آؤ ہم سب مل کر یہ کام کریں! بیٹیاں خود کشی کے لیے مجبور نہیں ہوں گی

تحریر: رضوان احمد مصباحی
رضوی دارالافتاء رامگڑھ جھارکھنڈ

ابھی کچھ دنوں پہلے گجرات کی رہنے والی عائشہ نامی لڑکی کی خودکشی کا معاملہ پیش آیا بعدہ ہر ایک خطیب اور مضمون نگار کو اس عنوان پر کچھ نہ کچھ بولنے اور لکھنے کا موقع ملا ، آۓ دن خطبا اپنی خطابت میں نقبا اپنی نقابت میں مضمون نگار اپنے مضمون میں شعراء اپنی شاعری میں اس موضوع پر اپنی پوسٹ تحریر و تقریر اور شعر و سخن سوشل میڈیا اور جراںٔد و رسائل پر نشر کر رہے ہیں ، سبھی اپنے اپنے انداز میں طرح طرح کی سرخیاں لگا کر گفتگو کر رہے ہیں ، کچھ عاںٔشہ کے اس فعل کی مذمت کرتے نظر آرہے ہیں ، تو کچھ اس عمل کے خلاف اپنا رد عمل ظاہر کرنے میں لگے ہیں جس کے سبب وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہوںٔی ۔ بہر حال جس سے جو ہو پا رہا ہے وہ اس کے متعلق لکھنے پڑھنے اور بولنے میں مشغول و مصروف ہہے ، اور اس پر کچھ نہ کچھ اپنی زبان و قلم کو حرکت دینے میں کوشاں ہے ۔ مجھے اپنے تمام اصاغر اور اکابر احباب کے اس رد عمل سے کافی مسرت ہوئی ، اللہ ربّ العزت کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ مولی تعالیٰ ہمارے تمام احباب کے نوک قلم میں مزید نکھار عطا فرمائے اور ان کی اس خدمت کو قبول و مقبول بھی فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین ۔ لیکن معذرت کے ساتھ یہ تحریر قلم بند کر رہا ہوں کہ صرف سوشل میڈیا یا اخبار و رسائل پر اپنے مضامین نشر کرنے یا فیسبک وہاٹسپ اور ٹیلی گرام و ٹویٹر پر پوسٹ واںٔرل کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک قدم اور آگے بڑھ کر غور و فکر کرنے اور ایک ایسا لاںٔحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے جس پر ہر انسان بآسانی عمل کر کے ان براںٔیوں کا جڑ سے خاتمہ کر سکے جن کے سبب معاشرہ تباہی کی جانب سرعت سے بڑھتا جا رہا ہے ، آںٔیے آج ہم ایک ایسا لاںٔحہ عمل تیار کریں اور زمین پر اتر کر اسے ایک عملی جامہ پہناںٔیں ۔ میں مانتا ہوں کہ کام تھوڑا مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں جسے عمل میں نہیں لایا جا سکے یقیناً ہم کوشش کریں گے تو اللہ ربّ العزت ضرور ہمیں کامیابیوں سے ہم کنار فرماۓ گا ان شاءاللہ ۔ اس چیز کے لیے میرے ذہن و فکر میں ایک بات آںٔی تو میں نے مناسب سمجھا کہ اس بات کو اپنے احباب میں شیںٔر کروں تاکہ وہ بھی اس پر عمل کر کے ہماری تحریک کا حصہ بنیں اور عنداللہ و عند الرسول ماجور ہوں ۔ وہ بات یہ ہے!
آؤ ہم سب مل کر یہ کام کریں ۔ کم از کم پانچ نوجوان لڑکا یا لڑکی کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ سنت نبوی کے مطابق نکاح کریں گے لڑکوں سے اس بات کا عہد و پیمان لیا جائے کہ اپنی زندگی میں بالکل کبھی جہیز کا مطالبہ نہیں کریں گے ،جہیز کے لئے کبھی بھی اپنی بیوی اپنے سسرال والوں کو تنگ نہیں کریں گے ۔ اور لڑکیوں سے اس بات کا عہد لیا جائے کہ جو لڑکا جہیز کا مطالبہ کرے گا میں اس سے عقد نکاح نہیں کروں گی ۔ اور ہر پانچ کم از کم دو لوگوں کو اسی بات کے لیے تیار کریں تو رفتہ رفتہ یہ جہیز والی وبا و بلا ہمارے سماج و معاشرہ سے ختم ہو جائے گی ۔ ان شاءاللہ الرحمٰن ۔
(٢) معاشرہ میں جو جہیز کا مطالبہ کرے گا اس کا سماجی مقاطعہ کیا جاۓ ۔ کم از کم ہمارے علماء و اںٔمہ اس کی ہر ایک تقریب مثلاً نکاح ، میلاد قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی وغیرہ کا بالکل باںٔیکاٹ کریں ۔ خدا پر توکل رکھیں اور اس کا مقاطعہ کریں اگر پانچ سات سو روپے نذرانہ نہیں ملے گا تو ایسا نہیں ہے کہ آپ بھوکے پیاسے مر جاںٔیں گے ۔
(٣) ہمارے صدر و سکریٹری اور اراکین و منتظمین بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ایسی تقریبات کے مقاطعہ پر اپنے علما و اںٔمہ کا ساتھ دیں۔
(٤) عالم کے لبادہ اوڑھ کر گھومنے پھرنے والے سڑک چھاپ مولویوں سے اپنی مساجد کی حفاظت کریں اور اپنے سماج کو ایک مہذب اور پاکیزہ سماج بناںٔیں۔
میں نے اس کام کا آغاز کر دیا ہے آپ کب سے کر رہے ہیں ؟
اللہ ربّ العزت ہمارے تمام دوست و احباب ، علما و اںٔمہ اور عوام و خواص کو میری اس تحریک کا حصہ بناۓ اور نیک نیتی کے ساتھ اس کام کو انجام تک پہنچانے کی توفیق بخشے آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ ۔

یہ کہہ کر خود کشی کر لی ایک مفلس کی بیٹی نے ۔
میرے ابّو اب تمہاری ذمہ داری ختم ہوتی ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

تحریر: ام ماریہ فلک (ممبرا) "اللہ کے نام پر دے بیٹا، اللہ تیرا بھلا کرے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے