی آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں اور اپنی عاقبت برباد کررہی ہے اس نادان قوم کو یہ نہیں پتا کہ ایسے لوگ جنھیں شریعت مطہرہ سے کوئ مطلب نہ ہو چہ جائیکہ انکے پیچھے چلنا اپنی عاقبت برباد کر نا ہےحدیث رسولﷺمن طار فی الھواءاو سبح فی الماء وترک سنتہ من سنتی فاضربہ بالنعلین
یعنی کوئ اپنے آپکو ولی کہلانے والا بغیر کسی چیز کے سہارے ہوا میں اڑے یا بغیر کسی چیز کے سہارے پانی پر چلے اور ان ظاہری کمالات کے ساتھ ساتھ اسکا یہ حال ہو کہ میری سنتون میں سے کسی بھی ایک سنت و طریقے کو چھوڑ رکھا ہوتو اے میرے کلمہ پڑھنے والوں تم اسکے ظاہری کمال و خوبی کو دیکھ کر دھوکے میں اللہ کا ولی نہ سمجھ لینا۔پتہ چلا کہ اگر کوئ شخص بھت ساری ظاہری کمالات خوبیوں کا حامل ہے عجب عجب کارنامے دکھارہاہے فضا میں اڑ رہا ہے اگ پر چل رہاہے ۔۔۔۔۔۔لیکن وہ شریعت کا پابند نہیں ہے نماز نہیں ادا کررہا ہے بغیر عزر شرعی روزے نہیں رکھتا زکوۃ کے فرض ہونے پر ادائیگی نہیں کرتا
المختصر۔۔۔شریعت کی کسوٹی پر کھرا نہیں اترتا تو لائق تعریف و توصیف نہیں بلکہ لائق جزروتوبیخ اور کلمہ لاحول کا مستحق ہے کیونکہ وہ شیطان کا مسخرہ اور اسکا محب صادق ہے۔۔یاد رہے اللہ کا دوست و محبوب ہونے کے لئے شریعت کی پابندی لازم وضروری ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے