مروّجہ جہیز کا نظام اور حقیقت پسندانہ جائزہ

تحریر: محمد دلشاد قاسمی

جو وفا کا رواج رکھتے ہیں
صاف ستھرا سماج رکھتے ہیں

بھیج کر ہم جہیز پر لعنت
اہل‌ غربت کی لاج رکھتے ہیں

کسی بھی بیماری کو اگر جڑ سے ختم کرنا ہو تو سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کس چیز کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے اور اس کے پیچھے ریزن کیا ہے اگر ہم نے اس وجہ کو پہچان لیا اور جان لیا تو اس بیماری کو ختم کرنا پھر آسان ہو جائے گا مثال کے طور پر اگر کسی کے جسم میں پھوڑے پھنسی نکل آئے ہیں اور صرف اوپر سے اس کے اوپر مرہم پٹی کی جاتی رہے تو یقینا یہ صحیح نہیں ہوگا لیکن اگر پھوڑے پھنسیاں نکلنے کی وجہ کو جان لیا گیا کہ یہ جسم میں موجود خون کے انفیکشن کی وجہ سے یا خون میں گرمی کی وجہ سے نکل رہے ہیں تو پھر اس کا علاج کرنا آسان ہو جائے گا یہ مثال میں نے اس لیے دی تاکہ آگے آنے والی بات سمجھنا آسان ہو ۔

آج کل جہیز کے مسئلے پر سوشل میڈیا میں بہت گفت و شنید ہو رہی ہے اور یہ مسئلہ سوشل میڈیا میں بہت چرچے میں ہے اور طرح طرح کے اظہار خیال اور افکار سامنے آ رہے ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں جب بھی جہیز کے تعلق سے کوئی بات کی جاتی ہے تو بے دھڑک مردوں کے اوپر طنز شروع ہو جاتا ہے اور عجیب و غریب فقرے کسے جاتے ہیں کبھی کہا جاتا ہے کہ "مردوں کو فٹ پاتھ پر بھیک مانگ لینی چاہیے” جب وہ جہیز مانگتے ہیں تو بھیک بھی مانگیں” کبھی کہا جاتا ہے کہ مردو کے اندر سے شرم اور غیرت مر چکی ہے” اس طرح کے اور نہ جانے کتنے فقرے کسے جاتے ہیں اور طنز کیا جاتا ہے ۔ لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ، کیا کبھی اس پہلو سے بھی غور کیا گیا؟ کہ جہیز کے مسئلہ کا تعلق صرف مردوں سے ہے یا عورتوں سے بھی ہے اگر معاشرے کے اندر ہم دیکھیں تو جہیز کا زیادہ تعلق عورت سے متعلق ہیں مثال کے طور پر جب لڑکے کی شادی کی جاتی ہے تو لڑکے کی ماں کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ میرے بیٹے کی بیوی اتنا سارا جہیز لے کر آئے، بہنوں کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے، جب بارات والے دن جہیز رکھا ہوتا ہے تو وہاں پر بھی عورتیں ہی آ کے جہیز کے اوپر باتیں کرتی ہیں کم ملا ہے یا زیادہ، جب جہیز لڑکے کے گھر پہنچ جاتا ہے تو جہیز کو دیکھنے والی عورتیں ہی ہوتی ہیں محلے کی اور پڑوس کی عورتیں جہیز دیکھنے کے لیے آتی ہیں اور جہیز کے حوالے سے بات کرتی ہیں ۔ اگر یہ بیوی زیادہ جہیز لائی ہوتی ہے تو دوسری والی بیوی کو طنز کیا جاتا ہے بڑی بیوی تو بہت کم جہیز لائی تھی اور یہ بہت زیادہ جہیز لے کر آئی ہے، اور اگر کم لاتی ہے تو اس کو طنز کیا جاتا ہے کہ بڑی والی بیوی زیادہ سامان لے کر آئی تھی اس میں تو یہ بھی نہیں ہے، وہ بھی نہیں ہے اس کا فریج بھی چھوٹا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ اور یہ سلسلہ پھر کافی دنوں تک جاری رہتا ہے اس کے بعد گھر میں جہیز کم لانے پر اگر کوئی لعنت کرتا ہے تو وہ اس کی ساس ہوتی ہے جو جہیز کے حوالے سے اس پر طنز کرتی رہتی ہے ۔ اب آپ خود فیصلہ کریں جہیز کے رواج میں عورتوں کا کتنا حصہ ہے اور مردوں کا کتنا ؟ میں مردوں کی طرفداری نہیں کر رہا اور ایسا بھی یقیناً نہیں ہے کہ مردوں کا اس کے اندر بالکل بھی حصہ نہیں ہے لیکن آپ یہ دیکھیں کہ کس کا زیادہ حصہ اور contribution ہے لیکن اس حوالے سے جب بھی بات کی جاتی ہے تو صرف مردوں کو طنز کیا جاتا ہے جن کا حصہ جہیز کے رواج میں بہت کم ہے تو ہمیں اصل بیماری کو پکڑنے کی ضرورت ہے کہ اصل وجہ اور ریزن کیا ہے ، اصل بیماری کو جان لینے کے بعد اگر ہم اصلاح کریں گے تو انشاءاللہ زیادہ کارآمد ثابت ہوگی ۔

بڑھتی ہوئی تکرار جہیز کی، اور غربت کا بوجھ
چھلانگ لگا کر پانی میں پھر اک مر گئی بیٹی

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

استقبالِ رمضان اور لاک ڈاؤن

تحریر: شگفتہ عبدالخالق، ممبرامضمون نگار معلمہ اور داعیہ بھی ہیں۔ جوں ہی حکومت کی طرف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے