غزل: نہیں کام کی کچھ نصیحت تمہاری

نتیجۂ فکر: ظفر پرواز گڑھواوی جھارکھنڈ

بہت جانتا ہوں۔۔۔۔۔ حقیقت تمہاری
نہیں کام کی کچھ نصیحت تمہاری

غریبوں یتیموں کو ۔۔۔۔۔دل سے لگانا
میرے دوست۔اچھی ہے عادت تمہاری

کہاں جا رہے ہو بتا کر۔۔۔۔۔۔۔۔ تو جاءو
میں سب جانتا۔۔ ہوں شرارت تمہاری

جو راہ خدا میں نہ۔۔۔۔ دولت لٹاءے
نہیں کام کی ہےیہ ۔۔۔۔دولت تمہاری

کلام خدا کی کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم تلاوت
فرشتے کریں گے سماعت ۔۔۔تمہاری

ظفر نعت صل علی کے۔۔ ہی صدقے
زمانے میں ہوتی ہے۔۔۔ عزت تمہاری

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل: بحث کا کچھ نہیں جس کو سلیقہ

بحث کاجو بھی ہے بہتر طریقہنہیں بحاث کواس کا سلیقہ بحث میں صغریٰ کبریٰ حداوسطنہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے