جہیز نقد اور دین مہر ادھار؟؟؟

ازقلم: کنیز فاطمہ رضوی، رام گڑھ (جھارکھنڈ)

جہیز اتنی ضروری اور عام رسم بن گئ ہے کہ لوگ جہیز کے بغیر شادی کاتصور ہی نہیں کرتے، یہ ایک معاشرتی برائی بن گئی ہے، جو کہ ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے- حال ہی میں سوشل میڈیا پرعائشہ کےبارے میں پڑھی، یوٹوب پر بھی دیکھی، تو لکھنے پر مجبور ہو گئ- عائشہ جس کا تعلق گجرات سے ہے، وہ جہیز کی وجہ سے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھی،(خودکش کر لی)
جہیز لینے کے لیے آج ہر شخص تیار بیٹھا ہے، کچھ ہی ایسے ہیں جو اس چیز کو برا سمجھتے ہیں اور جہیز کا ڈیمانڈ نہیں کرتے.ورنہ اکثر کا معاملہ خراب ہے. موٹی موٹی رقم اور مہنگے مہنگے سامان کی فرمائش ہوتی ہے اور دین مہر جو شادی کے لیے ضروری ہے اسے بالائے طاق رکھ دیتے ہیں، مہر کی کوئی حیثیت ہی نہیں سمجھتے اور اسے ادھار رکھتے ہیں، پھر آگے چل کر کچھ دنوں میں یا زندگی کے آخری ایام میں معافی تلافی سے کام چلاتے ہیں. جس چیز کی اہمیت تھی اسے گھٹا دیا گیا ہے اور اسلامی طریقے سے بہت دور نکل چکے ہیں.
کسی نے صحیح کہا ہے :

طریقہ مصطفیٰ کو چھوڑنا ہے وجہ بربادی
اسی سے قوم دنیا میں ہوئی بے اقتدار اپنی

جہیز کی رسم کو خواتین کچھ کنٹرول کرنا چاہیں تو کر سکتی ہیں- کیوں کہ مائیں بھی کبھی بیٹیاں تھی، کیا وہ یہ بات بھول گئی کہ جب ان کی شادی ہورہی تھی اور ان کے والدین سے جہیز کے طور پر روپے پیسے وغیرہ لیے جارہے تھے تو انھیں کیسا محسوس ہورہا تھا، اس وقت لڑکے والوں پر انھیں کتنا غصہ آرہا ہوگا.
مگر آج وہی لڑکیاں جب ماں بن جاتی ہیں اور اپنے بیٹوں کو پڑھا، لکھا کربڑا آدمی بناتی ہیں تو ان کی شادی کے وقت اب وہ مائیں بھی اپنے شوہروں کے ساتھ بیٹے کے سسرال والوں سے جہیز کی فرمائش کرتی ہیں اور شوہروں کے دوس بدوش چلتی ہیں بلکہ کچھ ساس تو ایسی بھی ہوتی ہیں کہ وہ اپنی بہوؤں کی زندگی دوبھر کردیتی جہیز کی وجہ سے_ کیا وہ دن بھول گئیں جب جہیز کی وجہ سے ان کے ماں باپ بھی پریشان تھے، قرض میں مبتلا ہو گئے تھے- اس وقت یہی بیٹیاں جو اب مائیں بن گئ ہیں، کہتی تھی اے میرے مولا بیٹی دےتوغریبی نادے اور غریبی دے تو بیٹی نا دے-
میں ایسے ماؤں سے گزارش کرتی ہوں کہ وہ ایسے کاموں سے باز آجائیں.
وہ نکاح بابرکت ہےجس میں بوجھ ومشقت کم ہو یعنی نہ جہیز دیناپڑے نہ مہر زیادہ ہو-
آقائے دو جہاں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے: نکاح میری سنت ہے- مگرافسوس آج شادی کے نام پر جہیز لوٹتے ہیں (جہیز کے نام پر قتل کیا جا رہا ہے مگر پتہ نہیں چل پاتا ہے کیسے قتل کیا جا رہا ہے جیسے عائشہ کے ساتھ ہوا) جس کی وجہ سے لوگ لڑکیوں کی پیدایش کے وقت ہی سے اپنے اوپر بوجھ محسوس کرنے لگتے ہی- بیٹوں کی شادی میں لوگ قرض لیتے اور جائداد گروی رکھتے ہیں – یہی وجہ ہے کہ لڑکی کی پیدایش کو ایک مصیبت اور بوجھ سمجھا جارہا ہے-
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضور صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز دیا تھا، لہٰذا جہیز دینا سنت ہے(جہاں ڈیمانڈ نہیں ہوتا ہے وہاں بھی لڑکی والے سنت سمجھ کر جہیز دیتے ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ لڑکے کی طرف سے مانگ نہیں ہے مگر پھر بھی ہم دے رہے ہیں، کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی فاطمہ کو جہیز دیا تھا) -لیکن یہ خیال بالکل غلط ہے اور جھوٹی ہے-حقیقت یہ ہے کہ حضور صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سر پر ست تھے – شادی کےبعد ان کا گھر بسانے کے لیے چند نہایت ضروری چیزیں اس رقم سے منگوا دیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نےحق مہرکےطور پردی تھی- ورنہ اگر جہیز دینا ہوتا تو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دوسرے بیٹیوں کو بھی جہیز دیتے – اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی دوسری بیٹیاں جن گھروں میں بیاہی گئیں وہاں گھر یلو ضرورت کے سامان پہلے سے ہی موجود تھے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا پہلے سے اپناکوئی سامان گھر میں موجود نہ تھا-ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت حارث انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا ایک مکان انھیں پیش کیا – جس کے لیے بہر حال تھوڑے بہت گھریلو سامان کی ضرورت تھی جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مہر کی رقم سے تیار کروایا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شادی سے پہلے ادا کی تھی-نہ تو حضور صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دوسری بیٹیوں کو جہیز دیا اور نہ ہی امہات المومنین میں سے کسی نے جہیز لائیں – اگر جہیز دیناسنت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہوتا تو صحابہء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی اپنی بیٹیوں کو جہیز دیتے لیکن اس کی کوئی مثال نہیں ملتی – حالاں کہ صحابہء کرام کو سنت نبوی پر عمل کرنا سب سے زیادہ محبوب ومطلوب تھا-
حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے جہیز کا سامان مہر کی رقم سے تیار کیا گیا تھا – کیوں کہ گھریلو سامان کی اشد ضرورت تھی تو-اس سے معلوم ہوا کہ یہ جہیز دینا سنت نہیں ہے، بلکہ زمانے والے اپنے مطلب کے لیے سنت قرار دے رہے ہیں – یہ محض غلط، بے بنیاد اور بلکل نا جائز ہے.

ہم ہمیشہ اس مسئلے کو نظر انداز کر تےرہےہیں-بلکہ اسے زندگی کے فرائض میں ضروری سمجھتے ہیں - جس طرح ہر انسان کے لیے فطری لحاظ سے شادی ضروری ہے-اسی طرح ہر شادی میں لڑکی کے لیے جہیز بھی ضروری سمجھ لیا گیا ہے - یہ ازدواجی راہوں میں ایک بھاری رکاوٹ ہے - جو معاشرے میں رستا ہوا ناسور بن گیا ہے - کئ لڑکیوں کی زندگی انتہائی ذلت میں ڈھکیل دی جاتی ہیں - اور ان کی آہوپکار پر کسی نے آج تک توجہ نہیں دی -

اٹھیے اور اس زہریلے رسم کے خلاف اپنےحصےکا تریاق مہیا کیجیے آپ معاشرے میں جس مقام پر بھی ہیں، اس کےمطابق اپنا کردار ادا کیجئے تاکہ قیامت کے دن اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سر خرو ہو سکے_
ایسا کام بالکل بھی نہ کریں جس کی وجہ سے عائشہ جیسی لڑکیوں کو خودکشی کرنا پڑے. عورتوں کا زور اکثر گھروں میں چلتا ہے اگر وہ چاہیں تو ضرور معاشرے میں کچھ سدھار آسکتا ہے. میں اپنی عالمہ بہنوں سے بھی گزارش کرتی ہوں کہ وہ اپنی تقریروں میں عورتوں کو جہیز کی لعنت کے حوالے سے کچھ بتائیں اور ضروری باتیں بتائیں کہ شادی کا سنت طریقہ کیا ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

استقبالِ رمضان اور لاک ڈاؤن

تحریر: شگفتہ عبدالخالق، ممبرامضمون نگار معلمہ اور داعیہ بھی ہیں۔ جوں ہی حکومت کی طرف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے