غریب بچیوں کا درد بھرا پیغام جہیز مانگنے والے بھکاریوں کے نام

تحریر: ظفرالدین رضوی، ممبئی 9821439971

مکرمی!
حالیہ دنوں ایک مسیج بشکل آڈیو وڈیوعائشہ نامی لڑکی کاجہیز کے تعلق سے بڑی تیزی سے سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنے آپ میں سرخی بٹورے ہوئے ہے جس کو لوگ اپنا فرض منصبی سمجھ کرخوب وائرل بھی کررہے ہیں اس پر مجھے کوئی اعتراض بھی نہیں ہے انہیں یہ کام کرنا بھی چائیے یہ کام کرنے سے ایک دوسرے تک بات بآسانی پہنچ بھی جاتی ہےاور لوگ اس سے نصیحت بھی حاصل کرتے ہیں مگرکچھ باتیں دل ہی دل میں اس بات کو سوچنے پر آمادہ کررہی ہیں کہ آخرعائشہ نے خودکشی کیوں کی اس کے پیچھے کیا اسباب ووجوہات تھیں حالانکہ عائشہ اور عائشہ کے والدین کی گفتگو سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کہیں نہ کہیں دونوں طرف سے غلط فہمی ضرور تھی عائشہ یا اس کے والدین مسئلے کو نہیں سمجھ پا رہے تھے یا سمجھ کر بھی مسئلہ نہیں سلجھا پارہے تھے خیر معاملہ عائشہ اور اس کے والدین اور اس کی سسرال والوں کیطرف سے بڑا پیچیدہ معلوم ہورہا ہےجس کی وجہ سے معاملہ خودکشی تک پہنچ گیا بقول عائشہ یہی بات سامنے آتی ہے کہ اس کی سسرال کیطرف سے جہیز کا مطالبہ کیاجارہاتھااس گتھی کو سلجھاتے سلجھاتے وقت بیت جائے گا اور مسئلہ جوں کاتوں رہ جائے گا اور لوگ گزرے ہوئےدنوں کیطرح اسے بھی بھول جائیں گے لیکن ہم عائشہ اورمظلوم بچیوں کے والدین کیطرف سےقوم مسلم اور خاص کر جہیز کا مطالبہ کرنے والوں کو یہی پیغام دینا چاہیں گے کہ ابھی بھی وقت ہےسماج میں تبدیلی لاؤ ورنہ قیامت سے پہلے ہی مظلوم بچیوں پر ہرروز قیامت کے پہاڑ توڑے جاتے رہیں گے اور انہیں ایسے ہی مارا جاتارہےگاضرورت اس بات کی ہے کہ شریعت مطہرہ کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کریں اورجہیز جیسے زہر ہلاہل سے اپنے معاشرے کو پاک و صاف رکھنے کی فکر شروع کردیں نہیں تو آج ایک عائشہ جہیز کی بھینٹ چڑھا دی گئی ہے کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ تمہاری ان گھناؤنی حرکتوں سے تمہاری اپنی بیٹی عائشہ بھی خودکشی کرنے پر مجبورہوجائے
قارئین کرام اس دل دہلا دینے والے آڈیو وڈیو میں بےشمار راز پوشیدہ ہیں یہ وائرل میسیج جب ہماری نگاہوں کے سامنے سےگزرا تو اسے دیکھ کراور پڑھ کر بڑی تکلیف ہوئی کہ جہیز کے پوجاری اتنابڑا گٹھیا کام بھی کرسکتےہیں جس کی وجہ سے کسی غریب مظلوم کی بیٹی اپنی جان بھی گنواں سکتی ہےاور ان کے مطالبات کے سامنے خودکشی کرنے پر مجبوربھی ہوسکتی ہے یہ صورت حال اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب معاشرے میں فتنہ و فساد،بری عادتیں اورلعنتیں پروان چڑھنے لگ جاتی ہیں تواس کا نتیجہ یہی ہوتا ہے جو آج ہمارے سامنے ہےاکثر اس طرح کے جرائم غریبوں کیساتھ ناانصافی کرنے سے بڑھتے ہیں جب دولت کے پوجاری غریبوں کو جہیز کے نام پہ ستانے میں فخر محسوس کرتے ہیں اورچند ٹکے کیلئے اپنی غیرت وحمیت کا سودا بھی کرلیتے ہیں تو ایسی باتیں سماج میں پنپنے لگتی ہیں ان جہیز کے بھیکاریوں اور نالائقوں کا ضمیر مردہ ہوچکا ہےاگر ان کا ضمیر مرانہیں ہوتا تو ایسے مطالبات ہرگز نہیں کرتے ان کے دلوں سے اللہ ورسول کا خوف نکل چکا ہے یہ انسان کی شکل میں درندے ہیں یہ اپنے رب سے مانگنے کے بجائے غریب یا مال دار بچیوں کے والدین سے جہیز کے نام پر ان کا خون چوستے ہیں ہماری نظر میں ان کا یہ طریقہ دجالی اور شیطانی ہےان ظالموں سے اتنا ہی کہنا ہے کہ اس رب سے مانگو جو دیتا ہے تو بے حساب دیتا ہے دوستو جس معاشرے میں جہیز کا مطالبہ عام ہوجائے تو وہ معاشرہ تباہ و برباد ہوجاتا ہےاور وہاں زندگی کی ساری نیرنگیاں بےرنگیوں میں بدل جایا کرتی ہیں غورکیجئےاس سماج کوجہاں جہیز کو نعمت سمجھاجاتاہےاسے زندگی کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور جہیز مانگنے والےاسکو اپنا حق سمجھتے ہیں پھر وہ معاشرہ معاشرہ نہیں بلکہ تباہ کاریوں کی آماجگاہ بن جاتاہے یہ بھی بہت بڑا المیہ ہے جو دوچار بیٹوں کا باپ ہے تو وہ بغیر جہیز کے اپنے بیٹوں کی شادی کرنے پرآمادہ بھی نہیں ہوتا ایسے میں غریب بچیوں کے والدین کی زندگی دوبھر بن جاتی ہے ظاہر سی بات ہے کہ جب لوگوں میں خود غرضی لالچ پسندی مفادپرستی عام ہوجائے تو وہ اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کا ایسا شکار ہوتے ہیں کہ انکی نظر میں صرف اور صرف دولت ہی سب کچھ ہوتی ہے پھرانہیں نہ تو کسی کی عزت اور نہ ہی اس کی غربت کی پرواہ ہوتی ہے آج تو حالات اس قدر پراگندہ ہوگئے ہیں کہ سیٹھیا تو سیٹھیا وہ لوگ بھی ان کے نقش قدم پر چلنے لگے ہیں جن کے پاس دوچار بیگھئے زمین بھی نہیں ہوتی وہ بھی اسی گھناؤنی حرکتوں میں ملوث نظر آتے ہیں جس خون میں دولت کے پوجاریوں کا ہاتھ رنگا ہوا ہے مال ناحق کا خمار انہیں انجام سے غافل کردیتا ہے اور یہ اپنے جہیزی مطالبات کو اپنے لئے آہنی دیوار کا حصار سمجھنے لگتے ہیں لیکن انہیں معلوم نہیں کہ اللہ کی بے آواز لاٹھی کی مار جب ان پر پڑتی ہے تو انہیں کوئی بچا نہیں سکتاتاریخ شاہد ہے کہ اسلامی معاشرہ اور اس کےاصول و ضوابط اور اس کی پاکیزگی کی غیرمسلم دھائی دیتے نہیں تھکتے تھے آج اسی مہذب معاشرے کو بدنام کرنے کی ناپاک کوششیں ہم خود ہی کررہےہیں اس کے اسباب و علل پہ ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے ہمارا مقصد اسلام اور پیغمبر اسلام اور صحابہ وازوج مطہرات واسلاف واکابرین کے فرمودات پرعمل کرنا تھامگر ہم اس کے بجائے غیروں کا طورطریقہ اپنانے کی حماقت کرنے میں جٹے ہوئے ہیں جبکہ اسلام نے سماج میں انسان کو جینے کا صحیح ڈھنگ عطاء کیا ہےآج اسی سماج میں رہنے والے کچھ دنیاداراناپرست جاہل ونادان مغرور وگھمنڈی دولت کے نشے میں دھت دولت و شہرت کے پجاری غریب بچیوں کی عصمت وعفت سے کھلواڑ کرنے والے ظالم وناہنجار بےجا نام ونمود کے رسیا چوری چماری اور دوسروں کا حق مارنے والے جب سیٹھ بن جاتے ہیں تو وہ پھر کسی غریب کو اپنے بغل میں بٹھانے سے کترانے لگتے ہیں ان کو غریب اک نظر نہیں بھاتا ہے وہ غریب بچیوں کو اپنے درکا غلام اور نوکرانی سے کم درجہ نہیں دیتے ہیں ان کے یہاں غریب گھرانوں کا رشتہ کسی آفت سے کم بھی نہیں ہوتا ہے وہ غریب اور غریب بچیوں کو تیکھی نظروں سے دیکھنا شروع کردیتے ہیں انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ دولت چند روزہ ہے کب چھین لی جائے کوئی بھروسہ بھی نہیں کب روڈ پہ آجائیں یہ بھی کوئی بھروسہ نہیں کب بھیکمنگے بن جائیں یہ بھی کوئی بھروسہ نہیں کب دولت کا خمار اتر جائے یہ بھی کوئی بھروسہ نہیں پھر بھی اپنی ہی اکڑفوں میں رہتے ہیں مجھے ان سے کچھ باتیں کرنی ہیں او دولت کے پجاریو ہوش میں آجاؤ اوراس بری لعنت سے اپنے آپ کو بچالو جس کی وجہ سے غریب بچیوں کے والدین کے ارمانوں کا تم جنازہ نکال رہے ہو انکی عزت سے تم جو کھیل کھیل رہے ہو یہ بہت ہی گٹھیا بات ہے وہ غریب بھی اللہ کے بندے اورانسان ہیں اور رسول محترم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہوئے لوگ ہیں وہ تم سے زیادہ بہتر وبرترہیں انکی عزتوں سے مت کھلواڑ کرو ابھی بھی وقت ہے سدھر جاؤ ورنہ اس دنیا میں ذلیل ہونگے اور آخرت میں رسوا۔تمہیں معلوم نہیں بڑے بڑے طاقت ور اورمال دار زمین بوس ہوگئے اورانہیں دولت مند لوگوں کا نام باقی رہا جنھوں نے اپنی دولت کا بےجا استعمال نہیں کیا اپنی دولت کو غریبوں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہے تاریخ اٹھا کے دیکھو کتنے مال دار گھروں میں کتنی غریب بچیوں کےارمانوں کا محل تعمیر ہواہے اللہ کا خوف رکھنے والےمال دار ہر دور میں رہے ہیں انھوں نے کبھی کسی غریب یا غریب کی بچی کو تیکھی نظروں سے نہیں دیکھا غریب بچیوں کو اپنی سگی بچیوں سے زیادہ عہدہ و مرتبہ دیا ہے غریب بچیوں کو اپنی بہو نہیں بلکہ اپنی بیٹی کا درجہ دیا ہے غریب بچیوں کی سسکیاں تمہیں آواز دے رہی ہیں کہ آؤ ہمارے سروں پر اپنی شفقت و محبت کا ہاتھ رکھ دوہمارے بھی کچھ ارمان ہیں انہیں مچلنے کا موقع فراہم کرو تم کو اللہ ورسول اپنی بارگاہ سے مالامال کردیں گے جس نبی کا کلمہ پڑھتے ہوانہیں کی باتوں پر عمل پیرا ہوجاؤ تمہاری دنیاوآخرت دونوں سنورجائے گی تمہارے چہروں پہ نور آجائے گا تم دنیا میں خوش حال ہوجاؤ گے ہماری عزت و عصمت سے کھلواڑ مت کرو دیکھو تمہاری ان غلط حرکتوں سے بےشمار ہماری بہنوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے اور نہ جانے کتنی جہیز کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں ان کے ماں باپ بھائی بہن اس صدمے سے ٹوٹ چکے ہیں آج دیکھو تمہاری وجہ سے شادیوں میں کتنی فضول خرچی ہورہی ہے فضول خرچ اپنے شباب پر ہے اور یہ کام صرف اور صرف تم اپنے نام ونمود اور بےجا شان و شوکت کیلئے ہی کررہے ہو دیکھو لڑکی والوں سے جہیز کا مطالبہ کرنا یہ بھکاریوں کا طریقہ ہے جہیز کے پجاریوں سے عائشہ کی روح کہ رہی ہےکہ اے دنیاداروں تم اللہ کا خوف کرو اگرلڑکی والوں سے جہیز کا مطالبہ ہی کرنا ہے تو تم کاسۂ گدائی لیکر بھیک مانگنا شروع کردو تم سے بڑا بھیکاری در در بھیک مانگنے والا بھی نہیں ہے اسے اپنی غیرت کا پتہ ہے لیکن تمہیں اپنی غیرت کی ذرہ برابر بھی فکر نہیں ہے تمہارا ضمیر مردہ ہوچکا ہے تمہارا دل سیاہ ہوچکا ہے تم بھیک منگے بن گئے ہو حقیقت میں تمہاری غیرت مر چکی ہے تمہیں تو اپنے دوست و احباب میں اپنی مونچھ پرتاؤ کی پڑی ہوئی ہے ارے او حرام خورو کب تک تم غریب بچیوں کے والدین اوران بچیوں پر جہیز کےنام پر ظلم و ستم کرتے رہو گے کب تک تم اپنی جھوٹی شان و شوکت پر اتراتےرہوگے کب تک تم جہیز کا مطالبہ کرتے رہوگے کب تک لڑکی والوں کے دئے ہوئے جہیز پر پلتے رہوگے ارے نادانوں تمہیں جہیز مانگتے شرم بھی نہیں آتی اور یہ بھی کہتے ہوئے نظر آتے ہو کہ فلاں جگہ کے لوگ آئے تھے اور یہ یہ سامان دےرہے تھے یعنی یہ تم نے نیا راستہ اپنا لیا ہے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے کوڑھیو بدلو اپنے مزاج کو بدلو اپنے آپ کو نہیں زمانہ قیامت کی چال چل جائے گا اور تمہارا بھی نام ظالموں میں ہونے لگے گا ارے دل کے مردارو تمہیں یہ بھی ڈر نہیں کہ قیامت کے دن اپنے رب کو کیا منہ دیکھاؤگے اگر رب نے روز محشر تم سے یہ سوال کیا کہ تمہارے درمیان غریب بھی اور انکی غریب بچیاں بھی تھیں تم نے انہیں اپنے گلے کیوں نہیں لگایا گلے لگانا تو دور انکی بچیوں کو جہیز کے نام پر خودکشی کرنے پہ مجبور کیا تو اس وقت کیا جواب دو گے تب تمہاری ہیکڑی نکل جائے گی
آؤایک بار پھر تمہیں آگاہ کردیں کہ جن سے تم جہیز کا مطالبہ کرتے ہو کیا وہ تمہارے مطالبات پورا بھی کر پائیں گے سوچو تمہاری مانگوں کو پورا کرنے کیلئے غریب بچیوں کے والدین کو کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں تمہاری مانگیں پورا کرنے کیلئے اگر ان کے پاس سامان نہیں ہیں تو انہیں اپنی عزت بھی داؤ پہ لگانی پڑتی ہے ارے جہیزیو تم مسلمان تو ہو لیکن تم اپنے قول و فعل کے سچے نہیں تمہیں اسلام اور بانئی اسلام نے جو پیغام دیاتھا اسکا تمہیں پاس ولحاظ نہ رہااسے چھوڑکر سماج کو کھوکھلا کرنے پہ تلے ہوئے ہو۔ارے او جہیزیو تمہاری اس دولت میں کیڑے پڑ جائیں گے جسکو تم غریب کا خون چوس کرلیتے ہواللہ تمہیں عقل سلیم عطاء فرمائے یاد رکھو اگر تم نے عقل سلیم سے کام نہیں لیا تو تمہارے منہ میں ضرور کیڑے پڑیں گے تمہاری زبان غریب کی آہ سے کالی پڑجائے گی غریب بچیوں کی بددعاؤں سے تم تباہ و برباد ہوجاؤ گے دنیاوآخرت میں تم ذلیل و خوار ہوجاؤگے وہ گھر کبھی خوشحال نہیں ہوسکتا جس گھر میں غریب بچیوں کی آہیں شامل ہوں یاد کرو اس رسول محترم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس نے اپنی مقدس شہزادی کا نکاح جب حضرت علی کرم اللہ تعالی وجھہ الکریم سے فرمایا تو جہیز میں جو سامان عطاء کیا تو مولائے کائنات نے اسے تبرک سمجھ کر محفوظ کرلیا تھاتم واقعی نبی کا کلمہ پڑھنے والے ہو تو ان کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل پیرا ہوجاؤاور عہد کرلو کہ آج سے کبھی کسی مسلمان سے جہیز کا مطالبہ ہرگز نہیں کریں گے غریب بچیوں کو جنتی حوریں سمجھ کر اپنے آنگن کی زینت بنائیں گے ان کو وہی پیار دیں گے جتنا پیار اپنی اولاد کو دیتے ہیں یہ کام اسی وقت ہوگا جب تم شریعت مطہرہ پر مکمل طریقے سے عمل پیرا ہوجاؤ گے آؤ ملکر ایک اچھے معاشرے کی تشکیل دیں اوراپنے معاشرے کو جہیز کی لعنت سے پاک و صاف کریں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ ضروری نہیں ہے

ساجد محمود شیخ، میرا روڈ مکرمی!مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک بار پھر سخت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے