کافر فقہی کے لیے ”من شک:الخ“ کا استعمال

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ

حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی قدس سرہ العزیز نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی میں ”من شک فی کفرہ فقد کفر“کا اصول استعمال فرمایاتھا۔

اس اصو ل کا استعمال تکفیر فقہی اور تکفیر کلامی دونوں میں ہوتا ہے۔

جب1324مطابق 1906میں حرمین طیبین سے حسام الحرمین میں دیوبندیوں کے لیے حکم کفر آیا تو دیابنہ اپنے دفاع کے واسطے کمربستہ ہوگئے۔خلیل احمد انبیٹھوی نے ”المہند“ لکھی۔اشرف علی تھا نوی نے کسی کی معرفت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے خط وکتابت کا سلسلہ شروع کیا۔

انہیں مکتوبات میں تھانوی نے اعتراض کیا کہ علمائے حر مین طیبین نے دیوبندیوں کے لیے بھی ”من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر“کا اصول استعمال فرمایا، اور حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی قدس سرہ العزیز نے بھی اسماعیل دہلوی کے لیے ”من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر“ کا اصول استعمال فرمایا اور امام احمدرضا قادری اسماعیل دہلوی کوکافر نہیں مانتے ہیں تو امام احمد رضا پر کیا حکم ہوگا؟

دراصل دیوبندیوں نے سمجھا کہ ”من شک فی کفرہ فقد کفر“کا اصول صرف تکفیر کلامی میں استعمال ہوتا ہے،اس اعتبارسے اسماعیل دہلوی کوکافر نہیں ماننے والا بھی کافر ہوگا۔

اس وقت حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ القوی نے ”الموت الاحمر“میں تفصیل سے جواب تحریر فرمایا۔اس کا خلاصہ یہ تھا کہ حضرت علامہ خیرآبادی قدس سرہ العزیز نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی فرمائی تھی،اورامام احمد رضا قادری نے بھی اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی فر مائی ہے،پس دہلوی کے معاملہ میں کوئی اختلاف نہیں اور دیوبندیوں کی تکفیر کلامی ہوئی ہے۔

عہد حاضر میں بعض سنی نوجوان بھی یہ سمجھنے لگے کہ”من شک فی کفرہ وعذابہ فقدکفر“ کا اصول صرف تکفیر کلامی میں استعمال ہوتا ہے،لہٰذا دہلوی کی تکفیر،تکفیر فقہی نہیں،بلکہ تکفیر کلامی تھی۔آج میں واضح دلائل رقم کررہاہوں کہ ”من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر“کا اصول تکفیر فقہی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

ان شاء اللہ تعالیٰ اس کے بعد دوہرنیاں سینگیں نہ لڑائیں گی۔

تکفیر کلامی میں ”من شک“کا اصول استعمال ہوتو اس کا مفہوم ہے کہ جواس کے کافرکلامی ہونے میں شک کرے،وہ اسی طرح کافر کلامی ہے۔

تکفیر فقہی میں ”من شک“کا اصول استعمال ہوتو اس کا مفہوم ہے کہ جواس کے کافر فقہی ہونے میں شک کرے،وہ اسی طرح کافر فقہی ہے۔

متکلمین نہ کافر فقہی کے کافر فقہی ہونے میں شک کرتے ہیں، نہ کفرفقہی کے کفر فقہی ہونے میں شک کرتے ہیں،بلکہ کفر فقہی کا لقب بدل دیتے ہیں،وہ کافرفقہی کوگمراہ کہتے ہیں،کیوں کہ وہ صرف کافر کلامی کوکافرکہتے ہیں۔

وہ کافرفقہی کے بارے میں اس طرح کہتے ہیں کہ یہ گمراہ ہے جواس کوگمراہ نہ مانے،وہ بھی اسی طرح گمراہ ہے۔ یہ صرف تعبیر واصطلاح کا فرق ہے۔

خلق قرآن کا قول یعنی قرآن کومخلوق کہنا کفرفقہی ہے۔ اس قول کے سبب معتزلہ اور جہمیہ کو کافرفقہی قرار دیا گیا۔

حضرت امام احمد حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں خلق قرآن کے قائلین کے لیے ”من شک فی کفرہ فقد کفر“کا اصول استعمال ہوتا تھا۔

(1)امام احمد بن حنبل نے نقل فرمایا:(قال ابوبکر بن عیاش:
من قال:القرآن مخلوق فہوکافر-ومن شک فی کفرہ فہوکافر)
(الورع للامام احمد بن حنبل:جلد اول ص88-مکتبہ شاملہ)

(2)امام عبداللہ بن احمد بن حنبل نے نقل فرمایا:(عن سفیان بن عیینۃ یقول: القرآن کلام اللّٰہ عزوجل-من قال مخلوق فہو کافر-ومن شک فی کفرہ فہوکافر)(کتاب السنۃ لعبد اللہ بن احمد بن حنبل:جلد اول ص 112-مکتبہ شاملہ)

(3)حافظ ابوالقاسم ہبۃ اللہ لالکائی طبری(م۸۱۴؁ھ)نے رقم فرمایا:
(قال ابو خیثمۃ:من زعم ان القرآن کلام اللّٰہ مخلوق فہو کافر۔
ومن شک فی کفرہ فہو کافر)
(شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ:جلددوم:ص 256-مکتبہ شاملہ)

(4)حافظ ابوالقاسم لالکائی نے تحریر فرمایا:(والقرآن کلام اللّٰہ وعلمہ واسماۂ وصفاتہ وامرہ ونہیہ لیس بمخلوق بجہۃ من الجہات۔
ومن زعم انہ مخلوق مجعول فہوکافرباللّٰہ کفرا ینقل عن الملۃ۔
ومن شک فی کفرہ ممن یفہم ولا یجہل فہو کافر)
(شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ:جلداول:ص 181-مکتبہ شاملہ)

(5)ابوالقاسم اسماعیل بن محمد بن فضل تیمی اصبہانی (۷۵۴؁ھ-۵۳۵؁ھ)نے رقم فرمایا:(ومن قال:لا اقول مخلوق ولا غیر مخلوق فہو جہمی۔
ومن شک فی کفر من قال:القرآن مخلوق بعد علمہ وبعد ان سمع من العلماء المرضیین ذلک فہو مثلہ)
(الحجۃ فی بیان المحجۃ وشرح عقیدۃ اہل السنۃ -جلد اول ص240-مکتبہ شاملہ)

(6)محدث ابن بطہ عکبری حنبلی(۴۰۳؁ھ-۷۸۳؁ھ) نے رقم فرمایا:(القرآن فیہ معانی توحیدہ ومعرفۃ آیاتہ وصفاتہ واسماۂ وہو علم من علمہ غیر مخلوق …………ومن قال مخلوق او قال کلام اللّٰہ ووقف اوشک اوقال بلسانہ واضمرہ فی نفسہ فہو باللّٰہ کافر،حلال الدم بریء من اللّٰہ واللّٰہ منہ بریء-ومن شک فی کفرہ ووقف عن تکفیرہ فہو کافر)
(الشرح والابانۃ علی اصول السنۃ والدیانۃ:جلداول ص186-مکتبہ شاملہ)

(7)امام الجرح والتعدیل محدث ابن شاہین (۷۹۲؁ھ-۵۸۳؁ھ)نے نقل فرمایا:
(قال ابوخیثمۃ:ومن شک فی کفرالجہمیۃ فہو کافر)
(الکتاب اللطیف لابن شاہین:جلد اول ص86-مکتبہ شاملہ)

توضیح:خلق قرآن کا قائل کافر فقہی ہے،فر قہ معتزلہ وفرقہ جہمیہ وغیرہ خلق قرآن کے عقیدہ کے سبب کافر فقہی ہیں۔ان کے لیے ”من شک:الخ“کا اصول استعمال کیا گیا۔

اسماعیل دہلوی کے کفر کے بارے لوگ شبہہ ظاہرکرتے ہیں کہ شاید کفر کلامی ہو،تب یہ اصول استعمال ہوا،لیکن خلق قرآن کا مسئلہ مشہور ہے کہ خلق قرآ ن کاقول کفرفقہی ہے۔

محدث ابوبکر عیاش،محدث ابوخیثمہ اورمحدث سفیان بن عیینہ مشہور محدثین ہیں، جنہوں نے خلق قرآن کے قائلین کے لیے من شک:الخ کا استعمال فرمایا۔

امیدیہی ہے کہ سب سے پہلے خلق قرآن کے مسئلہ میں ہی ”من شک“ کا استعمال ہوا ہے۔

مسئلہ خلق قرآن کے سبب سے علم عقائد کا نام علم کلام ہوا۔معتزلہ نے عباسی بادشاہ مامون رشیدکے زمانے میں یہ فتنہ اٹھایااور کئی بادشاہوں کے زمانے تک یہ فتنہ جاری رہا۔

اس مدت کو ایام محنت (آزمائش کا زمانہ)سے تعبیر کیا گیا۔خلق قرآن کے انکارکے سبب بہت سے علمائے اہل سنت کوقید اوربہت سے علما کوقتل کیا گیا۔ہماری کتاب ”السواد الاعظم من عہد الرسالۃ الیٰ قرب القیامہ“میں تفصیل ہے۔یہ تیسری صدی ہجری کا زمانہ تھا۔

رسالہ مذکورہ میں الزام خصم کے لیے ”من شک:الخ“ کی جدیدتشریح مرقوم ہوئی۔
قانو ن یہی ہے کہ جو کافر کلامی کے کفر میں شک کرے،وہ اسی کی طرح کافرہے۔

جو کافر فقہی کے کفر میں شک کرے،وہ اسی کی طرح کافر فقہی ہے۔ جوگمراہ کی گمرہی میں شک کرے،وہ اسی کی طرح گمراہ ہے، لیکن اس قانون کا استعمال ہر جگہ نہیں ہوتا۔

جب کسی کے کفر وضلالت سے لوگوں کے متاثر ہونے کا خوف ہوتو اس قاعدہ کلیہ کا استعمال ہوتا ہے،تاکہ لوگ اس فتنہ سے محفوظ رہیں۔چند مواقع استعمال کا ذکردرج ذیل ہے۔اس سے یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ کفرفقہی وکفرکلامی دونوں میں یہ استعمال ہوتا ہے۔

(۱)تیسری صدی ہجری میں خلق قرآن کے قائلین کے لیے استعمال ہوا۔

(2)عہد ماضی میں ان روافض کے لیے استعمال ہوا جوکافر فقہی تھے،کافر کلامی نہیں۔
(۳)امام اہل سنت قدس سرہ نے رافضیوں کوبحکم فقہا کافرومرتد قراردیا، اور حوالہ کے طورپر جو عبارتیں تحریرفرمائی ہیں، ان میں یہ اصول مذکور ہے کہ جو ان کے کفر میں شک کرے،وہ بھی کافر ہے۔یہ تبرائی روافض کا حکم ہے،تمام روافض کا نہیں۔عہد حاضرکے روافض کافر کلامی ہیں۔بعض عبارتیں منقولہ ذیل ہیں۔

(1)”جواب سوال دوم:بلاشبہہ رافضی تبرائی بحکم فقہائے کرام مطلقًا کافر مرتد ہے۔اس مسئلہ کی تحقیق وتفصیل کو ہمارا رسالہ ”رد الرفضہ“بحمداللہ کافی ووافی۔یہاں دوچار سندوں پر اقتصار“۔(فتاویٰ رضویہ جلد ششم ص36-رضا اکیڈ می ممبئ)

امام احمدرضا قادری کی نقل کردہ بعض حوالہ جاتی عبارتیں مرقومہ ذیل ہیں:

(2)”عقود الدریہ طبع مصر جلد اول ص92:دربارۂ روافض:اعلم اسعدک اللّٰہ تعالٰی ان ہؤلاء الکفرۃ جمعوا بین اصناف الکفر ومن توقف فی کفرہم والحادہم فہوکافر مثلہم“۔(فتاویٰ رضویہ جلد ششم ص37-رضا اکیڈ می ممبئ)

(3)”اجمع علماء الاعصار علٰی ان من شک فی کفرہم کان کافرا“۔ (بحوالہ:عقود الدریہ طبع مصر جلد اول ص93)
(فتاویٰ رضویہ جلد ششم ص37-رضا اکیڈ می ممبئ)

(4)امام احمدرضاقادری نے رسالہ: رد الرفضہ میں تبرائی روافض کوبحکم فقہا کافر قرار دینے کے بعد تحریر فرمایا:”یہ حکم فقہی مطلق تبرائی رافضیوں کا ہے،اگرچہ تبرا وانکار خلافت شیخین کے رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے سوا ضروریات دین کا انکار نہ کرتے ہوں:

والاحوط فیہ قول المتکلمین انہم ضلال من کلاب النار،لا کفار وبہ ناخذ۔

اور روافض زمانہ توہرگز صرف تبرائی نہیں،بلکہ یہ تبرائی علی العموم منکران ضروریات دین اور باجماع مسلمین یقینا قطعا ً کفار مر تدین ہیں،یہاں تک کہ علمائے کرام نے تصریح فرمائی کہ جوانہیں کافر نہ جانے،وہ خود کافر ہے۔بہت عقائد کفریہ کے علاوہ دو کفرصریح میں ان کے عالم جاہل،مردو،عورت،چھوٹے، بڑے سب بالاتفاق گرفتار ہیں“۔
(رسالہ ردالرفضہ ص 259-فتاویٰ رضویہ مترجم جلد 14:جامعہ نظامیہ لاہور)

توضیح:مذکورہ بالا عبارتوں میں کافرفقہی وکافر کلامی دونوں کے لیے ”من شک فی کفرہ فقدکفر“کا اصول استعمال کیا گیا۔(2)اور(3) میں کافر فقہی کے لیے (من شک:الخ)کا استعمال ہے اور (4)میں کافر کلامی کے لیے (من شک:الخ)کااصول استعمال ہوا ہے۔

واضح رہے کہ متکلمین کفر فقہی قطعی کوضلالت کہتے ہیں۔یہ اصطلاح وتعبیر کااختلاف ہے۔

(3)”من شک:الخ“ کا اصول اسماعیل دہلوی کے لیے استعمال ہوا جو کافر فقہی تھا۔

اس کی گمرہی پھیل رہی تھی۔اسی کے سدباب اور عوام کومحفوظ رکھنے کویہ استعمال کیا گیا۔

(4)یہ اصول مسلک دیوبند کے اشخاص اربعہ اورقادیانی کے لیے استعمال ہوا۔یہ سب کافر کلامی تھے۔ان لوگوں کی گمرہی پھیل رہی تھی۔اس کا سد باب ضروری تھا۔

المعتمد المستند میں سرسید کی تکفیر کی گئی،لیکن حسام الحر مین کے استفتا میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا،کیوں کہ نہ وہ مذہبی رہنما کی حیثیت سے متعارف تھا،نہ ہی وہ اپنے مذہب کی تبلیغ کرتا،نہ لوگو ں کواس کی دعوت دیتا۔انگریزوں اور سائنس دانوں کے اطمینان قلب کی خاطر اس نے وہ تحریریں لکھا تھا۔ان تحریروں میں بہت سے کفریات کلامیہ تھے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نیم روافض کا حکم شرعی

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ چند سالوں سے سنی کہلانے والوں میں ایک طبقہ اسلاف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے