افسانہ: زندگی کے پار

افسانہ نگار: ڈاکٹر ابوطالب انصاری، بھیونڈی مہاراشٹرا

سڑک پر جمی کی بائیک ہوا سے باتیں کرتی چلی جارہی تھی۔ بائیک جمی چلارہا تھا اور شمی اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھے پیچھے بیٹھا تھا۔دونوں خوش گپیاں کرتے امنگوںاور آرزوئوں کے پنکھ لگائے اڑے چلے جارہے تھے۔دوپہر کاوقت تھا سڑک پر گاڑیوں کی آمد ورفت زیادہ نہیں تھی ۔ اچانک بائیک پھسلی اور دونوں گر پڑے۔ شمی کو زیادہ چوٹ نہیں آئی تھی۔ جبکہ جمی نیم بے ہو شی کی حالت میںدردسے کراہ رہا تھا۔اور اس کے سر سے تیزی سے خون بھی بہہ رہا تھا۔ سڑ ک کے دونوںطرف لو گ بجائے مدد کرنے کے تما شہ دیکھ رہے تھے۔ شمی اٹھ کرتیزی سے جمی کی طرف لپکا۔ اسی دوران اس نے دیکھاکہ سامنے مندر کی سیڑھیوں سے ایک بوڑھی عورت تیزی سے جمی کے پاس آئی اور اپنی ساڑی کاکونا پھاڑ کر جمی کے زخم پر داب کر پٹی باندھ دی۔ اس کا سر اپنی گود میں لے کر کہ رہی تھی گھبرا مت بیٹے توابھی ٹھیک ہوجائیگا۔تھوڑی دیر میں ایمبو لینس آئی اور دونوںکو اسپتال لے گئی۔ وہ بوڑھی عور ت لکشمی تھی۔پتلی دبلی، گورارنگ ، پرسکون چہرہ بالوں میں سفیدچاندی کے تار۔ لکشمی کہاںسے آئی تھی کوئی نہیںجانتا تھا۔ وہ مندر کے باہری کونے میںپڑی مالا جپتی رہتی۔ اسپتال سے چھٹی کے بعد دونوں لکشمی کا شکریہ ادا کرنے مندرپہنچے ۔ لکشمی کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ مجھ جیسی فقیرنکا شکریہ اداکر نے آئے ہیں۔ دونوں دیر تک باتیںکرتے رہے۔واپسی کے وقت لکشمی نے انہیں نصیحت کی بچوںسنبھل کرچلائو۔ زندگی بہت قیمتی ہے۔ دونوںوہاںسے ڈھیر ساری اپنائیت،محبت اور ممتا سمیٹ کرلائے تھے۔ انہیں لگ رہا تھا جیسے کوئی اپناہو۔ جمی اور شمی دونوں بھائی تھے ۔وہ دوستوںکے ساتھ ہاسٹل میں رہتے تھے۔ دونوںاکثر دوستوں کے ساتھ لکشمی سے ملنے جاتے تھے۔ وہ انہیںماں جی کہتے ۔ ہاسٹل میں لکشمی کے خوب چرچے ہوتے تھے۔ ایک دن جب جمی اورشمی ماںجی کو سے ملنے مندر گئے تودیکھا کہ وہ بخار میںتپ رہی ہیں اوران پر ہذیانی کیفیت طاری ہے۔ انہوں نے اسے اسپتال میں داخل کرادیا۔ اور جی جان سے اس کی خدمت کی۔ صحت یاب ہوگئی وہ انہیںہاسٹل لے آئے۔ وہ مندر میںہی رہناچاہتی تھیںکیونکہ اسی سے ان کی تقدیر جڑی تھی ۔وہ توبھگوان کی ایسی پجار ن تھی کہ جس کی چوکھٹ کے پتھر تمہار ے سجدو ں سے گھس گئے تھے۔ بھگوان کے جاپ سے ان کی زبان چھل گئی تھی۔ مگرلکشی کے مندرسے چلے جانے سے کوئی فر ق نہیںپڑابھگوان اسی طرح اپنی استھان پر براجما ن ہے۔ ہاسٹل چار کمروں اور برآمدہ پر مشتمل تھا۔برآمدہ میں کچرے کاانبارتھا۔کمروں میں پلنگ پر گندے چادر پھیلے ہوئے تھے۔ ارگنی پر بے ترتیبی سے کپڑ ے ٹنگے ہو ئے تھے۔ کمرے کے کونے میںکچرے کے ساتھ سگریٹ اوربیڑی کے ٹکڑے پڑے ہوئے تھے جو بچوں کے مزاج اور شو ق کو ظاہرکررہے تھے ۔ برآمد ے کے بائیںطرف باتھ روم تھا جس پر موٹی موٹی کائی کی تہہ جمی ہوئی تھی۔ برآمدے کی چھت کے نیچے ماںجی کا بستر لگادیاگیا۔بچے ماںجی کوپاکر بہت خوش تھے او رماںجی بچوںکے ساتھ رہ کر گویا زندگی کا مقصد پاچکی تھیں۔ وہ دیر تک بستر پر لیٹی اپنی زندگی اور بچوں کے مسقبل کے بارے میں سوچتی رہیں۔اور جلد ہی نیند کی آغو ش میں سماگئیں۔صبح کا اجالا پھیلا،سورج امیدوں اور تمنائوں کی کرنیں لے کر طلوع ہوا۔ ماں جی کی جلد اٹھنے کی عادت تھی، وہ اپنے معمولا ت سے فارغ ہو کر ایک طر ف بیٹھ گئیں۔تھوڑی دیر کے بعدبچوں نے اٹھنا شروع کیا۔ کوئی کچن میںچائے بنارہا ہے، کوئی کپڑ ے پریس کر رہا ہے، کوئی نہارہا ہے۔ کوئی جلدی جلدی تیارہو رہا ہے ۔ تھوڑی دیر تک عجیب سا ہنگامہ رہا۔ سب نے ساتھ ناشتہ کیا اور بچے کالج چلے گئے جارہے ہیں۔ بچوں کے جانے کے بعدماں جی نے ایک نظر ہاسٹل پر ڈالی ساڑی کاپلو کمر سے باندھ کر جھاڑو سنبھال لیا۔ شام کو جب بچے واپس آئے تو برآمدے میں داخل ہوتے ہی دنگ رہ گئے۔ ہاسٹل کی کایا پلٹ چکی تھی۔ برآمدہ با لکل صاف ستھرا تھا۔ باتھ روم چمک رہاتھا۔ کمرہ نہ صرف صاف تھا بلکہ پلنگ پربستر کی چاد ریں بھی سلیقے سے بچھائی گئی تھیں۔ بچے یہ دیکھ کرخوشی سے جھوم اٹھے اورماںجی سے لپٹ گئے۔ ماںجی نہال ہوگئیں۔ رات کے کھانے کے بعد سارے بچے ماںجی کے پاس بیٹھ گئے ۔ ماںجی سے کچھ آپ بیتی اور جگ بیتی سننے کے لئے۔ ایک بے تر تیب اور اجاڑہاسٹل اب گھر بن چکا تھا۔ ماںجی نے کچن سنبھا لیا ۔ ماں جی اصول اور ڈسپلین کا دوسرا نام تھا۔ بچوں کی زندگی اسی اصول کی رووشنی میں گزرنے لگی۔ اب نہ دیرتک جاگنا ہے،نہ باہر گھومناہے۔ جلدی سونا، جلدی اٹھنا اور مقصد پر نظررکھنا ہے۔ برآمدے کے دونوں طرف کیاریاں بنادی گئی تھیں جس میںگلاب ، موگرا، چنبیلی اور کنیر کے پودے لگادئے گئے تاکہ ان میں رنگ برنگے خوبصورت پھول کھلیں۔ انہیں بچوں کی طرح معصوم اور پیارے پیارے ۔ ماںجی! سچ مچ بچوں کی ماںبن گئی تھیں۔ بچوں کی دیکھ بھال کرنا، ان کی پسندکی چیزیں بنانا جیسے ان کے فرائض میں شامل تھا۔ کسی کو کوئی پریشانی ہو ماں جی حاضر ہیں۔ کل ہی ببلو کوتیز بخارتھا۔ ماںجی اس کے سرہانے بیٹھی رات بھر ٹھنڈے پانی کی پٹیاںرکھتی رہیں اور آنسوبہاتے ہوے بھگوان سے ا س کے ٹھیک ہونے کی پرارتھنا کرتی رہیں۔ ہاسٹل کامالک ہاسٹل کی کایاپلٹ سے خوش اور بچوں کے گھر والے ماںجی کی وجہ سے مطمئن تھے۔ امتحان کازمانہ ا ٓگیا سبھی نے جی جان سے محنت کی۔ ماں جی کی دعائوں نے اثر دکھایا۔سبھی نمایاں نمبروں سے کامیاب ہوئے۔ جمی اور شمی کا فائنل امتحان تھا انہیں ہاسٹل چھوڑناتھا۔بقیہ بچے بھی گھر جانے کی تیاری کررہے تھے۔جمی اور شمی ماں جی کواپنے ساتھ گھر لے آئے ۔زندگی مختلف ادوارسے گزرتے ہوئے رواں دواں رہتی ہے۔رشتوں کی تبد یلی ،محبتوں کی تقسیم، غیر مرئی ڈور سے باندھ کر زندگی نہ جانے کتنے روپ دکھاتی ہے کہ انسان کوایک ہی زندگی میں کئی زندگی جینا ہوتا ہے۔ ماں جی کی زندگی مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے یہاں تک پہنچی تھی۔مند ر کی سیڑھیوں کا راستہ ہاسٹل سے ہوتا ہوا جمی اور شمی کے گھر تک پہنچا۔ ان کابڑاساگھر تھا درو دیوارسے خوشحالی ٹپک رہی تھی۔ جمی کی ماںاور گھر کے دیگر لوگ ماں جی سے مل کر بہت خو ش ہوئے اور ان کے پائوںچھوئے۔ رات کے وقت جمی کے والد آئے۔انہوں نے ماںجی کا بہت شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بچوں کا خیال رکھا۔ مگر ماںجی مسلسل خاموش تھیں کچھ کہہ ہی نہیں ر ہی تھیں، ان کی نگاہیں زمین میں گڑی ہوئی تھیں۔ جمی کے والد نے کہا آپ خاموش کیوں ہیں؟کیایہاں آکر آپ خوش نہیںہیں؟ایسی کوئی بات نہیںہے۔ پھرآپ خا مو ش کیوں ہیں؟ ماںجی نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا ’’مجھے پہچاناآپ نے؟ جمی کے والد نے کہاہاں آپ بچوں کی ماںجی ہیں۔ ماں جی نے مسکرا کرکہانہیں سیٹھ گوپی چند آپ نے مجھے پہچانا نہیں۔ میںچندا ہوں، بگان باڑی کی رقاصہ ۔اتناسنتے ہی جمی کے والد پسینہ پسنہ ہوگئے اوران کاسر چکرانے لگا۔ مگر ماںجی نے کہاآپ اطمینان رکھئے گوپی چند یہ را ز میرے سینے میں ہے اورمیرے ساتھ ہی جائیگا۔ آپ کی عزت پر کوئی آنچ نہیںآئیگی۔ مجھے پتہ ہی نہیںتھاکہ جمی اور شمی آپ کے بیٹے ہیں ۔ میں تو ان کے پیارکی ڈور میں بندھی چلی آئی۔ گوپی چند جی میںکل ہی یہاںسے چلی جائونگی۔ اتناکہناتھا کہ گوپی چند نے زور سے آپ کہیںنہیںجا ئیںگی، آپ یہیں رہیں گی ۔ ہمنے زندگی میںبہت پاپ کئے ہیںشاید کچھ پراشچت ہوجائے۔ گوپی چند نے جس تحکمانہ انداز سے کہا ماںجی اس حکم کے بارتلے دب گئیں۔وہ سوچ رہی تھیں کہ کاش ایسا حق جتانے والا پہلے آیا ہوتا۔ ایسا حکم دینے والا پہلے کیوںنہیںآیا۔ حکم اور حق کی کیلیں ماںجی کی پیروںمیں گڑ چکی تھیں۔ پیارو محبت کی چادر اوڑھ ماںجی وہیں رہ گئیںپوری زندگی۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

لاک ڈاون اور سسکتی انسانیت

ازقلم: آصف جمیل امجدی (انٹیاتھوک،گونڈہ)9161943293 کل رات میرے پیٹ میں درد اٹھا، میں درد سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے