اردو تلفظ میں اصلاحات: مسائل و تدارک

تحریر:عین الحق امینی قاسمی، بیگوسراے

اردو زبان اپنی گونا گوں خصوصیات کے ساتھ تاہنوز بولی اور لکھی جارہی ہے ، اس پر سیمنار وکانفرنس اور بڑی بڑی میٹنگیں ضرور ہورہی ہیں ،اس کی اشاعت وج فروغ کے لئےادبی انجمنیں قائم ہیں ،اس کو روزگار سے جوڑنے کے تعلق سے حکومتوں پر بھی دباؤ بنایا جارہا ہے ،اگر ناشران کتب اور اکیڈمیاں نت نئی ترکیبیں وضع کر اردو کو زندہ رکھنے کے فرائض ادا کررہی ہیں ، تووہیں شعراء اپنی شاعری اور اردو شعبے مشاعروں کی کی بزم سجا کر اردو کی خدمت میں جٹے ہیں ، مگر ان سب کے باوجود آج کئی جہتوں سے اردو اپنے وجود وحسن کو بچانے کی گہار لگا رہی ہے ،اگر اس کی خوبصورتی کو بچانے کی تحریک نہیں چلی ،اور تلفظ میں اصلاح کی طرف توجہ نہیں دی گئی ،رسم الخط سمیت عام بول چال اور صحافت کے شعبوں میں اس طرف خصوصی دھیان نہیں دیا گیا تو نئی نسل مستقبل میں محض اردو کے نام سے تو واقف رہے گی ،مگر اس کی شناخت واستعمال سے محروم ہوجائے گی ،اسلئے ضروری ہے ان کمزوریوں کا پتا لگا نا کہ وہ کیا اسباب ہیں ،جس کی وجہ سے آج اردو کی اپنی اصل شکل دھندلی ہوتی جارہی ہے ،ذیل میں ہم اس کے اسباب میں سے چند کا تذکرہ کرتے ہیں ،جس پر غور وفکر کے بعد ہی ہم اردو کو اس کی اپنی شکل وصورت کے ساتھ نئی نسل تک پہنچانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
(1)…… ہم آواز حرفوں میں خط امتیاز :” بعض ایسے اردو داں کی طرف سے رہ رہ کر یہ آواز اٹھتی رہی ہے کہ جو اردو کو بحیثیت” زبان” آسان بنانے کی تحریک چلارہے ہیں ،ان کا ماننا ہے کہ اردوتلفظ میں قیل وقال سے اس کے فروغ میں غیر ضروری رکاوٹیں آرہی ہیں ،اس لئے ہم آواز حرفوں کی تصحیح وتعبیر کے بجائے اس کے معنوی تسہیل پر توجہ مرکوز کرنا اردو کے ساتھ عین انصاف ہے ،وہ اس پہلو کو ناقابل اعتنا مانتے ہیں کہ حرفوں میں تلفظ کے فرق سے کوئی زیادہ دشواری پیش آتی ہو ،مثلا: محفوظ کو اگر محفوض یا محفوز یا محفوذ لکھاجائے تو اس سےمفہوم میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آرہی ہے ،البتہ لکھنے پڑھنے میں تکلف وتکدر سے پرے برتنے کے حوالے سے آمادگی کا مزاج ضرور بنتا ہے ” اس صورت میں اردو چوں چوں کا مربہ ہوکر رہ جائے گی ،اس لئے اہل اردو کو اس نظرئیے کی تردید ،اپنی ذمہ داری سمجھ کر کرنی چاہئے ۔
(2)…..مصلح اردوکا غیرسنجیدہ ہونا : بہت سی دفعہ تحفظ اردو کا جھنڈا ان حضرات کے ہاتھ میں بھی دیکھا ،جو خود قابل اصلاح ہیں ،ان کی اردو سے محبت کے بجائے تکدر کا سا احساس ہونے لگتا ہے ،بہت سی مرتبہ یقینا وہ اردو کے تئیں سنجیدہ اور مخلص ہوتے ہوئے بھی ایسی ایسی فاش غلطیاں کر بیٹھتے ہیں کہ ” حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں ” ہمیں ان کے اخلاص پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا ،بلکہ ان کی فکر مندی سے بھی بعض دفعہ اردو کا ہو یا نہ ہو ، اہل اردو کا بھلا ہوتے ضرور دیکھا گیا ہے ،مگر سوال ہے کہ مصلحین کے اس عمل سے اردو کا کتنا بھلا ہورہا ہے یہ اہم ہے ! گزشتہ دنوں ایسے ہی ایک مخلص ومصلح کی طرف سے محض تین ماہ کے اندر اردو سکھانے کا اعلان پڑھنے کو ملا ، فیس بک وال کی کل ڈھائی لائن کے اس اعلان میں چار طرح کی چار غلطیاں نظر آئیں ،جسے سدھارے بغیر شائع کردیا گیا ،کیا ان جیسے مصلحین اردو سے اردو زندہ رہ پائے گی ؟ اور ایسا اخلاص کس دن کے لئے ؟
(3)…….غیر تربیت یافتہ افراد کی بالا دستی : اردو بے زبان تب نظر آنے لگتی ہے اور اس کی شیرنیت کھٹائی میں پڑ جاتی ہے ،جب بزعم خود "اردوداں” کے زیر اثر وہ فروغ پانے لگتی ہے ، اکثر وبیشتر اس کا واسطہ ایسے غیر تربیت یافتہ افراد سے رہا کرتا ہے ،جہاں اردو اپنے کو بے بس اور بے زباں محسوس کرتی ہے ،بعض انجمنیں ،اکیڈمیاں اور لائبریوں کے اعلی ذمہ داران کی طرف سے پڑھے جانے والے مقالات ،پڑھائے جانے والے "اردو گائڈ ” اور مرتب کی جانے والی تجویزات وتآثرات سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے ۔
(4)…….اردو کی ڈگریاں اوراسناد :۔ ملنے جلنے والوں میں متعدد ایسے شنا ساہیں ،جن کے پاس اردو کی ایک سے زائد حسب ونسب کی اسنادیں ہیں ، اردو کی بھلائی کے لئے کام کی ایک لائن لکھنا یا چند جملے بالترتیب بول لینا ان کے بس کا روگ ہو نہ ہو ،لیکن ان اسناد کی بدولت وہ ہر بڑی مجلس کے میر کارواں یاکم ازکم شہ نشیں پر رونق افروز، ضرور دکھ جاتے ہیں ، ان کی ” کمر توڑ "اردو سے انیکو بار اردو کے لئے خون بہانے والوں کی آنکھ سے پانی بہتے دیکھا گیا ہے ،خون دینے والے عاشقوں کا جرم صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ اردو کی زلف وابرو کو سنوارنے میں خاموشی کو ترجیح دیتے رہنے اور ضرورت کے وقت بھی تشہیر کو ناجائز سمجھ کر "گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے ” کی سنت پر عمل کرنےکے رسیا ہوتے ہیں ،ان کا یہ جرم اتنا بڑا ہوتا ہے کہ وہ اسناد تو کجا عہدہ ومنصب تک سے بھی تہی دست ہوتے ہیں۔اسناد کا ہونا اچھی علامت ہے ،مگر اسناد دھاری ہوکر بہکی بہکی اردو کی ذمہ داری قبول نہ کر نا یہ بہت اچھی علامت نہیں ہے۔
(5)…….اردو اساتذہ : اردو زبان کی ترویج واشاعت کی پہچان کے ساتھ سرکاری اسکو لوں میں استاذ کے عہدے پربحالی ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے اردو کے وجود کو مستحکم بنایاجاسکتا ہے ،بچوں میں اردو کے معیار کی دیر پا بنیا دڈالی جاسکتی ہے ، یہ وہ موقع ہے جس کو گنوانے کے بعد شاید پھر یہ لمحہ اور حسین تر نقش وعکس قائم کرنے کا، وقت مہلت نہ دے ،ایسے میں اردو کے کی بہتری کے لئے کام نہ کرنا صرف اردو کی ترویج سے غفلت ہی نہیں ،بلکہ اس کے خوبصورت تلفظ کے ساتھ بھی بے مروتی ہے۔اساتذہ کی اردو پر گرفت سے ہی طالب علموں میں اردو کے تئیں شوق پروان چڑھ سکتا ہے ،ان کے تدریسی عمل کی خوبیوں سے طلبہ میں اردو بحیثیت زبان تب فروغ پائے گی جب اساتذہ اردو کو زبان کی اہمیت وعظمت کے ساتھ پڑھانے میں دلچسپی لیں گے اوروہ دلچسپی تب لیں گے جب وہ خود اردو کے مزاج و مذاق سے ذہنی وفکری ہم آہنگی رکھتے ہوں گے ۔
(6)…….پیشہ ور صحافی : ایک زمانہ تھا جب اچھی اردو سیکھنے کے جذبے سے اہل اردو اخبار پڑھنے کا مشورہ دیا کرتے تھے ،مگر بیتے دنوں کے ساتھ جہاں بہت کچھ بدل چکا ہے وہیں اخبار کے رپورٹروں کی زبان و یبان بھی بدل گیا ہے ،اب تو اخبار پڑھنے سے منع کیا جاتا ہے کہ اس سے اردو خراب ہوجاتی ہے ،بہت چھوٹے چھوٹے رپورٹروں کو نظر انداز کرجائیے جو کہ روز مرہ کی خبریں رومن خط میں تیا رکر متعلقہ اخبارات کو بھیجتے ہیں ،پھر وہاں ایک مترجم رکھ کر اس کو اردو میں منتقل کیا جاتا ہے ،ظاہر ہے ان کو اس سے کیا مطلب کہ اس نقل در نقل سےاردو کی روح زندہ ہے یا مردہ ،ان کو تو خبروں پر مشتمل زیادہ سے زیادہ مواد کو اپنے قارئین تک پہنچانا مقصد ہے ،جس میں بلا شک وریب وہ کامیاب ہیں ،مگر اس عمل سے اردو کے نام پر اردو کے ساتھ جو رویہ اپنا یا جارہا ہے وہ قطعاً سراہنے کے قابل نہیں ہے چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں ،بڑے میاں سبحان اللہ ،صحافت کی دنیا میں مہنگائی کی مار جھیلنے والے اعلی ذمہ داران اور طے شدہ پروگرام کے مطابق خبروں کو ایڈٹ کرنے والے مدیران بھی اردو تلفظ کو نظر انداز کرنے میں کم بڑے ذمہ دار نہیں ہیں ،وہ اردو اور اردو تلفظ کی تصحیح سے زیادہ خبروں کی تصدیق کی فکر کرنے لگے ہیں ۔ شاید اسی سب کا نتیجہ ہے کہ خبروں کی خواندگی میں اب اکتاہٹ سی محسوس ہونے لگی ہے ،بعض اخبارات کے ایڈیشنوں کی بعض خبروں میں اس درجہ غلطیاں واقع ہوتی ہیں کہ نشان زد کرنا مشکل ہو جاتا ہے ،گذشتہ سال ایسے ہی ایک اخبار کی بے احتیاطی نے اخباری دنیا کو شرمسار کردیا تھا ،کچھ متعین اخبارات تو ہردوروز بعد تصحیح نامہ شائع کراپنے ناکردہ گناہوں کا کفارہ اداکرلینا کافی سمجھنے لگے ہیں اور شاید اسی مذاق و پہچان کےساتھ وہ اپنی نیا پار لگانے میں بزعم خود وہ کامیاب بھی ہیں ۔
(7)…….سوشل میڈیا ڈیسک : سوشل میڈیا کی مقبولیت سے انکار اور نہ انکار کی گنجائش ! انٹر نیٹ کی مدد سے پلکوں میں اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کی بے جا لت نے بھی اردو تلفظ کو نقصان پہچایا ہے ،پہلے کبھی دوچند سطریں لکھنے کے بعد ،لکھنے والا اس کے بال وپر کو کئی کئی بار سنوارتا تھا ،لکھنے اور لکھ کر مٹادینے کا مزاج برا نہیں سمجھا جاتا تھا ،مکمل اطمینان کرلینے پر ہی تب کہیں وہ اشاعت کے لئے اس احساس کے ساتھ بھیجی جاتی تھی کہ پڑھنے والا یہ نہیں دیکھتا کہ کتنے دنوں کی محنت سے یہ تحریر لکھی گئی ہے ،بلکہ قاری پڑھ کر اپنی پسند وناپسند کی مہر لگاتا ہے کہ تحریر کیسی ہے ؟مگراب تو کچھ عجلت پسندی اور لکھ جانے والی ہر تحریر پتھر کی لکیر کے خیال خام سے اس قابل کہاں کہ لفظوں کی ترتیب ،تلفظ وادائے گی پر نظر ثانی اور تذکیر وتانیث وغیرہ کے تعلق سے کم از کم بار ایک بار ہی سہی پڑھ بھی لی جائے ۔ اس زود نویسی نے بھی اردو تلفظ کو متآثر کیا ہے ،وہیں کمنٹ بوکس میں ہندی اور انگلش رسم لخط کے اہتمام اور اس کے عام مزاج وچلن نے بھی اردو تلفظ کو زبر دست نقصان پہنچایا ہے ۔
(8)…….ماہرین اردو کی روپوشی : کام تو جوہونا ہے وہ ہوگا چاہے ماہرین کے ذریعے ہو یا غیر ماہرین سے ،مگر یہ بھی سچائی ہے کہ سالار قافلہ جب سبک گامی سے چلنے کا مزاج رکھیں گے تو قافلہ کے افراد آگے نکل کر سالار نما ضرور دکھائی دینے لگیں گے ۔ یہی صورت حال تقریباً یہاں بھی ہے ، جب تجربہ کا رافراد رونمائی کے بجائے روپوشی کو ترجیح دیں گے ،پھر کمان تو کسی کو سنبھالنا ہی پڑے گا ،وہ چاہے ناتجربہ کا ر ہی سہی ۔اردوداں کو اس کے لئے آگے آنے کی ضرورت ہے ،زندگی میں بعض دفعہ نقاب پوشی سے زیادہ نقاب کشائی کی اہمیت ہوتی ہے ،اگر اردو کے خاموش خدمت گار زمام اردو کو نہیں تھا میں گے تو ہمیں نکیل ہاتھ سے نکل جانے پر افسوس نہیں ہونا چاہئے۔
(9)…….اردو سے افادہ واستفادہ: اردو کے تعلق سےایک بات تو اکثر ماہرین لسانیات کہتے رہے ہیں کہ اردو تلفظ میں جو لفظ بھی عادت کی حدتک بولی اور سمجھی جاتی ہو ،افہام وتفہیم کی غرض سے لکھنے پڑھنے میں اسی لفظ کو استعمال کرنا چاہئے ، ایسی تحریریں ہی زود فہم بھی ہوتی ہیں اور قابل اثر بھی ، آسان اور عام فہم لفظوں کو نظر انداز کربے وجہ نامانوس عربی الفاظ کو جڑ نے کی چاہت سے بسا اوقات ناقابل فہم تحریریں وجود میں آجایا کرتی ہیں ،جسے نہ اہل زبان پسند کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ناہی سامع پر اس کا کوئی واقعی اثر جھلکتا ہے ،بلکہ وہ زبان کی لذت سے محروم جبرا خواندگی پر مجبور ہوتے ہیں ۔اسی طرح یہ چلن بھی عام کرنے ضرورت ہے کہ اردو میں جو لفظ صوتی اعتبار سے مستعمل ہو ،لکھنے میں بھی اس کو بعینہ استعمال کیا جانا چاہئے ، حالاں کہ اردو میں بہت سے ایسے الفاظ مستعمل ہیں جو بولنے میں کچھ اور لکھنے میں کچھ اور آتے ہیں مثلاً: خواہش کو خواہش ،دستر خان کو دستر خوان وغیرہ یا اسی طرح خد بہ خد کو خود بخود ،پہنچا کو پہونچا وغیرہ ، بہت سے الفاظ جو بولنے میں الف کے ساتھ ،مگر لکھنے میں” ہ” کے ساتھ لکھے جاتے ہیں ،اس طرح کے الفاظ کو بھی الف کے ساتھ ہی لکھے جانے کی چلن عام ہوتو اردو ،سیکھنے سے برتنے تک کے مرحلوں میں نمایاں فروغ پائے گی ۔ایسا اس لئے بھی ممکن ہے کہ 1950 تک میں اردو تحریر میں ایسی ہی کئی بڑی تبدیلیاں ہوئی ہیں ،جن کو بروئے استعمال لایا گیا ہے۔اسی طرح فعل ،فاعل ،موصوف ،صفت ،عطف ،معطوف، واحد جمع اور تذکیر وتانیث کے استعمال کے سلسلے میں توجہ دینے کی خاص ضرورت ہے ۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بہار کے مختلف اضلاع میں "فروغ اردو سیمنار و مشاعرہ” کا انعقاد: ایک نظر میں

تحریر: اسجد راہی، ایڈیٹر قومی ترجمان ہر سال ریاست بہار میں اردو ڈایریکٹوریٹ و اردو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے