ہفتہ وار اجتماع کی اہمیت

ازقلم: ابو المتبسِّم ایاز احمد عطاری

علم اللہ کی عطا کردہ ایک لازوال نعمت ہے۔ اور اگر ایک انسان کے پاس علم نہ ہو تو اس کی زندگی ایک جانور کے جیسی ہے۔ علم ایک انسان کو مہذَّب بناتا ہے۔ صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی تمیز سکھاتا ہے۔

علم کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص علم دین حاصل کرنے کیلئے سفر کرتا ہے۔ سمندر کی مچھلیاں اس کیلئے استغفار کرتی ہیں۔

میرے بھائیو! غور کیجئے کہ کیوں سمندر کی مچھلیاں ایک طالب علم کے لئے استغفار کی دعا کرتی ہیں۔ اس لئے کیونکہ ایک عالم قوم کا رہبر ہے۔ وہی صحیح اور غلط کا فرق کرنا سیکھاتا ہے وہی حلام و حرام میں فرق کرکے ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سمندر کی مچھلیاں ایک عالم کے لیئے دعائیں استغفار کرتی ہیں۔ اور فرشتے اپنے پروں کو بچھا دیتے ہیں۔

ایک اور حدیث پاک میں آتا ہے کہ مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَلْتَمِسُ فِیْهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللهُ لَهُ بِهٖ طَرِیْقًا اِلَی الْجَنَّةِ” جو ایسے راستے پر چلے جس میں علم کو تلاش کرے، اس کے سبب اللہ عَزَّ وَجَل اس کیلئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔
( مسلم ، کتاب الذکر و الدعاء، باب فضل الاجتماع ،ص ۱۴۴٨، حدیث: ۲۶۹۹ )

اسی طرح علم دین کی فضیلت پہ متعدد احادیث کریمہ موجود ہیں۔

علم دین حاصل کرنے کے مختلف ذرایع ہیں۔ ان ذرائع میں سے ایک ذریعہ دعوت اسلامی کا ہفتہ وار اجتماع بھی ہے۔ اس اجتماع کی کیا ہی بات ہے۔ کیونکہ یہ اجتماع شروع ہوتا ہے قرآن پاک کی تلاوت سے۔ اور تلاوتِ قرآن پاک کی کیا ہی بات ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے: کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: کہ قرآن والے سے کہا جائے گا پڑھ اور چڑھ کر اور یوں آہستگی سے تلاوت کرے جیسے دنیا میں کرتا تھا، آج تیرا ٹھکانہ وہ مقام ہے جہاں تو آخری آیت پڑھے۔
( المراة المناجیح باب قرآن کے فضائل)

پھر اس کے بعد نعت شریف پڑھی جاتی ہے۔ اور علم دین پر مشتمل ایک مختصر بیان کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اجتماعی دعا کی جاتی ہے۔

دعا کے فضائل:

1۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی چیز دُعا سے بزرگ تَر نہیں۔ (ترمذی،ج5،ص243، حدیث:3381)

2۔ دُعا مصیبت و بلا کو اُترنے نہیں دیتی۔
(مستدرک، ج2، ص162، حدیث:1856)

3۔ دُعا مسلمانوں کا ہتھیار، دین کا ستون اور آسمان و زمین کا نور ہے۔ (مستدرک، ج2، ص162، حدیث:1855)

4۔ دعا کرنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔
(ترمذی، ج5، ص318، حدیث 3551)

5۔ دعا عبادت کا مغز ہے۔
(ترمذی، ج 5، ص243، حدیث:3382)

6۔ اللہ تعالیٰ دعا کرنے والے کے ساتھ ہوتا ہے۔
(مسلم، ص:1442، حدیث: 2675)

7۔ جو بلا اتر چکی اور جو نہیں اتری، دعا ان سے نفع دیتی ہے۔ (ترمذی،ج 5، ص322، حدیث:3559)

8۔دعا رحمت کی چابی ہے۔(الفردوس، ج 2، ص224، حدیث:3086)

9۔ دعا قضا کو ٹال دیتی ہے۔(مستدرک، ج3، ص548، حدیث:6038)

10۔ دعا بلا کو ٹال دیتی ہے۔
(کنزالعمال، ج 2، ص63،حدیث:3121)

اور آخر میں صلوة و سلام پڑھا جاتا ہے۔ اور درود پاک پڑھنے کے بے شمار فضائل ہیں۔

صلوٰۃ کا معنی:
صلوٰۃ کا لغوی معنی دعا ہے، جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس سے مراد رحمت فرمانا ہے اور جب اس کی نسبت فرشتوں کی طرف کی جائے تو اس سے مراد اِستغفار کرنا ہے اور جب اس کی نسبت عام مومنین کی طرف کی جائے تو اس سے مراد دعا کرنا ہے۔
(تفسیرات احمدیہ، الاحزاب، تحت الآیۃ:۵۶، ص ۶۳۴ )

علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: (یہاں آیت میں ) اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے سے مراد ایسی رحمت فرمانا ہے جو تعظیم کے ساتھ ملی ہوئی ہو اور فرشتوں کے درود بھیجنے سے مراد ان کا ایسی دعا کرنا ہے جو رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان کے لائق ہو۔
(صاوی، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۵۶ ، ۵/ ۱۶۵۴)

لہذا! اے میرے پیارے بھائیو! ہفتہ وار اجتماع میں اولا تا آخر شرکت کرنی کی درخواست ہے۔ ان شاء اللہ عزوجل آپ کو بہت بڑا فائدہ ملے گا۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے