بچوں کی تعلیم وتربیت اور والدین کی ذمہ داریاں

تحریر: آفتاب عالم ندوی (دھنباد)
رابطہ: 8002300339

اس میں شک نہیں کہ یہ دور علمی دھماکہ کا دورہے، حضرت آدم علیہ السلام کوپہلے پہل جب اس دنیا میں بھیجاگیا توخالی ہاتھ اوربے یارومددگارنہیں بھیجاگیا؛ بل کہ زندگی گزارنے اورزندگی کوبہتر طریقہ پرجینے کے لئے جتنے وسائل واسباب ناگزیرتھے، اللہ تعالیٰ نے وہ سارے اسباب پہلے ہی دنیا میں رکھ دئے تھے، روحانی اورمادی دونوں طرح کی زندگیوں کے لئے سارے وسائل مہیاتھے، خیروشراوربرائی وبھلائی کی اچھی طرح نشاندہی کردی گئی تھی، ظلم وزیادتی اورعدل وانصاف کے راستوں کی معرفت عطاکردی گئی تھی، اسی طرح مادی زندگی کے لئے تمام ساز وسامان سے ارض گیتی کوسجادیاگیاتھا، کچھ چیزوں کومکمل طورپرمفت کردیاگیا، ان کے لئے انسان کوکسی محنت اور جد وجہد کی ضرورت نہیں، بقیہ چیزوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے تھوڑی جسمانی ودماغی محنت کوضروری قراردیاگیا، غوروفکر اورتجربات ومشاہدات کوآگے بڑھنے اورخوب سے خوب تر تک رسائی کازینہ بنادیاگیا ، انسان آج اس کے ذریعہ ان بلندیوں کوچھورہاہے اوران جہانوں تک پہنچ رہاہے، جن کاماضی میں انسان تصور بھی نہیں کرسکتاتھا، علوم وفنون اورتحقیق وریسرچ کے قافلے ہرشعبہ میں بڑی برق رفتاری سے آگے بڑھ رہے ہیں، پہلے زمانہ میں اگرکسی کوبتایاجاتا کہ ایک چھوٹی سی ایسی ڈبیہ وجودمیں آنے والی ہے، جودنیاکے آخری کونے کے انسان کو دنیاکے دوسرے کونے کے انسان سے سیکنڈوں میں جوڑدے گی، وہ ایک دوسرے کودیکھیں گے بھی اوراس طرح آپس میں بات کریں گے، جیسے وہ ایک ہی جگہ پربیٹھے ہوں تو کیا کوئی ماضی کاانسان اسے تسلیم کرتا؟ ہرگز نہیں، وہ اس طرح کی بات کرنے والے کوپاگل اوردیوانہ قراردیتا، آج اس طرح کی ہزاروں چیزیں وجود میں آچکی ہیں، ایسے خطرناک ہتھیارتیار لئے گئے ہیں کہ اللہ کی پناہ! مریخ تک ڈرون پہنچادئے گئے ہیں، خلائی گاڑیوں کوکروڑوں کیلومیٹر سے آپریٹ کیاجارہاہے۔
ان ایجادات اورعلمی، تحقیقی اورسائنسی ترقیات نے انسانی سماج پرزبردست اثرڈالاہے، بہت سے شعبوں میں اسلامی قانون کے ماہرین کو ازسرنوغورکرنے اورپرانے فتووں کوبدلنے پرمجبوربھی کیا، کاروبار، لین دین اورخرید وفروخت کے شعبے بھی انقلاب سے دوچار ہیں، دیکھتے دیکھتے زندگی کی نہ جانے کتنی روایتیں بدل گئیں، پرانے سانچوں کی جگہ نئے سانچوں نے لے لی، آج سے صرف بیس پچیس سال پہلے کے سماج کی بات کیجئے توآج کی نسل حیرت زدہ ہوجاتی ہے کہ اچھاایسا بھی ہوتاتھا!
اس وقت بات صرف موبائل اوراس کے نفع ونقصان کے بارے میں ہے، موبائل کی وجہ سے اس میں شک نہیں کہ بہت ساری آسانیاں پیدا ہوگئیں، آج ہرعام وخاص کے ہاتھ میں موبائل ہے،پس ماندہ ریاستوں کے دیہات اورجنگل سے بھی ایک ان پڑھ عورت بمبئی، دہلی ، کیرل اورگلف میں کام کررہے اپنے شوہراوربیٹے سے جب چاہتی ہے ، رابطہ کرتی ہے، دیکھتی اوردکھاتی ہے کہ دوپہرمیں کیاپکاہے اوراس وقت وہ کیاکررہی ہے، یا اس کا شوہرکیاکررہاہے؛ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس سے انسان جتنا فائدہ اٹھارہاہے، اپنے کواوردوسروں کوجتنامستفید کررہاہے، اس سے زیادہ وہ خود بھی نقصان اٹھارہاہے اوردوسروں کوبھی ضرر پہنچارہاہے، کیابوڑھے ، کیابچے، کیاجوان، کیامدارس کے طلبہ اورکیاکالج و یونیورسٹیوں کے اسٹوڈینس ، سبھی اس کی زلف گرہ گیر کے شکارہیں، اخلاقی و مذہبی بندشیں ڈھیلی ہوگئی ہیں، یوروپ کی پیروی میں خاندانی وسماجی پاس ولحاظ اوربڑوں کی فرماں برداری غیراخلاقی اورغیرقانونی قرار پاگئی ہیں؛ بل کہ بچوں کی مرضی اورخواہش کی مخالفت قابل سزاجرم قراردی گئی ہے، شریف ماں باپ بچوں کی بے راہ روی اوران کی غیر اخلاقی حرکتوں کودیکھتے ہیں، پرٹوک نہیں سکتے، چھوٹا بچہ بھی فون کرکے پولیس بلوا لیتاہے، ہم مشرقی لوگ بھی عجیب ہیں، یوروپ کی اچھائیوں اورخوبیوں کے مقابلہ میں اس کی خرابیوں اوربرائیوں کی تقلید ہم زیادہ کرتے ہیں، ستم بالائے ستم یہ کہ لوگوں سے زیادہ حکومتیں اورمیڈیالوگوں کومغرب کی اندھی تقلید کے لئے تیارکرنے میں سرگرم ہے، عالمی ادارے اورایجنسیاں آزادیٔ نسواں، حقوق انسانی اورآزادیٔ رائے جیسے خوب صورت اوردل کش نعروں کاسہارالے کر سماج کواخلاقی انارکی وفساد میں جھونک رہی ہیں، تعلیم اورتعلیمی ادارے بھی ایمانداری کے ساتھ اس مہم کوآگے بڑھانے میں اپنارول اداکررہے ہیں، پہلے بھی گھروالوں کی مرضی کے خلاف شادیاں ہوتی تھیں، لڑکی بھی کبھی گھرسے بھاگ جاتی تھی؛ لیکن ایسے واقعات انتہائی نادرتھے، خاص طورپر شریف اورتعلیم یافتہ گھرانوں کی کسی بچی کااس طرح نکل جانے کاتصور بھی نہیں کیاجاسکتاتھا، گھٹ گھٹ کرلڑکیاں جان دے دیتی تھیں؛ لیکن دہلیز سے باہرقدم نکالنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھیں، یاسوچ کربھی ایساکرنا ممکن نہ تھا، دوسری بات، جوبہت اہم ہے کہ پہلے غیرمسلم لڑکیاں اسلام قبول کرکے مسلمان لڑکے سے شادی کرتی تھیں اورمسلم لڑکی کرتی بھی تھی توغیرمسلم لڑکاہی اپنامذہب تبدیل کرتاتھا، اب صورت حال بدل گئی ہے، اب نئی نسل ترک اسلام کرکے دوسرے مذہب کواختیارکرنے کوزیادہ اہمیت نہیں دیتی ہے، مذہب ایک پرسنل معاملہ ہے، میاں بتوں کے آگے سجدہ ریز ہورہاہے اوربیوی مصلی بچھاکراللہ کے سامنے سربسجود ہے، دین اسلام کی اہمیت اوریہ بات کہ حضورﷺ کے بعد اب اللہ کے نزدیک صرف مذہب اسلام ہی قابل قبول ہے، اورکوئی بھی مذہب انسان کونجات نہیں دلاسکتا، یہ عقیدہ اب بچوں کے ذہن ودماغ میں راسخ اورپیوست کرنے کی کوشش بہت کم ہورہی ہے، تین چار سال کی عمر ہی میں بچوں کواسکول میں داخل کردیاجاتا ہے اوراسکول کے نصاب میں اس کی گنجائش نہیں ہوتی ہے کہ بچوں کودین سے روشناس کرایاجائے، اسکول سے اتناکام دیاجاتاہے کہ بچہ کا پورا وقت اسی میں لگ جاتاہے، گارجین یہ سوچتے ہیں کہ اگر ایسانہیں کریں گے تومیرابچہ پیچھے رہ جائے گا، ایسی صورت میں اسلام کیسی نعمت ہے اورکفروشرک کیابلا ہے، بچہ کیوں کرسمجھے گا؟
مہاراشٹراوربنگال سے مصدقہ خبریں آئیں کہ بعض فرقہ پرست تنظیموں کی طرف سے باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے کہ مسلم لڑکیوں کو غیرمسلم لڑکوں سے شادی کروائی جائے، مذہب تبدیل کرواکربرین واش کیاجائے،معاملہ یہاں نہیں رکتا ہے، بات گھر اورخاندان تک پہنچتی ہے، کوشش کی جاتی ہے کہ خاندان کے لوگوں کوبھی مذہب تبدیل کرنے پرمجبورکیاجائے، یاانہیں ذلیل کیاجائے، سماج میں انہیں منھ دکھانے کے قابل نہ چھوڑاجائے۔
دوسری طرف اگرکوئی غیرمسلم لڑکی اپنی مرضی سے کسی مسلم لڑکے سے شادی کرتی ہے توفرقہ پرست تنظیموں کی طرف سے ہنگامہ برپا کیاجاتاہے، اب تولوجہاد کے نام سے کئی ریاستوں میں باقاعدہ قانون بن گیاہے، کوئی غیرمسلم لڑکاکسی مسلم لڑکی سے شادی کرتاہے تواسے انعام واکرام سے نوازاجاتاہے؛ لیکن اگرکوئی مسلم لڑکاایسا کرتاہے توطرح طرح سے اسے ٹارچر کیاجاتاہے، بعض دفعہ تنگ آکروہ خودکشی کرلیتاہے۔
سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کامقابلہ کیسے کیاجائے؟ کس طرح ہم اپنی اولاد کی ارتدادسے حفاظت کریں؟ اللہ کی تعلیمات کونظرانداز کرکے کسی کافر اورمشرک کوشریک زندگی بنانے سے کس طرح انہیں باز رکھیں؟ اس آگ سے ان کوکس طرح بچایاجائے، جس کاایندھن انسان اور پتھرہے؟
اس کے لئے سوچنااورمؤثرتدبیراختیارکرنا ہماری دینی، ملی اوراخلاقی فریضہ ہے، اولاد کے تئیں جوذمہ داریاں ہم پرعائد ہوتی ہیں، ان میں یہ سب سے اہم ذمہ داری ہے، حضورﷺ کافرمان ہے کہ کفروشرک سے اس طرح ڈرناچاہئے، جس طرح بھڑکتی آگ سے ڈراجاتاہے، ہم اپنے بچوں کے لئے روشن مستقبل چاہتے ہیں اوراس کے لئے بڑی سے بڑی قربانیاں دیتے ہیں؛ لیکن افسوس ! ان کے اصل اورحقیقی فیوچر کی ہم ذرا بھی فکرنہیں کرتے، اولاد کے دین وایمان کے تحفظ وبقاء کے لئے نیچے کچھ تدابیر کاذکر کیا جاتا ہے:
٭ بچوں کے لئے ماں باپ پہلاآئیڈیل ہوتے ہیں، بچوں کی نظر میں اباسب سے بڑا اورسب سے اچھاہوتاہے، لہٰذا اگرہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے دین وایمان کی اہمیت کوسمجھیں ، خدا اوررسول کے مقام ومرتبہ کوپہچانیں، اچھے اخلاق سے آراستہ ہوں، جھوٹ نہ بولیں، گالی گلوج سے زبان کوآلودہ نہ کریں توماں باپ کو چاہئے کہ حسن اخلاق اور اچھے اوصاف کواختیارکریں، نماز کی پابندی کریں، موبائل کاغلط استعمال نہ کریں۔
٭ تعلیم کی شروعات دینی تعلیم سے ہو، قرآن کریم اوراردو کی تعلیم شروع ہی میں ہوجانی چاہئے، اسکول کی تعلیم کے ساتھ ہی دینی تعلیم کابھی آغاز ہوجائے، کسی حافظ وقاری کواچھامعاوضہ دے کریامحلہ میں معیاری مکتب ہوتووہاں بھیج کرقرآن شریف ناظرہ اوردین کی بنیادی اورضروری باتوں سے واقف کرایاجائے۔
٭ اگرکوئی ایسااسکول ہو، جہاں معیاری اسکولی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کابھی معقول انتظام ہوتوایسے اسکولوں کوترجیح دی جائے۔
٭ مسلم بچوں کے لئے اردو، انگلش ، ہندی وغیرہ میں کہانیوں اورقصوں کے چھوٹے چھوٹے کتابچے دستیاب ہیں، بچوں کویہ کتابیں فراہم کی جائیں۔
٭ نیٹ میں بھی بچوں کے لئے اسلامی واخلاقی نقطۂ نظر سے تیارکیاگیا بہت سا میٹریل دستیاب ہے، کسی واقف کار سے مشورہ کرکے اس سے فائدہ اٹھایاجاسکتاہے۔
٭ مختلف تنظیموں کی طرف سے خواتین اورمردوں کے لئے پروگرام کاانعقاد ہوتارہتاہے، اسی طرح اسکولوں اورکالجوں کی چھٹیوں میں طلبہ اورطالبات کے لئے پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں، ان میں بچوں کوبھی شریک کیاجائے۔
٭ حتی الامکان بڑے بچوں اوربچیوں کومخلوط اداروں میں داخل کرنے سے بچاجائے۔
٭ اگرتعلیمی ضرورت سے بچوں کوموبائل دیاجائے تودھیان رہے کہ مس یوز نہ ہو؛ کیوں کہ اس وقت سب سے زیادہ بگاڑ اسی موبائل سے پھیل رہاہے۔
٭ نامحرم رشتہ داروں سے بھی بلاروک ٹوک ملاقاتیں فسادکاپیش خیمہ ہوتی ہیں، احتیاط ضروری ہے۔
٭ اللہ کی تعلیمات اورگائیڈلائنس کوسامنے رکھ کر ہمیں اپنے رویہ کاجائزہ لیناچاہئے، میل جول اورملاقاتوں میں اللہ کے قانون کی ہم دھجیاں اڑارہے ہیں، گھر وں میں بھی اورمحرم کے سامنے بھی جن لباسوں کی قطعاً اجازت نہیں ہے، ہماری بیٹیاں بے دھڑک ان لباسوں میں بازار، اسکول اورپارٹیوں میں جارہی ہیں، خاص طورپر پارٹیوں کاتوشائد مقصدہی یہ ہوگیا ہے کہ دل کھول کربے حیائی اوربے پردگی کا مظاہرہ کیاجائے، کل قیامت کے دن یہی بچے ہمارا گریبان پکڑ یں گے کہ خدایا! انہوں نے ہی ہمیں فساد اوربگاڑکی رومیں بہنے کے لئے ہمیں آزادچھوڑدیاتھا۔والدین اورگھرکے بڑوں کو اپنی ذمہ داریوں کااحساس ہوناچاہئے؛ تاکہ ملت تباہی سے محفوظ رہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پہلی درس گاہ کو معیاری بنائیے

ازقلم: شیبا کوثر (آرہ، بہار) کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں درس گاہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے