ائمہ قرات سبعہ اور ان کے راویوں کے مختصر حالات

تحریر: خلیل احمد فیضانی
معاون: ذاکر حسین فیضانی

قراءت سبعہ یا سات قراء ان قراء کو کہا جاتا ہے جن سے قرآن کریم کی قراءت کے سلسلہ میں متعدد روایتیں وارد ہؤی ہیں ,ان روایتوں میں بعض جگہوں پر کلمات ,اعراب (زبر,زیر,پیش)
وغیرہ کا اختلاف پایا جاتا ہے -علوم قرآن کی متداول کتابوں میں ان قراء کے نام اس طرح درج ہیں :عاصم بن بہدلہ کوفی ,حضرت سیدنا امام نافع مدنی , حضرت سیدنا امام ابو عمر بصری ,حضرت سیدنا امام کسائی, حضرت سیدنا امام عبد اللہ ابن عامر شامی ,حضرت سیدنا ابن کثیرالمکی ,حضرت سیدنا حمزہ کوفی [ویکیپیڈیا ]

ان ائمہ کرام نے اپنی زندگیوں کو قرآن پاک کی خدمت کے لیے وقف فرمادیاتھا, جہاں خود انتھک کاوشیں کیں وہیں مایہ ناز و وفادار شاگرد بھی ایسے پیدا کیے کہ جنہوں نے ان کی روایات کو دنیا بھر میں عام فرماکر امت پر احسان فرمایا حصول فیض کے خاطر اختصار کے ساتھ ہر ایک کے حالات پیش خدمت ہیں ملاحظہ فرماءیں

(۱) سیدنا امام عاصم کوفی علیہ الرحمہ
آپ تقریبا سنه ھ۳۳ میں پیدا ہوئے اور سنه ھ ۱۲۷ میں کوفہ میں وفات ہوئی آپ کی کنیت ابوبکر ہے,آپ تابعین میں سے ہیں امام ابوحنیفہ نے آپ ہی سے قرات حاصل کی اس وجہ سے اور بھی آپ کی قراءت بہت مروج ہوگئ آپ بہت عمدہ لحن سے کلام اللہ پڑھتے تھے جس کی اس وقت کوئی مثال نہ تھی آپ علاوہ قراءت کے نحو لغت حدیث و فقہ کے امام بھی تھے آپ بڑے عابد و زاہد تھے تھے نماز بکثرت پڑھتے تھے تقریبا 50 سال کوفہ میں قرات کی مسند پر متمکن رہے-
آپ علیہ الرحمہ کی قراءت صرف ایک ہی واسطہ سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تک پہونچتی ہے یعنی آپ نے حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ و ابی ابن کعب و عبد اللہ ابن مسعود و زید ابن ثابت رضی اللہ تعالی عنھم سے پڑھا اور ان حضرات عظام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اکتساب فیض کیا -نیز ایک سلسلہ سے دو واسطوں سے پہونچتا ہے یعنی آپ نے ابو عبد الرحمن عبد اللہ ابن حبیب سلمی رضی اللہ تعالی عنھما سےاور انہوں نے حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ سے اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے پڑھا ,ترجیح اسی سلسلہ کو ہے-
آپ کے پہلے راوی شعبہ ہیں, آپ سنه ھ۹۵ میں کوفہ میں پیدا ہوۓ اور ۲۱جمادی الاول سنہ ھ۱۹۳میں کوفہ ہی میں آپ کی وفات ہؤی آپ کی کنیت ابو بکر ہے امام کسائی جیسے ائمہ آپ کے شاگرد ہیں آپ کے حالات میں جو خاص قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ تقریبا ستر سال تک یاد الہی میں مشغول رہے چالیس برس تک اپنے بستر نہیں لگایا اور نہ آپ نے ان دونوں دن اور رات میں زمین سے پیٹھ لگائ اپنی زندگی میں چوبیس ہزار کلام اللہ ختم کیے آپ خود فرماتے ہیں کہ میں تیس سال سے ہر روز ایک قرآن ختم کرتا ہوں آپ حافظ حدیث بھی تھے ابن المبارک فرماتے ہیں کہ: میں نے آپ سے زیادہ سنت پر عمل کرنے والا کوئی نہیں دیکھا آپ خود فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی کوئی کام خلاف شریعت نہیں کیا آپ کے دوسرے راوی حفص ہیں آپ سنه۹۰ ھ میں پیدا ہوۓ اور سنه ھ۱۸۰میں کوفہ میں آپ کی وفات ہوئی آپ کی کنیت ابو عمر ہے آپ بوجہ قوت حافظہ اور یادداشت کے بڑی فضیلت والے تھے امام ابوحنیفہ کے ساتھ تجارت کرتے تھے ممکن ہے آپ کی روایت زیادہ رائج ہونے کی یہی وجہ ہو کہ امام صاحب اور آپ کا تجارت میں بہت ساتھ رہا ہے آپ کی روایت کو خداداد مقبولیت حاصل ہے حتی کہ کلام اللہ میں اعراب و نقطے بھی آپ ہی کی روایت کے مطابق لگوائے گئے ہیں آسانی کی وجہ سے ہر شخص آپ ہی کی روایت پڑھتا پڑھاتا ہے –

(۲ )حضرت سیدنا امام نافع مدنی رضی اللہ تعالی عنہ
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا نام نافع ہے اور کنیت ابورویم آپ کے والد کانام عبد الرحمن ہے جو اصلا اصفہان کے رہنے والے تھے –
لیکن آپ کی پیدائش سن ھجری ۷۰میں مدینہ منورہ میں ہؤی
آپ جب قرأت فرماتے تھے تو آپ کے منہ سے مشک کی خوشبو آتی تھی آپ کے تلامذہ میں سے کسی نے اس کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ خواب میں صاحب قرآن صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے میرے منہ سے متصل قراءت فرمائی اسی وقت سے یہ خوشبو مسلسل آرہی ہے
آپ بلا اختلاف مدینہ منورہ میں قراءت کے امام مانے گئے ہیں اسی طرح آپ رسم قرآنی کے بهی امام ہیں -سنه ۱۶۹میں مدینہ منورہ میں آپ کی وفات ہؤی
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی قراءت تین واسطوں سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تک پہونچتی ہے –
آپ نے تقریبا ستر تابعین عظام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین سے قراءت کی تعلیم حاصل کی جن کا سلسلہ قراءت کچھ یوں ہے :امام نافع امام جعفر یزید سے امام جعفر یزید حضرت سیدنا ابوہریرہ وابن عباس و عبد اللہ ابن عیاش رضی اللہ تعالی عنھم سے یہ تینوں حضرات ابی ابن کعب سے اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اکتساب فیض کیا –
آپ کے پہلے راوی قالون ہیں- آپ کی پیدائش سنه ھ۱۲۰ کو مدینہ منورہ میں ہؤی قالون آپ کا لقب ہے قرآن پاک کو نہایت خوش الحانی سے پڑھنے کی بنیاد پر آپ کے استاذ گرامی کی طرف سے آپ کو عطا ہوا آپ کا نام عیسی ہے اور کنیت اپو موسی آپ کے والد کا نام میناء ہے- آپ کی سماعت میں کچھ تکلف تھا مگر قرآن پاک بلاتکلف سنتے تھے سنه ھ ۲۲۰میں مدینہ ہی میں آپ کی وفات ہؤی
آپ کے دوسرے راوی ورش ہیں- آپ سنه ھ۱۱۰میں مصر کی سرزمین پر پیدا ہوۓ آپ کا نام عثمان اور کنیت ابوسعید اور روش آپ کا لقب ہے –
محض قراءت حاصل کرنے کی غرض سے مصر سے مدینہ شریف امام نافع کی خدمت میں آۓتھے آپ گورے رنگ کے تھے بریں بنا آپ کو ورش کہا جاتا ہے یعنی دودھ کی طرح شفاف _
آپ بہت ہی خوش الحان تھے اور اکثر ترتیل ہی میں قرآن پاک پڑھتے تھے قرآت سے فارغ ہوکر سنه ھ ۱۵۵میں مصر تشریف لے گئے وہاں لوگوں نے متفقہ طور پر آپ کو تجوید و قرآت کا امام تسلیم کیا سنه ھ۱۹۷میں مصر میں آپ کی وفات ہؤی

(۳) حضرت سیدنا امام ابو عمرو بصری علیہ الرحمہ
آپ مکہ معظمہ میں سنه ھ۶۸میں خلیفہ عبد الملک کے زمانے میں پیدا ہوۓ اور سنه ھ۱۵۴میں بزمانہ خلافت منصور کوفہ میں آپ کی وفات ہؤی آپ کے والد کا نام العلا بن عمار تھا اسی وجہ سے آپ ابن العلا بھی کہے جاتے ہیں آپ بصرہ کے رہنے والے تھے آپ کے آبا و اجداد سب خالص العرب ہیں آپ کو مازنی اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ کا تعلق قبیلہ مازن سے تھا قراءت کے علاوہ بہت سارے علوم میں آپ کا کؤی ثانی نہیں تھا آپ قراءت ,نحو ,لغت میں ماہر تھے اس کے باوجود وجوہ مرویہ سے عدول نہیں کرتے تھے آپ خود فرماتے ہیں کہ میں نے کلام اللہ میں ایک حرف بھی نقل کے بغیر اپنی راۓ سے نہیں پڑھا امام احمد فرماتے ہیں کہ ابو عمرو کی قراءت مجھ کو بیحد پسند ہے بصرہ کے اندر آپ سے بہتر کؤی قاری نہیں تھا ہر شخص بلا اختلاف آپ کو بلااختلاف امام تسلیم کرتا تھا لوگ ہمہ وقت آپ کی خدمت میں تحصیل علم کے لیے حاضر رہتے تھے آپ بہت بڑے عادل و عابد تھے امور خیر میں مال خرچ کرتے تھے اور قابلیت میں منفرد المثال تھے نیز آپ حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ کے ہم عصر تھے-
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی قراءت تین واسطوں سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تک پہونچتی ہے آپ نے امام جعفریزیدی سے انہوں نے حضرت سیدنا عمر بن خطاب و ابی بن کعب سے ان دونوں نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اکتساب فیض کیا –
آپ کے پہلے راوی دوری ہیں آپ سنه ھ۱۵۰میں اپنے وطن میں پیدا ہوۓ اور سنه ھ۲۴۶میں بمقام سامرہ میں آپ کی وفات ہؤی -آپ کا نام حفص ہے اور کنیت ابو عمر ہے آپ نابینا تھے -بغداد میں ایک موضع ہے دور نامی یہیں کے آپ رہنے والے تھے اسی وجہ سے آپ دوری کہلاۓ آپ اپنے زمانے کے بڑے جید عالم تھے -آپ نے فن قراءت میں کؤی کتاب بھی لکھی تھی اس کا پتہ نہ چل سکا کہ کیا ہؤی –
دوسرے راوی سوسی ہیں آپ کی تاریخ پیدائش کا پتہ نہ چل سکا کہ کس سن میں پیدا ہوۓ آپ کی وفات سنه ھ۲۶۱میں بمقام رقہ میں ہؤی یہ مقام ربیعہ کی سرزمین میں دریاۓ فرات کے کنارے واقع ہے وہیں آپ کا قیام تھا آپ کا نام صالح ہے اور کنیت ابوشعیب ہے -آپ کا پیدائشی وطن سوس ہے اس لیے آپ سوسی کہلاتے ہیں آپ علامہ یحی یزیدی کے بڑے چہیتے شاگرد تھے_
(۴) حضرت سیدنا امام کسائی کوفی علیہ الرحمۃ
آپ سنه ھ۱۱۹میں کوفہ میں پیدا ہوۓ اور سنه ھ۱۸۹میں خراسان جاتے ہوۓ مواضع انبویہ میں آپ کی وفات ہؤی -آپ کا نام علی ہے اور کنیت ابو الحسن ہے آپ ہمیشہ کمبل اوڑھے رہتے تھے اسی وجہ سے امام حمزہ آپ کو کساءی کہا کرتے تھے اور اسی نام سے آپ دنیا بھر میں مشہور بھی ہوۓ -آپ تبع تابعین میں سے ہیں آپ علاوہ فن قراءت کے تجوید اور نحو کے بھی جلیل القدر امام ہوۓ ہیں سیبویہ اور علامہ خلیل نحوی کے آپ ہم عصر تھے کتاب النحو آپ کی تصنیفات سے ہے اس کے علاوہ آپ کی اور تصنیفات بھی ہیں قراءت سبعہ میں سے ساتویں قراءت آپ پر ختم ہوتی ہے-
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی قراءت پانچ واسطوں سے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تک پہونچتی ہے اس طور پر کہ آپ نے حضرت سیدنا امام حمزہ سے انہوں نے سلیمان سے سلیمان نے ابو یحی سے ابو یحی نے ابوشبلی سے ابوشبلی نے حضرت سیدنا عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے اور آپ نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اکتساب فیض کیا –

آپ کے پہلے راوی ابو الحارث ہیں آپ کے سنه ھ پیدائش کا پتہ نہیں چلا کہ کس سنه میں آپ پیدا ہوۓ لیکن آپ کی وفات کا سنه ھ ۲۴۰ہے بغداد شریف میں آپ کی وفات ہوءی آپ اپنی کنیت سے مشہور ہیں آپ کا نام لیث ہیں آپ کے والد کا نام خالد ہے آپ بڑے ثقہ تھے آپ فن قراءت کے ماہر تھے اور علم نحو سے بھی کافی شغف تھا آپ امام کسائی کے بڑے چہیتے شاگردوں میں سے ہیں-
دوسرے راوی دوری ہیں جو امام ابو عمرو بصری کے بھی راوی ہیں آپ ہی وہ واحد شخصیت ہے کہ بیک وقت دو امام سے روایت کرتے ہیں مگر حزم و احتیاط کا یہ عالم کہ روایت میں کہیں بھی خلط نہیں ہونے دیا واقعی یہ ثقاہت کا اعلی ترین درجہ ہے-
(۵) سیدنا امام ابن عامر شامی علیہ الرحمہ
آپ دمشق کے موضع جابیہ سنه ھ ۲۱ میں پیدا ہوۓ اور دمشق ہی میں ۱۰محرم الحرام سنه ھ۱۱۸میں آپ کی وفات ہؤی آپ کا نام عبداللہ ہے آپ کے والد کا نام عامر تھا اس وجہ سے آپ ہمیشہ ابن عامر ہی کہے جاتے تھے آپ کی کنیت ابو عمران ہے آپ ملک شام کے فتح ہونے کے بعد دمشق میں مقیم ہوگئے تھے قراۓ سبعہ میں سے بلحاظ زمانہ آپ سب سے مقدم ہیں اسی وجہ سے بعض نے بلحاظ ترتیب رجال ابن عامر کو نافع پر مقدم کیا ہے آپ تابعی ہیں اور خالص العرب ہیں – آپ قبیلہ یحصب سے تھے اس لیے آپ یحصبی بھی کہے جاتے تھے آپ دمشق کے قاضی تھے پھر بعد میں امام و خطیب مقرر ہوۓ بعض قول کی بنا پر آپ کی عمر ایک سو اسی سال کی تھی خلیفہ وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز آپ ہی کی اقتدا میں نماز پڑھتے تھے-
سیدنا امام عامر شامی علیہ الرحمۃ کی قراءت صرف ایک واسطہ سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تک پہونچتی ہے یہ خصوصیت آپ کو اور سیدنا امام عاصم رضی اللہ تعالی عنہ کو حاصل ہے, آپ نے حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ سے اور حضرت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اکتساب فیض کیا –
آپ کے پہلے راوی ہشام ہیں آپ سنه ھ۱۵۳میں پیدا ہوۓ اور سنه ھ 245 میں دمشق میں آپ کی وفات ہوئی آپ کی کنیت ابو الولید ہے دمشق کے قاضی اور مفتی اور جامع مسجد کے امام و خطیب تھے آپ علم و فضل میں یکتائے روزگار تھے اور عقل و نقل میں وحید العصر تھے- دوسرے راوی ابن ذکوان ہیں آپ دس محرم الحرام سنه ھ۱۷۳ میں پیدا ہوئے اور شوال۲۴۲ ھ میں دمشق میں آپ کی وفات ہوئی آپ کے دادا کا نام ذکوان تھا اس وجہ سے آپ ابن ذکوان کہے جاتے تھے آپ سے بہت سے محدثین حدیث روایت کرتے ہیں آپ دمشق کے امام بھی رہے ولید بن عتبہ اور ابو زرعہ فرماتے ہیں کہ مشرق وسطی میں آپ سے اچھا قرآن پاک پڑھنے والا کؤی نہیں تھا-
(۶)حضرت سیدنا امام ابن کثیر مکی علیہ الرحمہ
آپ مکہ معظمہ میں سنه ھ ۴۵میں پیدا ہوۓ اور مکہ ہی میں سنه ھ۱۲۰میں آپ کی وفات ہؤی آپ نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا زمانہ پایا ہے تو اس لیے آپ تابعین میں سے ہیں -علوم نقلیہ میں آپ کا درجہ بہت بلند ہے چناں چہ علاوہ قراءت کے آپ حدیث کے بھی امام ہیں علامہ خلیل نحوی ,ابو عمرو بصری امام شافعی جیسے جلیل القدر ائمہ آپ سے قراءت نقل کرتے ہیں آپ مکہ مکرمہ میں عطر کی تجارت کرتے تھے اور پھر ایک عرصہ تک عراق میں بھی مقیم رہے لیکن پھر بعد میں مکہ المکرمہ کے قاضی مقرر کردئے گئے یہاں پر بلااختلاف سب نے آپ کو قراءت کا امام تسلیم کیا
سیدنا امام ابن کثیر مکی علیہ الرحمہ کی قراءت دو واسطوں سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تک پہونچتی ہے آپ اپنے مشہور استاذ امام مجاہد سے امام مجاہد نے امام ابی ابن کعب و سیدنا عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالی عنھما سے ان دونوں نے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اکتساب فیض کیا _
آپ کے پہلے راوی ہیں بزی ,آپ علیہ الرحمہ مکہ المکرمہ میں سنه ھ ۱۷۰میں پیدا ہوۓ اور باختلاف اقوال سنه ھ۲۴۰یا ۲۵۰میں آپ کی وفات ہؤی -آپ کا نام احمد ہے اور کنیت ابو الحسن ہے آپ کے والد گرامی کا نام محمد ہے ,آپ کو بزی اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ کے پردادا کی کنیت ابوبزہ تھی آپ چالیس سال تک مکہ المکرمہ کے موذن و امام رہے -آپ اپنے زمانے میں متفقہ طور پر شیخ القراء و شیخ الحدیث تسلیم کیے گئے حجاز کے اندر آپ سے بہتر کؤی قاری نہیں تھا قرب و جوار کے لوگ اکثر آپ کے پاس قراءت سیکھنے کے لیے آتے تھے امام ابن کثیر مکی یعنی آپ ہی کے استاذ کے دوسرے راوی قنبل علیہ الرحمہ نے بھی آپ سے کچھ ایام پڑھا –
دوسرے راوی قنبل ہیں آپ سنه ھہ۱۹۵میں مکہ المکرمہ میں پیدا ہوۓ اور سنه ھ۲۹۱ میں مکہ میں ہی وفات ہؤی آپ کا نام محمد ہے اور کنیت ابو عمر ہے قنبل آپ کا لقب ہے اس لیے کہ آپ قبیلہ قنابلہ سے ہیں مکہ المکرمہ میں اب تک آپ کا خاندان قنابلہ کی طرف منسوب ہے آپ کے والد کا نام عبد الرحمن ہے آپ حجاز کے شیخ القراء تھے بہت سارے لوگوں نے آپ سے فن قراءت حاصل کیا-
( ۷)حضرت سیدنا امام حمزہ کوفی علیہ الرحمہ
آپ سنه ھ۸۰ھ میں کوفہ میں پیدا ہوۓ اور سنه ھ ۱۵۶ میں حلوان میں آپ کی وفات ہؤی آپ کی کنیت ابو عمارہ ہے آپ تابعی ہیں بڑے عابد,زاہد , صابر,ذاکر متقی تھے ابن فضل فرماتے ہیں کہ حمزہ کے باعث بلا دور ہوتی ہے-
آپ قرآن پاک اور حدیث شریف دونوں کے امام ہوۓ ہیں آپ خود فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے ایک ہزار حدیثیں سند کے ساتھ روایت کی ہیں –
پڑھانے کے بعد آپ چار رکعت نماز پڑھتے تھے رات کے اکثر حصہ بیدار رہتے تھے ,آپ پڑھانے پر تنخواہ نہیں لیتے تھے ,امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا کہنا ہے کہ امام حمزہ فن قراءت میں ہم سے فأق تھے –
کلام اللہ پڑھنے میں ترتیل اختیار فرماتے تھے آپ نے دیگر شیوخ کے علاوہ امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی قرآن پاک پڑھا ہے- -حضرت سفیان ثوری اور شریک ابن عبد اللہ جیسے جلیل القدر ائمہ فقہ آپ کے تلامذہ میں سے ہیں_
سیدنا امام حمزہ کوفی علیہ الرحمہ کی قراءت چار واسطوں سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تک پہونچتی ہے آپ نے حضرت سلیمان اعمش سے حضرت سیدنا امام اعمش رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ابو یحی رضی اللہ تعالی عنہ سے حضرت ابو یحی رضی اللہ تعالی نے حضرت ابو شبلی علقمہ سے حضرت ابو شبلی علقمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت سیدنا عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے انہوں نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اکتساب فیض کیا –
آپ کے پہلے راوی خلف ہیں آپ سنه ھ۱۵۰ میں پیدا ہوۓ اور جمادی الثانی سنه ھ ۲۲۹میں بغداد میں آپ کی وفات ہؤی -آپ کی کنیت ابو محمد ہے اور والد کا نام ہشام بزار ہیں اسی وجہ سے آپ خلف بزار بھی کہے جاتے ہیں –
آپ نے بچپن ہی میں کلام اللہ حفظ کرلیا تھا ایک واقعہ آپ کا بہت مشہور ہے کہ ایک بار کسی عربی لفظ کے سمجھنے میں کؤی دشواری پیش آٔی تو اس کے حل کرنے کے سلسلہ میں اسی ہزار درہم خرچ کردیے تھے باالاخر آپ نے اس کو حل کرکے چھوڑا –
مسلم اور ابو داؤد و غیرھما نے آپ سے حدیثیں روایت کی ہیں آپ کے زہد کا عالم یہ تھا کہ آپ اکثر روزے رکھا کرتے تھے ,اللہ تعالی نے آپ کو علم قراءت میں ایسی فضیلت عطا فرمأی کہ آپ دسوں قرأتوں کے امام ہوۓ –
دوسرے راوی حضرت خلاد ہیں -اس کا پتہ نہ چل سکا کہ آپ کس سنه ھ میں پیدا ہوۓ البتہ آپ کی وفات کا ذکر کتابوں میں ملتا ہے ,آپ کی وفات کوفہ میں سنه ھ ۲۲۰میں ہؤی آپ کی کنیت ابو عیسی ہیں اپ نہایت ہی ثقہ و محقق فن تھے ترمذی اور ابن خزیمہ کی صحیح حدیثوں میں سے آپ سے بھی ایک ایک حدیث مروی ہے. (عزیز القاری )

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ذکی احمد، شخصیت اور شاعری: ایک مطالعہ

تحریر: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی، نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے