عائشہ، جہیز، خودکشی اور شادی شدہ مسلم خواتین کا مستقبل

تحریر: محمد توحید رضا علیمی
امام: مسجد رسول اللہ ﷺ
مہتمم: دارالعلوم حضرت نظام الدین رحمۃاللہ علیہ
نوری فائونڈیشن ،بنگلور کرناٹک
رابطہ: 9886402786

جب عائشہ عارف خان کی ویڈیو نظر سے گذری تودل دہل گیا دل چورچور ہوگیا دل اُداس ہوگیا متعدد سوالات پیدا ہونے لگے کہ عائشہ اتنی تکالیف کو پس پردہ ڈال کر مسکراتے ہوئے آخری پیغام بذریعہ ویڈیو دیاجواپنے ماں باپ شوہر سے ہوتے ہوئے منظر عام پر پہنچ گئی پھر خود کشی کرلی اسلامی نقطئہ نظر سے دیکھیں تو اسلام شادی کو آسان بنایا ہے۔دولھادولھن کی رضامندی ایک وکیل دوگواہوں اور قاضی صاحب کی قضاوت میں نکاح منعقد ہوجاتاہے میاں بیوی ایک دوسرے کے لباس ہوجاتے ہیں جیسا قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشادموجودہے (ھْنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ )نکاح سے دونوں خاندانوں میں محبت پیدا ہوجاتی ہے اوراس محفل نکاح میں کثیر تعداد میں رشتہ دار دوست و احباب وعوام الناس کو شریک محفل کرنا انہیں گوشت کباب مچھلی اور قسم قسم کے مشروبات وغیرہا کا انتظام کرنا ازروئے شرع نہ تو فرض ہے نہ تو واجب ہے۔ہاں ہے تو غریب پرظلم ہے آج مسلم امیرلوگوں کی شادیوں میں جتنا فضول ہوتا ہے اگر وہی غریب لڑکی یا لڑکے کی شادی میں لگادیتے تو ثواب کے مستحق ہو جاتے اور بارگاہ الٰہی میں مقبول ہوجاتے صرف ہم اپنی فکرکرتے ہیں دوسروں کی تکالیف کی فکرکی فرصت نہیں ملتی۔اللہ پاک نے قرآن مجید میں اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث پاک میں ارشادفرمایا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کابھائی ہے۔اسلام میں جیسے والدین کے حقوق موجود ہیں ایسے ہی رشتہ داروں کے حقوق اور پڑوسیوں کے حقوق بھی موجود ہیں اسلام نے شادی کو آسان بنایا ہے لیکن دور حاضر میں لالچی انسانوں نے نکاح کو مشکل بنادیا ہے اسلام میں مہرکاثبوت توملتا ہے مگرجہیزکا مونھ بولا مطالبہ نہیں ملتا وہ بھی ایسا مطالبہ کے لڑکے کے لئے کار گاڑی رہائشی مکان دکان الگ الگ مطالبات ہوتے ہیں ایک غریب ماں باپ کے لئے مطالبات کو پورا کرنا ممکن ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے آپ جہیز کے نام سے سود لے رہے ہیں یادرکھیں سودکالینادینادونوں حرام ہے (وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا(سورۃ البقرۃ ۵۷۲)اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیاسود( یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبَا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ (سورۃالبقرۃ۶۷۲) اللہ ہلاک کر تاہے سودکو اور بڑھاتاہے خیرات کو( وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا اِنْ کُنْتْمْ مُؤْمِنِیْنَ (سورۃ البقرہ ۸۷۲)اورچھوڑدوجوباقی رہ گیاہے سوداگرمسلمان ہو۔ سود لینے اور دینے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا اعلانِ جنگ ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے( یَا اَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا اتَّقْوااللّٰہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰوااِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ فَاِن لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ (سورۃالبقرہ ۸۷۲،۹۷۲) پھراگرایسا ناکرو تویقین کرلواللہ اور اسکے رسول سے لڑائی کا۔قرآن مجید کی متعدد آیات دلالت کررہی ہیں کی سود کا لینا حرام ہے اگر کوئی لیتادیتا ہے تواس کے ساتھ اللہ ورسول کا اعلان جنگ ہے کیا کوئی اللہ ورسول سے جنگ کرسکتا ہے ہرگز نہیں تو معاشرے جہیز کی لعنت کو مٹا نے کی کوشش کریں جہیز بھی سود ہی کہ شکل ہے کسی بیٹی کولے کراس کے بل پرباربار مطالبات کرتاہے یہ جواں مردی نہیں ہے اور ایسے بھی انسان موجود ہیں جوشادی سے پہلے تو بڑی سادگی دیکھاتے ہیں قرآن وحدیث کی بولی بولتے ہیں جب شادی ہوجاتی ہے تو اپنی کی ہوئی سب باتیں بھول جاتے ہیں دولھا میاں کے مطالبات شروع ہوجاتے ہیں فلاں چیز فلاں فلاں چیز کی ضرورت ہے جب لڑکی کے والدین مطالبات پورے کرتے کرتے تھک جاتے ہیں تو مرحومہ عائشہ جیسی سوچ پیداہوجاتی ہے جب زندگی کے سارے راستے ان کی نظر میں بند ہو جاتے ہیں تو زندگی سے مایوس ہو کر غلط قدم اُٹھانے پرمجبورہوجاتے ہیں حالانکہ خود کشی کرنا اسلام میں حرام ہے ناجانے کتنی شادی شدہ خواتین کی زندگیاں ایسی گزررہیں ہونگی جو اپنے والدین اپنے رشتے دار اپنے سسرال کی عزت و حرمت کی حفاظت کو مدنظر رکھ کر تکالیف کو سہ لیتی ہیں آخرسانس تک شوہرکی وفاداربن کہ رہتی ہے مگر خاندان پر آنچ تک آنے نہیں د ے تیں اے امت محمدیہ اے ملت کے جوانوں اپنی بیویوں کے ساتھ محبت سے پیش آؤ اس لئے کے ماں باپ بچی یا بچے کی پیدائش سے جوان ہونے اور مرنے تک ہرقسم کی تکلیف برداشت کرکے اپنے خونِ جگر سے بچوں کہ پرورش کرتے ہیں پھر وہی بچی کو ازدواجی زندگی سے منسلک کرکہ رخصت کرتے ہیں بچیوں کی رخصتی کے وقت ماں باپ کے دل پر کیا گذرتی ہے وہ بیان سے بالاتر ہے اور اسلام میں خودکشی حرام ہے کوئی زندگی سے مایوس ہو کر ٹرین کے نیچے آجائے یا پانی میں کود کر خودکشی کرلے یا بلندی سے نیچے گر کر خود کشی کرلے یا آگ میں جُھلس کرخودکشی کرلے وغیرہا طریقوں سے جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہلاک کر لے یہی خودکشی ہے اور خود کشی حرام ہے اپنی زندگی کو ختم کرنا یا اسے بلاوجہ تلف کرنا بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ فعل ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:(وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَالتَّھْلُکََۃِ وَاََحْسِنُوْا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ (سورۃ البقرۃ، 2: 195)اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
(وَلاَ تَقْتُلُوْا اََنْفُسَکُْمْ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًاo وَمَنْ یَفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْہِ نَارًا وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًاoالنساء، 4: 29، 30)اور اپنی جانیں قتل نہ کرو بیشک اللہ تم پر مہربان ہے اور جوظلم وزیادتی سے ایساکریگا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے۔تو معلوم ہوا قرآن پاک کی روشنی میں کہ خود کشی حرام ہے!ہاں انجانے میں دیوار گرکر مرایا پانی میں ڈوب گیا یا آگ میں جُھلس کرمر گیا انجانے میں ہوتوشہید ہے مرد حضرات اپنی اپنی بیویوں سے بہت محبت کرے انکی جائز ضرورت پوری کریں حلال روزی حاصل کرنے کی لیل ونہار کوشش کریں بیوی شوہر کے حقوق جانیں اور شوہر بیوی کے حقوق جانیں ایک دوسرے کا ادب کریں ظلم وبربریت ظلم وزیادتی وتشدد سے ہرگز پیش نہ آئیں اسی میں شادی شدہ خواتینِ اسلام کا مستقبل آسان ہوگا پھر کوئی بنتِ حو اایساقدم نہیں اٹھائے گی مرحومہ عائشہ کوخودکشی کا گناہ توملے گاہی ساتھ ہی ساتھ ظالم شوہر کوبھی جہیز لینے اور باربار مطالبات کرنے کا گناہ ملے گا
اسلام میں عورتوں کا مقام اونچاہے، عورت ،خداکی بڑی بڑی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے عورت ،حضرتِ آدم علیہ السلام وحضرت ِ حوا علیہاالسلام کے سواتمام انسانوں کی ماں ہے ،اس لئے وہ سب کے لئے قابلِ احترام ہے عورت ،دنیا کے خوبصورت چہرہ کی ایک آنکھ ہے عورت ،دنیا میں بھائی بہنوں سے محبت کرتی ہے شادی کے بعد شوہر سے محبت کرتی ہے ماں بن کر اپنی اولاد سے محبت کرتی ہے اس لئے عورت دنیامیں پیارو محبت کا ایک ،تاج،محل ہے
میاں بیوی کے درمیان محبت و شفقت
اللہ پاک نے سورہ روم آیت نمبر ۱۲میں فرمایا۔تمہارے درمیان میں محبت و شفقت پیدا فرمادیامیاں بیوی دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق نافظ کردئے گئے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی پابندی کے ساتھ حقوق اداکرکہ ساری زندگی اللہ ورسول ﷺ کی رضاوالی زندگی گذاریں سورہ بقرہ آیت نمبر ۸۲۲پر اللہ پاک نے فرمایا۔عورتوں پر مردوں کے ایسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر۔اچھے سلوک کیسا تھ اور مردوں کے لئے یہ فرمان جاری ہواسورہ نساء آیت نمبر ۹۱میں اچھے سلوک سے عورتوں کے ساتھ زندگی بسر کرو، ان آیاتِ طیبہ سے صاف ظاہر ہوا کہ اسلام میں ایک دوسرے کے حقوق موجودہیں ایسے حقوق اور قوموں میں نظر نہیں آتے اگر ان حقوق پر عمل پیراہوجائیں تو طلاق جیسی بْری چیز سے محفوظ ہوجائیں گے۔یہ اسلام میں عورتوں کا مقام ہے اسلام عورتوں کی عصمت عزت حرمت کا محافظ ہے ،غورطلب امر ہے ؟دنیا کی تمام کتابیں کھلی پڑی رہتی ہیں اور بے پردہ رہتی ہیں مگر قرآن شریف پر ہمیشہ غلاف چڑھا کرپردے میں رکھا جاتا ہے بتائو کیا قرآن شریف پر غلاف چڑھانایہ قرآن شریف کی عزت ہے یابے عزتی ؟اسی طرح تمام دنیا کی مسجدیں ننگی اور بے پردہ رکھی گئی ہیں مگرخانہ کعبہ پر غلاف چڑھاکر اس کو پردہ میں رکھا گیا ہے تو بتائو کیا کعبہ مقدسہ پر غلاف چڑھانا اس کی عزت ہے یا بے عزتی؟ تمام دنیا کو معلوم ہے کہ قرآنِ مجید اور کعبہ معظمہ پر غلاف چڑھا کران دونوں کی عزت وعظمت کا اعلان کیا گیا ہے کہ تمام کتابوں میں سب سے افضل واعلیٰ قرآنِ مجید ہے اور تمام مسجدوں میں افضل و اعلیٰ کعبہ معظمہ ہے ۔اسی طرح مسلمان عورتوں کو پردے کا حکم دے کراللہ پاک و رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ اقوامِ عالم کی تمام عورتوں میں مسلمان عورت تمام عورتوں میں افضل واعلیٰ ہیں۔ خواتینِ اسلام اب تمہیں اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ اسلام نے مسلمان عورتوں کوپردے میں رکھ کر ان کی عزت بڑھائی ہے یا ان کی بے عزتی کی ہے۔(نام کتاب ،اسلام میں عورتوں کا مقام )

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے
مرادیں غریبوں کی بر لانے والے
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والے
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والے
فقیروں کے ماویٰ ضعیفوں کا ملجیٰ
یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مجھے یاد ہے سب

تحریر: زاہدہ محبوب، کرلا ممبئی مجھے اچھے سے یاد ہے، 2020 کا وہ لاک ڈاؤن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے