والدین کے ساتھ حسن سلوک : قرآن وحدیث کی روشنی میں

تحریر: محمد کلیم الدین مصباحی
خطیب وامام: سنی جامع مسجد ,بیلور ٹاؤ ن ،ہاسن کرناٹک
7204160238

اسلامی معاشرے میں والدین کے ساتھ حسن سلوک ،ان کی اطاعت وفرماںبرداری اور ان کے ساتھ حسنِ معاشرت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے،والدین کے ادب واحترام اور ان کے ساتھ بہتر سلوک کی جو تعلیم اسلام نے دی ہے دنیا کے کسی مذہب میں اس کی نظیر نہیں ملتی،والدین اولاد کے لئے دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے ،اس لئے اولاد پر لازم ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کی عزت اور ان کا احترام کرے۔
قرآن مقدس کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی عبادت وبندگی کے فوراَ بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے ،جو ماں باپ کی قدرو منزلت کی طرف واضح اشارہ ہے ۔والدین کے ساتھ حسن سلوک سے متعلق قرآنی آیات ۔
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ۔
٭’’اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سواکسی کی عبادت نہ کرواور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن سے اُف تک نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے خوبصورت،نرم بات کہنا ‘‘۔( بنی اسرائیل ۲۳)
اس آیت میں اپنی عبادت کے حکم دینے کے بعد، اس کے بعد ہی والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ،۔
دوسری جگہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ۔
٭’’اور ان کے لئے نرم دلی سے عاجزی کے با زو جھکا کر رکھ اور دعا ء کرکہ اے میرے رب ! تو ان دونوں پر رحم فرماجیسا ان دونوں نے مجھے بچپن میں پالا ‘‘۔(بنی اسرائیل ۲۴)
اس آیت میں اللہ تعالی نے مزید حکم دیا کہ اپنے والدین کے ساتھ نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آئو، ہر حال میں ان کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آؤ ،عملی اور زبانی دونوں طرح اپنے والدین کے ساتھ محبت وشفقت اور اچھا برتاؤ کرو ۔اولاد پر ماں باپ کا بہت بڑا احسان ہے ،سردی ہو یا گرمی ،دھوپ ہو چھاؤں،دکھ ہو یا سکھ ،رات ہو یا دن ،صحت ہو یا بیماری ،اس کی پرواہ کئے بنا ،والدین اپنی اولاد کے لئے محنت ومزدوری کر کے اپنی تمام خواہشات کو قربان کر کے اپنی اولاد کی خواہشات کو پوری کرتے ہیں ،اولاد پوری زندگی بھی ان کی خدمت کر کے اس احسان کا بدلا نہیں چکا سکتی ۔
اللہ تعالی فرماتا ہے ۔
٭’’اور ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی۔اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اسے پیٹ میں اٹھائے رکھا اور اس کو دودھ چھڑانے کی مدت دو سال میں ہے کہ میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو ۔میری طرف لوٹناہے ۔‘‘(سورہ لقمان ۴ا)
اس آیت کی ابتدا میں اللہ تعالی نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کا فرمانبردار رہنے کی تاکید فرمائی،پھر اس کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہاری ماں کا تم پر بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے حمل کی تمام مشقتوں اور اس دوران ہونے والی کمزوریوں کو برداشت کیا ،وضع حمل کے وقت ہونے والی تکلیفوں کو سہن کیا پھر ایک مدت تک دودھ کی شکل میں اپنا خون جگر پلا کرتمہاری پرورش کی ۔خود دنیا کی تمام رنج والم کو برداشت کر کے اپنی اولاد کے آرام کا سامان مہیا کیا ۔
٭’’اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤاور ماں باپ سے اچھا سلوک کرو‘‘۔(النساء ۳۶)
اس آیت میں بھی اللہ تعالی نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ،والدین کے ساتھ حسن سلوک یہ ہے کہ ان کا ادب اور ان کی اطاعت کی جائے اور نا فرمانی سے بچے ،ہر وقت ان کی خدمت کے لئے تیار رہے اور ان پر خرچ کرنے میں بقدر توفیق و استطاعت کمی نہ کرے ۔(صراط الجنان)
والدین کے ساتھ حسن سلوک سے متعلق احادیث ۔
٭والد جنت کا بہتر دروازہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: باپ جنت کے دروازوں میں سے بہترین دروازہ ہے ۔تو تمہیں اختیار ہے خواہ اس دروازے کو ضائع کردو یا اس کی حفاظت کرو۔(جامع ترمذی)
٭ والدین کے ساتھ حسن سلوک درازگئی رزق وعمر کا سبب۔
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اس کی عمر دراز کی جائے اور اس کے رزق کو بڑھایا جائے ،تو اس کو چاہئے کہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک
کرے،رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے ۔( مسندامام احمد بن حنبل)
٭خدمت والدین دخول جنت کا سبب۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :وہ شخص ذلیل وخوار ہو ،عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ کون ذلیل وخوار ہو؟آپ نے فرمایا وہ شخص جو اپنے ماں باپ، یا دونوں کوو بڑھاپے کی حالت میں پائے پھر جنت میں داخل نہ ہو۔ (صحیح مسلم)
٭والدین جنت یا جہنم کے دروازے۔
حضر ت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول الہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے والدین کے حقوق کے معاملے میں اللہ کا فرماں بردار رہا تو اس کے لئے جنت کے دو دروازے کھلے ہوتے ہیں ۔اور اگر والدین میں سے ایک زندہ ہو اور اس کے ساتھ حسن سلوک کرے تو جنت کا ایک دروازہ کھلا رہتا ہے ۔اور جس نے اپنے والدین کے حقوق کی ادئیگی میں اللہ کی نا فرمانی کی،اس کے بتائے احکام کے مظابق حسن سلوک نہ کیا تو اس کے لئے جہنم کے دروازے کھلے رہتے ہیں اگر والدین میں سے ایک زندہ ہو اور اسکے ساتھ بد سلوکی کرے تو جہنم کا ایک دروازہ کھلا رہتا ہے ۔کسی نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی ﷺ!اگر چہ ماں باپ نے اس پر ظلم کیا ہو ؟تو آپ ﷺ نے تین دفعہ فرمایا : اگر چہ والدین نے ظلم کیا ہو ۔(شعب ایمان)
٭اللہ تعالی کی رضا اور ناراضگی۔
والدین کے رضا میں اللہ تعالی کی رضا اور والدین کی ناراضگی میں اللہ تعالی کی ناراضگی ہے ۔حضرت عبد اللہ ابن عمرو ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی رضا مندی والدین کی رضامندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی ماں باپ کی ناراضگی میں ہے۔(ترمذی)
٭والدین کا ادب ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ کے پاس ایک شخص آیا ،اس کے ساتھ ایک بوڑھا آدمی بھی تھا ،رسول اللہ ﷺ نے پوچھا یہ کون ہے؟اس شخص نے کہا یہ میرے والد ہے،نبی ﷺ نے فرمایا : ان کے آگے مت چلنا ،مجلس میں ان سے پہلے مت بیٹھنا ،ان کا نام لے کر مت پکارنا ،ان کو گالی مت دینا ۔(معجم اوسط للطبرانی جلد ۲)
٭بعد وفات والدین کے ساتھ حسن سلوک ۔
والدین یا ان میں سے کوئی ایک دنیا سے رخصت ہو جائے اور زندگی میں ان کے ساتھ حسن سلوک نہیں کیا یا حسن سلوک میں کوئی کوتاہی رہ گئی تو اس کمی کو ہم کیسے مکمل کریں ،اس کی تعلیم ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے دی ہے ۔حضرت ابو اسید ؓ مالک بن ربیعہ ساعدی کہتے ہیں کہ ہم رسول گرامی وقار ﷺ کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا عرض کیا کہ ماں باپ کی وفات کے بعد بھی کوئی چیز ایسی ہے جس کے ذریعے ان سے سلوک کروں ؟آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں !ان کے لئے رحمت کی دعا کرنا ،ان کے لئے مغفرت کی دعا کرنا ،اور ان کی وصیت کو نافذ کرنا ،اور اس صلہ رحمی کا نبھانا جو صرف ماں باپ کی تعلق کی وجہ سے ہو ،ان کے دوستوں کا اکرام کرنا ۔(سنن ابوداؤد)
٭والدین کی خدمت میں جہاد کا ثواب۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں ایک شخص حاضر ہوا تو آپ سے جہاد کی اجازت چاہی،آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہارے والدین زندہ ہے ؟بولا: ہاں ،آپ ﷺ نے فرمایا : ان کی خدمت کر کے جہاد کا ثواب حاصل کر ۔(الترہیب والترغیب للمنذری ی؍ ۳)
٭ماں باپ کو ستانے والا جنت سے محروم ہے ۔
حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ ونے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تین شخص جنت میں نہیں جائیں گے ،اپنے ماں باپ کو ستانے والا ،دیوث ،(جو شخص اپنے اہل وعیال اور محرم عورتوں کے بارے میں دینی غیرت وحمیت سے خالی ہو یعنی ان کی بے حیائی ،عریانی اور فحاشی کو دیکھ کر خاموش رہے وہ دیوث ہے ) اور مردوں کی وضع قطع بنانے والی عورت۔(المستدرک للحاکم ۱؍۷۲)
٭ماں باپ کی نا فرمانی کی سزا دنیا میں ہی ملتی ہے ۔
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :سب گناہوں کی سزا اللہ تعالی چاہے تو قیامت کے لئے اٹھا رکھتا ہے مگر ماں باپ کو ستانا کہ اس کی سزا مرنے سے پہلے زندگی میں پہونچاتا ہے ۔(مجمع الزوائد ۴؍۲۷۲ ؍ )

اخیر میں ہم گذارش کرتے ہیں کہ جن کے ماں باپ دونوں یا دونوں میں سے ایک باحیات ہے تو ان کو اللہ کی طرف سے نعمت سمجھ کر ان کی خدمت کرے،ان کی فرماں برداری اور اطاعت میں کو ئی کمی نہ کرے،ان کا ادب واحترام بجا لائے،کسی طرح سے ان کو تکلیف نہ دیں ،ان کی ضرورتیں پوری کرتے رہے ،ان کے ساتھ حسن سلوک کرے،ان کے حقوق کو ادا کرے ۔اور اگر وفات پا چکے ہوں تو ان کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعا کرے ،ان کے لئے صدقۂ جاریہ کا اہتمام کرے،۔
اللہ تعالی ہم سب کو اپنے والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی توفیق عطا کرے ۔آمین

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے