غزل: گیت غزلیں یونہی لکھائے جا

نتیجۂ فکر: ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادت گنج بارہ بنکی، یوپی۔بھارت

گیت غزلیں یونہی لکھائے جا
میری فکروں پہ یار چھائے جا

غیر کو دے کے قربتیں اپنی
مجھ کو بس دور سے لبھائے جا

بھول جاؤں میں یار دنیا کو
مجھ کو تو اتنا یاد آئے جا

وقتِ رخصت ہے پھر ملیں نہ ملیں
اب تو ہمدم گلے لگائے جا

دل سی دولت نواز دی لیکن
وصل کی ساعتیں چرائے جا

آسماں ہوگا مٹھی میں اکدن
حوصلے اپنے آزمائے جا

تیرا ہو جائے میرا دل شاید
اس کو ہر لمحہ ورغلائے جا

ہے دعا میری عمر بھر یونہی
اے مرے یار مسکرائے جا

اوروں سے پیار کرکے میرے لئے
جھوٹی قسمیں فقط اٹھائے جا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل: بحث کا کچھ نہیں جس کو سلیقہ

بحث کاجو بھی ہے بہتر طریقہنہیں بحاث کواس کا سلیقہ بحث میں صغریٰ کبریٰ حداوسطنہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے