غزل:تمھارا ذکر جو محفل میں بار بار ہوا

خیال آرائی: ناطق مصباحی

تمھارا ذکر جو محفل میں بار بار ہوا
تمھاری ذات کا فیضان صد ہزار ہوا

صبح سے شام تلک چل رہی تھی پروایء
جوٹپکابوندتوہر خطہ خوشگوارہوا

چلاجوصبح سے فصل بہار کا جھونکا
تری زمین کاہرحصہ لالہ زار ہوا

ترےدیار میں خونخوار زلزلہ آیا
تری زمین کاہرحصہ لالہ زار ہوا

سخت سیلاب میں جب کھیتیاں ہوئیں ویراں
بڑاکسان بھی آشوب روزگار ہوا

بچا نےوالاہی غرقاب ہوگیا ناطق
ہرایک شخص وہاں اسکاغمگسار ہوا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل: بحث کا کچھ نہیں جس کو سلیقہ

بحث کاجو بھی ہے بہتر طریقہنہیں بحاث کواس کا سلیقہ بحث میں صغریٰ کبریٰ حداوسطنہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے