طریق مصطفیٰ کو چھوڑنا ہے وجہ بربادی

تحریر:محمد رجب علی مصباحی، گڑھوا، جھارکھنڈ
ازہری دارالافتا،اورنگ آباد ،بہار

یقیناً اولاد اللہ رب العزت کی عطا کردہ عظیم نعمت ہیں جو والدین کے لیے مسرت و شادمانی کا باعث ہیں،جن کا دیدار ان کی روح کو سکون اور قلب مضطر کو قرار فراہم کرتا ہے۔جن کا چشمان رحمت سے اوجھل ہوجانا بےقراری اور بےچینی کا سبب ہوتا ہے نیز یہ وہ پاکیزہ سرمایہ ہے جس کی حصولیابی کے لیے انبیاےکرام نے بھی بارگاہ ایزدی میں دست درازی کی اور نیک اور صالح اولاد کے لیے عرض گزار ہوئے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بارگاہ خداوندی میں” رب ھب لی من الصالحين” کے ذریعہ حصول اولاد کا استغاثہ پیش کیا۔جہاں تک مرتبے اور مقام کی بات ہے توشریعت اسلامیہ نے بیٹے سے زیادہ بیٹیوں کو عزت ووقار بخشا اور ان کی عظمت شان بلند کی جن پر متعدد احادیث کریمہ روشن دلیل ہیں ۔
لیکن افسوس صد افسوس! کہ جب شوشل میڈیا کے توسط سے حیدرآباد کی رہنے والی ایک غریب باپ کی پیاری بیٹی مرحومہ عائشہ کے خود کشی کی خبر موصول ہوئی یقین جانو! روح کانپ اٹھی، پورا جسم سکتے میں پڑ گیا گوکہ سانپ نے سونگھ لیاہو اور زبان سے بے ساختہ یہ آواز نکل پڑی”ہائے! مسلمانوں کو کیا ہو گیا ہے؟بلا شبہ یہ اسلام کے دامنِ تقدس پر بد نما داغ ہے۔حالانکہ اسلامی نقطہ نظر سے اسے خود کشی کرنا حرام ہے اور یہ دینی تعلیمات سےنا آشنائی اور لا علمی کی بنیاد پر ہواکیوں کہ اسلامی تعلیمات سے آراستہ خاتون کبھی بھی ایسی جرات نہیں کرے گی لیکن یہ کسی سے مخفی نہیں کہ خود کشی کی علت اور سبب لڑکی کے باپ سے جبری جہیز کا مطالبہ تھاجس سے تنگ آکر وہ اپنی جان ہلاکت میں ڈال دی ۔میں جہیز کے سوالیوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ نے اسی لیےاپنے بیٹے کے تعلیم وتربیت اور پرورش وپرداخت کی تھی کہ اس کے بدلے لڑکی والوں سے بھاری بھرکم سامان بطورِجہیز لیں گے؟ ہم مسلمان ہیں نا؟ کیا اسلامی تعلیمات ہمیں اسی بات کا درس دیتی ہے؟ کہاں چلی گئی ہماری غیرت ایمانی؟ کہاں غرق ہو گئی ہماری عزت نفس و شرم و حیا؟ کہاں خاک ہو گئ غریب باپوں کے تئیں ہمارے افکار و خیالات؟اگرہمارے ظلم و ستم کی وجہ سے عورت جان کی بازی ہار جائے تو قیامت کے دن اس کا حساب دے سکیں گے؟ اس کی جان کی قیمت دے سکیں گے؟ہم سب کاجواب ہوگا، نہیں ۔ تو ہم کیوں بھیک مانگتے پھر رہے ہیں ؟کیوں کمزور والدین پر جبر وتشدد اور جور وجفا کے پہاڑ توڑ رہے ہیں ؟کیا ان کی چینخ و پکار ہمیں خاکستر نہیں کردے گی؟ کیا ان کی بد دعائیں ہمیں نیست و نابود نہیں کردیں گی؟ کریں گی،یقینا کریں گی اورہم بد ترین زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں گے اور ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا۔ناچیز کی رائے ہےکہ اگر ہمارے اندراپنی بیوی کا نان و نفقہ دینے کی استطاعت نہیں ہے تو ہمیں شادی نہیں کرنی چاہیے اور شہوت کا غلبہ ہے تو مسلسل روزہ رکھ لیں لیکن جہیز کی لالچ میں عورتوں کو نہ ستائیں،ان کی زندگی کو جہنم نہ بنائیں ،گناہ کی موٹری تیار نہ کریں ۔ارے بھائی ! دوسروں سے مانگ کر بیاہ کرناکوئی مردانگی نہیں،یہ تو بے غیرتی اورلچہ پن ہے۔خدارا! اس عیب کواپنے اندر سے دور کریں ،خوف خدا دل میں پیدا کریں ، ہمیں ایک دن مرنا ہے،اگر یہی حال رہاتو رب کو کیا منہ دکھائیں گے؟
جاگنا جاگ لے افلاک کے سائے تلے
حشر تک سونا پڑے گا خاک کے سائے تلے
اخیر میں جملہ مسلمانوں سے بالعموم اور علماے کرام و ائمہ عظام اور صاحبان تنظیم و تحریک سے بالخصوص گزارش ہے کہ اس کے بارے میں غور وفکر کریں اور سد باب کا مناسب حل تلاش کریں تاکہ آئندہ کوئی دوسری عائشہ ایسی حرکت کرنے پر مجبور نہ ہو۔ ساتھ ہی ساتھ اپنی بیٹیوں کو اسلامی تعلیمات اور دینی مسائل سے روشناس کرائیں تاکہ وہ اپنے حقوق کو کما حقہ پہچان سکے
رب تعالیٰ ہم مسلمانوں کو عقل سلیم عطا فرمائے اور جہیز جیسی لعنت کو دفع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے