غزل: نیند بھی ہو گئی خفا اب تو

نتیجۂ فکر: ظفر پرواز گڑھواوی جھارکھنڈ

اس کی یادو میں اسط رح کھویا
نیند بھی ہو گئی۔۔ خفا اب تو

میری ماں کی دعا کا ہے صدقہ
ٹل گئی میری۔۔۔۔۔۔ ہر بلا اب تو

کب تلک راز تم۔۔۔۔ ۔۔چھپاءوگے
ہو گیا دیکھیے۔۔۔۔ عیاں اب تو

وہ گیا ہے تو آءےگا۔۔۔ ہی نہیں
ہاتھ سے تیرے وہ گیا ۔۔۔۔اب تو

کتنے بکواس کر رہے۔۔۔ ہو جناب
بند کر لیجیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔زباں اب تو

تیری اوقات کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلےگا پتہ
دینا ہے تجھکو امتحاں ۔۔۔اب تو

اے ظفر ہو گءے۔۔۔۔۔ بہت ہی دن
اک نیا تم غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سنا اب تو

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل: بحث کا کچھ نہیں جس کو سلیقہ

بحث کاجو بھی ہے بہتر طریقہنہیں بحاث کواس کا سلیقہ بحث میں صغریٰ کبریٰ حداوسطنہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے