آدم کو گمراہ کردیا!

از قلم: ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری
مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یو۔پی۔

یہ جملہ کہ "آدم کو گمراہ کر دیا” کسی غیر مسلم کا جملہ نہیں بلکہ مسلم سمجھے جانے والے ایک ضلع بستی یوپی کے کافی پرانے ڈاکٹر کا جملہ ہے، جسے خود میرے کانوں نے سنا، جس کی چبھن آج بھی محسوس ہورہی ہے۔

ابھی دوشنبہ ١/ مارچ ۲۰۲١ء کی بات ہے کہ میرے پیر میں تھوڑی تکلیف تھی، سوچا کہ ہڈی کے ڈاکٹر کو دکھالوں, کہیں تکلیف زیادہ ہوئی تو پریشانی پڑھ جائے گی، اس لیے مشورہ کے بعد بستی کے مسلم ڈاکٹر کا انتخاب ہوا, میں بستی پہنچا اور پرچی لے کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگا, مجھ سے پہلے ایک برقہ پوش عورت کا نمبر تھا, اس نے ڈاکٹر سے گذارشی انداز میں کہا کہ ڈاکٹر صاحب تھوڑا ٹھیک سے دیکھ لیجیے, بڑی مہربانی ہوگی, مگر ڈاکٹر مریضہ کو دلاسہ دینے کے بجائے اس پر بکھڑ گئے اور کھری کھوٹی سنایا اور کبر و نخوت کا بھر پور مظاہرہ کیا, مجھے افسوس ہوا کہ ڈاکٹر وہ بھی مسلم اس طرح بھی اچھے اخلاق و کردار کے زیور سے پرے ہوتے ہیں!

خیر عورت باہر آئی اور میں اندر کمرہ میں داخل ہوا, داخل ہوتے ہی ڈاکٹر کا جب یہ جملہ: "آدم کو گمراہ کردیا” میرے کانوں نے سنا تو تکلیف کی انتہا نہ رہی اور یہ سمجھ میں آیا کہ یہ ڈاکٹر جہاں اخلاقی گراوٹ کے شکار ہیں وہیں بد مذہبیت اور گمراہیت کے دلدل میں بھی پھنسے ہوے ہیں. میں نے فورا جواب میں کہا کہ حضرت آدم علیہ السلام گمراہ نہیں ہوئے. ڈاکٹر نے میرے اس جملہ کا کوئی جواب نہیں دیا, اگر جواب دیتے تو بات بڑھنی طے تھی مگر پتہ نہیں کیوں خاموش رہ گیے۔

ڈاکٹر کو دکھا لیا, دوا بھی لے لیا مگر بستی سے لے کر اوجھاگنج کے سفر تک اپنے آپ کو کوستا رہا کہ اس سے مزید بات کرنی چاہئے تھی, اس کا یہ جملہ سننے کے بعد پرچہ واپس لے لینا چاہیے تھا, دوا نہیں لینی چاہئے تھی, کسی اور ڈاکٹر کو دکھالینا چاہیے, رات ہوئی, تکلیف کے باوجود دوا کی طرف سے بے ذاری رہی, سوچا ابھی رات میں نہیں صبح دوا کھا لوں گا, مگر کیا دوا کھانے کی نوبت آئی؟! الحمد للہ جب صبح نماز کے لیے اٹھا تو تکلیف دور ہوگئی تھی اور بالکل پریشانی محسوس نہیں ہورہی تھی اور اس طرح اس بد نصیب کی لکھی دوا کھانے سے محفوظ رہا, و الحمد لله على ذلك۔

یہاں آپ کو یہ بات ذہن نشیں کرلینا چاہیے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالی زمین میں خلیفہ بناکر بھیجنے والا تھا, اس وقت کا جنت میں رہنا ہمیشگی کے لیے نہیں تھا, اس لیے حضرت آدم علیہ السلام کو تو زمین میں تشریف لاکر خلافت کا حق تو ادا کرنا ہی تھا, زمین پر تشریف لانے کا اصل سبب یہی تھا, لیکن یہاں پر جنت سے زمین کی طرف تشریف لانے کے ظاہری سبب جان لینا بھی ضروری ہے, اس سے متعلق میری نظر سے دو آرا گزری ہیں:

پہلی: ابلیس کی تزئین کاری کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام نے درخت سے کھایا, اس طرح آپ سے خطا ہوئی اور آپ کو زمین پر بھیج دیا گیا۔

دوسری: ابلیس نے حضرت حوا رضی اللہ عنہا کے لیے تزئین کاری کی اور پھر آپ نے حضرت آدم علیہ السلام سے درخت سے کھانے کے لیے کہا اور اس طرح آپ سے خطا ہوئی جس کی بنیاد پر آپ کو زمین پر بھیج دیا گیا۔

پہلی صورت میں خطا کے سبب ظاہری ابلیس پھر خود حضرت علیہ السلام ہیں اور دوسری صورت میں خطا کے سبب ظاہری ابلیس, پھر حضرت حوا رضی اللہ عنہ اور اس کے بعد حضرت آدم علیہ السلام ہیں.

قرینہ سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ ڈاکٹر نے اس برقہ پوش عورت کی وجہ حضرت حوا رضی اللہ عنہا کو نشانہ بنایا کہ انہوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو گمراہ کردیا اور اپنے اس کج فکری سے حضرت آدم علیہ السلام کے گمراہ ہونے کو بھی تسلیم کیا! نعوذ بالله من ذلك۔

اب قارئین خود فیصلہ کریں حضرت آدم علیہ السلام یا حضرت آدم علیہ السلام اور حوا رضی اللہ عنہا کی مشترکہ اس خطا سے گمراہ کرنے اور گمراہ ہونے کا فیصلہ کیسے کیا جاسکتا ہے؟! کیا ڈاکٹر کی جانب سے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا رضی اللہ عنہا کی بارگا میں یہ دریدہ دہنی نہیں؟! کیا اس کے اس جملہ قبیحہ سے عام مسلم کے قلوب کی دل آزاری نہیں؟! یقینا دل آزاری ہے, کیوں کہ گمراہ ہونے اور کرنے کی تو دور بات ہم انہیں گنہ گار بھی نہیں کہ سکتے, یہ رب کی مرضی کہ اپنے نیک بندوں کو جیسے چاہے یاد کرے مگر ہم اور آپ کون ہوتے ہیں گنہ گار کہنے والے اور جب گنہ گار بھی نہیں کہ سکتے تو گمراہ کے وصف سے موصوف کرنا بہت دور کی بات ہے.

ڈاکٹر! جب قرآن پاک کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر خلافت کا حق ادا کرنے کے لیے آنا ہی تھا, اب اس کے سبب آپ کی نظر میں خواہ حضرت آدم علیہ السلام یا حضرت حوا رضی اللہ عنہا یا دونوں ہوں مگر آپ کو کس نے یہ اتھارٹی دی کی آپ حضرت حوا رضی اللہ عنہا کو گمراہ کرنے والا اور حضرت آدم علیہ السلام کا گمراہ ہونا تسلیم کرکے, اس طرح کے ہفوات بکیں؟ کیا آپ کے نخوت نے, کیا آپ کے غرور نے, کیا آپ کی دولت نے, کیا آپ کی بلڈنگ اور گاڑی نے یا آپ کی بد اخلاقی نے؟! یاد رکھیں ہم آپ کے غرور و گھمنڈ اور آپ کی بد اخلاقی اپنے لیے برداشت کرسکتے ہیں مگر اپنے کسی بھی نبی کی شان میں ادنی سی بد کلامی برداشت نہیں کرسکتے, آپ کو دین سے متعلق اپنے دماغ کو تھوڑا کھول کر سوچنا چاہیے, آپ کو سمجھ میں آجائے گا کہ اگر حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا رضی اللہ عنہا اس خاکدان گیتی پر نہیں آتے تو آپ دینا کی لا تعداد نعمتوں سے لطف نہیں اٹھا پاتے, تعجب ہے ایسے مسلم پر اور صد افسوس بھی کہ جو اس کی نعمتیں حاصل کرنے کا سبب بنا, اسی کو اپنی زبان طعن کا نشانہ بنائیں, ڈاکٹر! آپ اپنے اس جملہ سے توبہ کرلیں, ان شاء اللہ نجات پاجائیں گے.

نہ سدھ روگے تو مٹ جاؤگے اے ہندی مسلمانو
تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نیم روافض کا حکم شرعی

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ چند سالوں سے سنی کہلانے والوں میں ایک طبقہ اسلاف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے