الاربعین لصاحب جوامع الکلم و الحکمﷺ (پہلی حدیث)

ازقلم: بنت مفتی عبدالمالک مصباحی، جمشیدپور

نیت کی اہمیت

عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ” يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ هَاجَرَ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ. (صحيح البخاري، كِتَابُ الْحِيَلِ، بَابٌ: فِي تَرْكِ الْحِيَلِ، الحدیث : 6953)
ترجمہ : حضرت علقمہ بن وقاص سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر بن الخطاب – رضي الله عنه – سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال نیتوں کے ساتھ ہیں ۔ اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ لہذا جس نے اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی جانب ہجرت کی تو اس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ ہی کی جانب ہے۔ اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہے جسے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے یا عورت کے لیے ہے جس سے وہ نکاح کی خواہش رکھتا ہے تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہوگی جس کی جانب اس نے ہجرت کی-

تشریح و توضیح:

اس حدیث کی جامعیت
صاحب جامع الکلم – ﷺ – کی جامع احادیث میں سے محدثین نے حدیث بالا کو سر فہرست شمار کیا ہے؛ چناں چہ حضرت ابو عبد اللہ – رحمة الله عليه – نے فرمایا :
ليس في أخبار النبي صلى الله عليه وسلم شيء أجمع وأغنى وأكثر فائدة من هذا الحديث – (فتح الباری بشرح صحیح البخاري لحافظ ابن حجر عسقالی، ج١، ص٣٣، مطبوعہ دار الطیبه)
ترجمہ : نبی کریم – ﷺ – سے منقول اخبار (حدیثوں) میں اس سے زیادہ جامع اور مفید کوئی حدیث نہیں –
اور امام ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے :
واتفق عبد الرحمن بن مهدي والشافعي فيما نقله البويطي عنه وأحمد بن حنبل وعلي بن المديني وأبو داود والترمذي والدارقطني وحمزة الكناني على أنه ثلث الإسلام، ومنهم من قال ربعه.؛ (ایضاً)
ترجمہ : حضرات محدثین کرام عبد الرحمن بن مہدی، امام شافعی، احمد بن حنبل، علی بن مدینی، ابو داؤد، ترمذی، دار قطنی اور حمزہ کنانی نے بالاتفاق ذکر کیا کہ یہ حدیث "اسلام کی تہائی” ہے، اور ان میں سے بعض نے چوتھائی اسلام کہا –
فائدہ : ان اقوال کی تفصیل اور صراحت کے لیے محدث ابن رجب حنبلی – رحمة الله عليه – کی کتاب "جامع العلوم و الحکم” کی طرف رجوع کرنا چاہیے –

اس حدیث کے تہائی اسلام ہونے کی وجہ :
امام بیہقی نے اس حدیث کے "ثلث الاسلام” ہونے کی وجہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا :
کونه ثلث العلم بأن كسب العبد يقع بقلبه ولسانه وجوارحه، فالنية أحد أقسامها الثلاثة وأرجحها؛ لأنها قد تكون عبادة مستقلة وغيرها يحتاج إليها، ومن ثم ورد: ” نية المؤمن خير من عمله” – (ایضا)
ترجمہ :اس حدیث کے تہائی علم یا اسلام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انسان کا کسب (عمل) دل، زبان اور ہاتھ پاؤں سے وقوع پذیر ہوتا ہے، اور نیت ان تینوں میں راجح ہے کیوں کہ یہ بھی مستقل عبادت ہوتی ہے اور اس کے علاوہ دوسرے (عبادات صحیح ہونے میں نہیں باعث اجر و ثواب ہونے میں) اس کے محتاج ہوتے ہیں، اسی لیے وارد ہے "مؤمن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے” –
یہی وجہ ہے کہ علامہ ابن رجب حنبلی نے لکھا ہے، جس خلاصہ یہ ہے کہ اس حدیث سے فقہاء و متکلمین نے تو ہزاروں مسائل مسنبط کیے ہیں ہی لیکن ساتھ ہی صوفیاء و عارفین نے بھی اس حدیث کی خوب توضیح و تشریح کی ہے جس کے ذریعے تصوف و معرفت کے منازل طے کیے نیز مزید فرماتے ہیں : وهي التي توجد كثيرا في كلام السلف المتقدمين. وقد صنف أبو بكر بن أبي الدنيا مصنفا سماه: كتاب ((الإخلاص والنية)) – (جامع العلوم و الحکم لابن رجب الدمشقي الحنبی، ص ٣٧، مطبوعہ دار ابن کثیر دمشق بیروت) یعنی یہی وجہ ہے کہ عارفین میں سے بہت سے بزرگ کے اقوال و کلام اسی حدیث کی روشنی میں ہیں اور اسی حدیث کی روشنی میں کتابیں بھی لکھی گئی جن میں سے حضرت ابو بکر ابن ابی الدنیا کی کتاب "الإخلاص و النیة” بھی ہے – ایک مثال "افضل الکتب بعد کتاب الله” یعنی بخاری شریف سے بھی لے لیتے ہیں جس کی وضاحت علامہ بد الدین عینی نے یوں فرمائی ہے : قد ذكره في ستة مواضع أخرى من صحيحه عن ستة شيوخ آخرين أيضا- الأول : في الإيمان في باب ما جاء إن الأعمال بالنية الثاني : في العتق في باب الخطأ والنسيان في العتاقة والطلاق ونحوه الثالث : في باب هجرة النبي صلى الله عليه وسلم الرابع : في النكاح في باب من هاجر أو عمل خيرا لتزويج امرأة فله ما نوى الخامس : في الإيمان والنذور في باب النية في الإيمان السادس : في باب ترك الحيل – (عمدة القاري لعلامة بدر الدین عینی، ج١، ص٥٠، مطبوعہ دار الکتب العلميه بیروت) یعنی اسی ایک حدیث کو امام بخاری – رحمة الله عليه – نے اپنی صحیح میں چھ مقامات پر ذکر کیا ہے جس کے "ترجمة الباب” کی طرف علامہ عینی نے اشارہ کر دیا ہے جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے اس حدیث کے کتنے معانی ہیں – المختصر آقاے کریم – ﷺ – کی اس ایک حدیث میں اتنی زیادہ جامعیت اور معنویت ہے جس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا – اب آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ اسی حدیث کے ذریعے حضور – ﷺ – نے کتنی آیات کی تفسیر اور تشریح فرمائی ہے –

یہ حدیث قرآنی آیات کی تفسیر :
یوں تو ہم سب کو معلوم ہے کہ حضور – ﷺ – جس طرح شارع اسلام یوں ہی شارح قرآن بھی ہیں؛ خود اللہ – عَزَّوَجَلَّ – نے اپنے رسول – ﷺ – کی صفات اور خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۚ- (آل عمران؛ ١٦٤)
ترجمہ : جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے – (کنز الایمان)
لہٰذا ثابت ہوا کہ حضور – ﷺ – کی احادیث بالیقیں قرآن کی شرح ہے؛ اب آئیے ہم اختصار کے ساتھ دیکھتے ہیں کہ اس حدیث کے ذریعے کن آیات کی وضاحت اور تشریح و تفسير ہوتی ہے –
نیت _ ارادہ : علماء فرماتے ہیں کہ حدیث میں جو الفظ "نیات” ہے یہ نیت کی جمع ہے اور نیت دل کے پختہ ارادے کو کہتے ہیں لہٰذا نیت اور ارادہ تقریباً ہم معنی ہیں؛ اب دیکھیں اللہ رب العزت کے فرامین :
❶ ــــ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَۚ- (آل عمران؛ ٥٢)
ترجمہ : تم میں سے کوئی دنیا چاہتا تھا اور تم میں سے کوئی آخرت چاہتا تھا – (کنز الایمان)
❷ ـــ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَؕ- (الأنفال؛ ٦٧)
ترجمہ : تم لوگ دنیا کا مال چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے – (کنز الایمان)
❸ ــــ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ-وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ(الشوریٰ؛ ۲۰)
ترجمہ : جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہے ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اور آخرت میں اُس کا کچھ حصہ نہیں ۔ (کنز الایمان)
اسی طرح کی بے شمار آیات ہیں ہم نے اختصار کی خاطر بس تین کی طرف اشارہ کر دیا ورنہ الإسراء: ١٨-١٩. هود:١٥-١٦. الأنعام: ٥٢. الكهف: ٢٨. الروم: ٣٨-٣٩. الليل:٢٠.البقرة: ٢٦٥. البقرة: ٢٧٢. النساء: ١١٤. یہ تمام آیات بھی اسی مفہوم کی ہیں جن میں سے ہر ایک کی جامع تفسیر یہی حدیث ہے کہ_ جو جیسی نیت کرتا ہے اللہ – عَزَّوَجَلَّ – اسے ویسا ہی اجر عطا فرماتا ہے اگر کوئی نیک اعمال سے بھی دنیا حاصل کرنے کا ارادہ رکھے تو اسے فانی جزا ہی نصیب ہوگی؛ ابدی نیکی اور ثواب سے محرومی مقدر ہوگا – _یہی ان تمام آیات کا نتیجہ اور ماحصل ہے جو کہ حضور – ﷺ – کی حدیث سے ظاہر ہے کیوں کہ ثواب کا مدار نیت ہی پر گویا؛

اس حدیث کی تقدیر عبارت ہے "ثواب الأعمال بالنيات” : کہ اعمال کا ثواب نیت پر موقوف ہے بغیر نیت کسی عمل پر ثواب استحقاق نہیں؛ واضح رہے کہ…… حدیث کے لفظ "اعمال” کو عبادات ہی کے ساتھ خاص نہ کیا جائے بلکہ مباحات بھی اگر بہ نیت طاعت کئے جائیں تو ان پر بھی ثواب ملے گا؛ مثلاً کھانا اچھی نیت سے کھانا، کسب حلال نیز جماع وغیرہ اچھی نیتوں سے کرنا – یہ اور بات ہے کہ اب یہ مباحات بھی عبادات ہو جائیں مگر اس کی جہ نیک نیتی ہی بنی – (ملتقطا نزہة القاری از مفتی شریف الحق امجدی، ج١، ص٢٢٧، مطبوعہ فرید بک سٹال لاہور)
چوں کہ جامع حدیث کی مختصر اور جامع تشریح ہی کرنی تھی سو اسی پر بس کرتے ہیں ورنہ صاحبِ جامع الکلمﷺ کی صرف اس ایک حدیث پر علماے امت نے ضخیم ضخیم کتب لکھ دیے ہیں؛ اللہ رب العزت اسے قبول فرمائے-

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

رمضان کریم اور ہم: ایک جائزہ

تحریر: منزہ فردوس بنت عبدالرحیمایم. اے. سال اول آکولہ مہاراشٹرا ایک بار پھر عظمتوں اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے