سلسلۂ چشتیہ کے ایک روشن چراغ کا نام حضرت پیر ھلال الدین چشتی ہے

تحریر: ظفرالدین رضوی
خطیب و امام رضا جامع مسجد گئو شالہ روڈ ملنڈ ممبئی 9821439971

قارئین!
اس فانی دنیا سے بڑی بڑی نامور ہستیاں گزری ہیں جن کا نام و نشان تک باقی نہ رہا لیکن کچھ ایسی بھی ہستیاں گزری ہیں جن کا نام و نشان روز روشن کیطرح چمک دمک رہاہے انہیں مقتدر اور چمکدار ہستیوں میں ایک ایسی ہستی کا نام شامل ہے جسے دنیا رہبر راہ شریعت وطریقت عابد شب زندہ دار صاحب زہدوتقوی متقی وپرہیزگار ولئ کامل اسراررموز معرفت عاشق خواجہ عارف باللہ حضرت خواجہ پیر ھلال الدین چشتی عرف مولن والے بابا علیہ الرحمہ(آستانہ عالیہ کروالونگر تھانہ مہاراشٹر)کے نام سے جانتی وپہچانتی ہے یہ وہی پاک باز ہستی ہے جس کو اللہ تبارک و تعالی نے اپنے مقبول و محبوب بندوں میں چنا ہے جس کی نگاہوں نے نہ جانے کتنے بے مرادوں کو بامراد بنایا ہے نہ جانے کتنے بجھے ہوئے چراغوں کو روشنی بخشی ہے جس نے اپنے چاہنے والوں کو سرکار غریب نواز علیہ الرحمہ کی محبت کا جام پلایا ہے جس نے غیرمسلموں کے دلوں میں خواجۂ کل خواجگاں کی الفت و محبت اور عقیدت کی جوت جلایا ہے جس نے نہ جانے کتنے تشنگان راہ شریعت وطریقت کو عرفان حق کی منزل تک پہونچایا ہے دراصل حضور مولن والے بابا علیہ الرحمہ اسلامی تعلیمات اور تہذیب وتمدن اور عظمت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے داعی وپہرہ دار تھے آپ مسلک اعلی حضرت کے سچے وفادار سپاہی اور نقیب ونگہبان تھے اور غریب نواز علیہ الرحمہ کے فرمودات کے امین و شارح وترجمان تھے اور اعلی اخلاق و کردار واخلاص کے حامل تھے حق گوئی وبیباکی میں آپ کا کوئی جواب نہ تھا آپ میں وہ ساری خوبیاں موجود تھیں جو ایک شیخ کامل میں ہوا کرتی ہیں اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں آپ ہمیشہ مصروف رہے یہی وجہ ہے کہ آپ نے اس جگہ کا انتخاب کیا جہاں چاروں طرف سے غیر مسلم بسے ہوئے تھے اس جگہ کی خاص بات یہ تھی کہ اس دور میں دور دور تک کوئی ٹوپی کرتا اور داڑھی والا شخص دیکھائی نہیں دیتا تھاایسے ماحول میں صدائے حق بلند کرنا کوئی معمولی بات نہ تھی آپ اسی راستے پر روبہ عمل ہوئے جس کی نشاندہی درغریب نواز سے میسر ہوئی تھی آپ کی دلی خواہش تھی کہ مجھے اجمیر معلیٰ ہی میں اپنی پوری زندگی گزارنی ہے یہی چاہت لئے ہمیشہ آپ اجمیر شریف کا سفر کیا کرتے اور دل ہی دل میں یہ سوچ کر مچلتے رہتے کہ بارگاہ غریب نواز سے ایک نہ ایک دن یہ پروانہ ضرور مل جائے گا کہ ھلال الدین تم کو اپنی پوری زندگی ہمارے ہی دیار میں گزارنی ہے اسی فکر میں آپ دیوانہ وار اجمیر کی گلیوں میں چلتے پھرتے رہتے اور کبھی تو بہت دنوں تک اجمیر شریف میں قیام پذیر بھی رہتے کہ میری تمنائیں پوری ہوجائیں اور میری دلی خواہش کی تکمیل ہوجائے مگر غریب نواز علیہ الرحمہ کی نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ میرا ھلال الدین بڑا کام کا آدمی ہے اس سے دین اسلام کا بڑا کام لیا جائے گا اور وہی ہوا جو اللہ رب العزت کو منظور تھا وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے ایک رات کی بات ہے حضور بابا ھلال الدین چشتی علیہ الرحمہ جنتی دروازے سے لگ کر اورادووظائف میں مصروف تھے کہ اچانک نیند کاغلبہ طاری ہوااور ایسا طاری ہوا کہ آپ بیٹھے بیٹھے غنودگی کی حالت میں ہوگئے پھر کیا دیکھتے ہیں کہ عطائے رسول ہندالولی سرکار غریب نواز علیہ الرحمہ آپ کے سامنے جلوہ بارہیں اور ارشاد فرمارہےہیں کہ ھلال الدین تم یہاں کیا کررہے ہو تم کو میں صوبہ مہاراشٹر کے تھانہ ضلع کی سلطنت عطاء کرتاہوں وہاں سے تمہیں بلانے کی آواز آرہی ہے لہذا تم مہاراشٹر جاؤ اور میرے نانا جان کے دین کی تبلیغ میں مصروف ہوجاؤ اسی اثنا میں آپ کی آنکھیں کھل گئیں چہرے پہ کافی اتار چڑھاؤ تھا ایک طرف خوشی کی لہر تھی تو دوسری طرف جان جاناں کی جدائی کا غم دامن گیر تھا مولن والے بابا اسی کشمکش میں تھے کہ اب کیا کیا جائے سوچنے لگے تھوڑی دیر اور بیٹھے رہے اور اپنے معشوق کے درودیوار کی زیارت کرتے رہے اتنے میں پھر آپ پر غنودگی طاری ہوگئی بہت دیر تک آپ غنودگی کی حالت میں رہے اور آنکھوں سےآنسو جاری تھاکچھ دیر بعد جب آپ ہوش میں آئے تو چہرہ ہشاش بشاش نظر آرہا تھا آپ نے اپنے ارادت مندوں سے کہا کہ چلو اب رخت سفر باندھو ہمیں مہاراشٹر چلنا ہے اور وہیں پر دین متین کو عام کرنا ہے اس لئے کہ میرے آقا غریب نواز نے ہمیں اسی بات کا حکم دیا ہے ان کے حکم کی تعمیل ہماری زندگی کی پوری کمائی ہے اسی پر عمل کرکے سرکار کے دیوانوں میں اپنا نام شامل کروانا ہے پھر آپ اجمیر شریف سے نکلے اور آگے بڑھے راستے بھر روتے رہے کہ میرے معشوق کادرچھوٹ رہا ہے ایک طرف کہتے کہ میرے محبوب کا در چھوٹ رہا ہے تو دوسری طرف کہتے کہ درنہیں چھوٹ رہا ہے بلکہ سرکار غریب نواز علیہ الرحمہ کی بارگاہ سے محبوبیت کا اعلیٰ مقام عطاء ہورہا ہے غریب نواز کی اس عظیم بشارت پرآپ عمل کرتے ہوئے تھانہ مہاراشٹر کی طرف روانہ ہوئے بالآخر اسی مقام پر پہونچے جس جگہ بشارت در خواجہ سے ملی تھی اللہ اکبر کی صداؤں سے پڈول نگر واگلے اسٹیٹ تھانہ ممبئی مہاراشٹر کو آپ نےگل گلزار بنادیا پڈول نگر آنے کے بعد سب سے پہلے آپ نے اللہ کا گھر تعمیر کروایا جسے آج معینہ مسجد کے نام سے جانا جاتا ہے اور اپنے لئے ایک جھونپڑی کاانتظام فرمایا اوراسی میں رہنے لگے دھیرے دھیرے لوگ آپ سے قریب ہوتے گئے اس مرد درویش نے پڈول نگر کی سرزمین پر وہ کارنامہ انجام دیا جسے بھلایا نہیں جاسکتا نا جانے کتنے غیرمسلموں کو آپ نے داخل اسلام کیاآپ کےدست حق پرست پر بےشمار بھٹکے ہوئے لوگ اپنے سابقہ اعمال سے تائب ہوکر شریعت وطریقت کےعلمبردار بن گئے ظاہر سی بات ہے اللہ والوں نے جو دینی تبلیغ فرمائی ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں اسلام کے ماننے والوں کی تعداد شمار سے باہر ہے اللہ والوں کی شان نرالی ہوتی ہے وہ دنیا سے بےنیاز ہوتے ہیں اورانکا دنیا سے بے نیاز ہونے کا یہ عالم ہوتا ہے کہ دنیاان کے در کا غلام ہوتی ہے اللہ کےانہیں مقبول و محبوب بندوں میں حضور مولن والے بابا ایک ایسی شخصیت کے مالک ہیں جن کے رخ زیبا کی زیارت کرنے کیلئے جہاں عوام الناس کی بڑی جماعت ہوا کرتی تھی وہیں پر اپنے وقت کے نامور علمائے کرام کی ایک بڑی تعداد ہواکرتی تھی جس میں نمایاں شخصیات میں خطیب مشرق پاسبان ملت ترجمان مسلک اعلی حضرت شان سنیت آفت وھابیت ودیوبندیت حضرت علامہ مولانا الشاہ مشتاق احمد نظامی صاحب علیہ الرحمہ فاتح کرناٹک شیر رضا نگہبان مسلک اعلی حضرت شہزادۂ حضور محبوب ملت حضرت علامہ مولانا الشاہ منصور علی خان علیہ الرحمہ(خطیب و امام سنی بڑی مسجد مدنپورہ ممبئی وجنرل سکریٹری آل انڈیا سنی جمعۃ العلماء)مصلح قوم و ملت رہبر راہ شریعت وطریقت استاذالاساتذہ عطائے حضور حافظ ملت حضرت علامہ مولانا مفتی الشاہ الحاج عبدالرحیم خان صاحب علیہ الرحمہ(بانی دارالعلوم محبوب سبحانی کرلا ممبئی)صوفئ باصفاء مجذوب کامل عارف باللہ حضرت پیر ٹوپی والے بابا علیہ الرحمہ(آستانہ عالیہ ماہم شریف)اشرف الصوفیاء زہدالاتقیاء حضرت علامہ مولانا پیر صوفی خلیل احمد قادری مانوی رضوی علیہ الرحمہ(آستانہ عالیہ جریمری ممبئی)ان کے علاوہ موجودہ علمائے کرام میں سے غازئ ملت شہزادۂ حضور محدث اعظم حضرت علامہ مولانا الشاہ سید محمد ہاشمی میاں صاحب قبلہ کچھوچھہ شریف فخر سادات محافظ مسلک اعلی حضرت روح خطابت آل رسول حضرت علامہ مولانا الشاہ الحاج سید کوثر ربانی صاحب قبلہ جبلپور شہزادۂ حضور محبوب ملت حضرت علامہ مولانا الحاج مقصود علی نوری صاحب قبلہ جنرل سکریٹری آل انڈیا سنی جمعۃ العلماء ممبئی سعید ملت حضرت الحاج سعید نوری صاحب قبلہ سربراہ و بانی رضااکیڈمی انڈیا(اور ان کے والد مرحوم بھی)اور بےشمار شعرائے اہلسنت جس میں خصوصیت کے ساتھ شہنشاہ ترنم جناب راہی بستوی صاحب(جناب راہی بستوی کو جو بھی مقام و مرتبہ اور شہرت و عزت ملی ہے وہ سب حضور مولن والے بابا کی نگاہ توجہات کا نتیجہ ہے)ان اکابرین کے علاوہ اور بھی جید علمائے کرام ہیں جنھوں نے مولن والے بابا کی خوب دعائیں لی ہیں اور آج بھی علمائے کرام کی بڑی تعداد ۱۲رجب المرجب عرس کے موقع پر اور اس کے علاوہ دنوں میں ان کے آستانے اور شہزادۂ حضور مولن والے بابا سے فیض یاب ہورہے ہیں مولن والے بابا کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ آپ ہر آنے والے عالم و فاضل حافظ وقاری یا کہ معلم ومتعلم کو بغیر نذرانہ دئے واپس نہیں جانے دیتے تھے غرضیکہ آپ کی تبلیغ دین وفرمودات بزرگان دین اور دینی دعوت و خدمات کا ایک زریں تسلسل ہےجس کا تذکرہ ان شاء اللہ صبح قیامت تک جاری وساری رہےگااس میں ذرہ برابر بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ جو بندہ اللہ اور اس کے رسول کی عبادت و اطاعت گزاری میں اپنی زندگی وقف کردیتا ہے تو اسکو ایسا مقام و مرتبہ حاصل ہوجاتا ہے کہ دنیا اس کی تعظیم و تکریم میں مصروف ہوجاتی ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت پیر ھلال الدین چشتی نے پوری زندگی لوگوں کو دعوت تبلیغ اور علماء وائمہ وبےسہارا لوگوں کی عزت و احترام اور ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرنے میں وقف کررکھی تھی آج الحمدللہ انہیں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آپ کے فرزند ارجمند حضرت علامہ مولانا محمد گلزارالدین چشتی عرف چشتی میاں صاحب سجادہ نشین آستانہ عالیہ قادریہ چشتیہ ھلالیہ پڈول نگر واگلے اسٹیٹ تھانہ ممبئی مہاراشٹر بھی دیکھائی دیتے ہیں حضور مولن والے بابا علیہ الرحمہ کی یادوں اور آپ کی خدمات جلیلہ اور اخلاق حسنہ کے پیکر جمیل بنے ہوئے ہیں یہ حقیقت بھی روز روشن کیطرح عیاں ہے کہ شہزادۂ مولن والے بابا اپنے والد بزرگوار کی امانتوں کے سچے امین ہیں جو انہیں دیکھتا ہے وہ یہی کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ جسے مولن والے بابا کو دیکھنا ہے تو وہ ان کے شہزادے حضرت مولانا محمد گلزارالدین چشتی صاحب عرف چشتی میاں کو دیکھ لے مولن والے بابا کی یاد تازہ ہوجائے گی میں تو یہی کہوں گا کہ چشتی میاں اپنے والد کی جیتی جاگتی زندہ تصویر ہیں چشتی میاں اسی طریقہ کار کو اپنے ہوئے ہیں جو مولن والے بابا اپنی ظاہری حیات طیبہ میں اپنائے ہوئے تھے آج بھی جب کوئی عالم دین یا حافظ قرآن یا ضرورت مند خانقاہ چشتیہ ھلالیہ پڈول نگر میں آتا ہے تو وہی تاثرات لیکر جاتا ہے جو اس دور کے علمائے کرام مولن والے بابا کی بارگاہ سے لیکر جاتے تھے اتحاد ویکسانیت کو برقرار رکھنا اور اس طرح کے کام کیلئے اہلسنت و جماعت میں سب کے ساتھ ان سب کو متحد رکھنے کا ہنر حضرت چشتی میاں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے آج چشتی میاں نے جو طریقۂ کار اپنایا ہے وہ اپنے آپ میں بے مثال ہے یقینا حضور مولن والے بابا علیہ الرحمہ کی روح بڑی خوش ہورہی ہوگی کہ میرا شہزادہ مکمل میرے نقش قدم کو اپنائے ہوئے ہے راقم الحروف نے حضرت چشتی میاں کو بڑے قریب سے انکے شب و روز اور اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے جلوت وخلوت سفروحضر کو دیکھا ہے حقیقت میں وہی جوش و ولولہ انداز بزرگاں صوفیانہ طرز زندگی اور طرز عمل عالمانہ وقار اور فقیرانہ طور طریقہ عبادت و ریاضت زہدوتقوی پاکیزئی نفس پابند صوم وصلاۃ دنیا کی ساری چیزیں ہونے کے باوجود بھی درویشانہ مزاج سب اپنے عروج پر ہے اللہ رب العزت اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ و طفیل حضرت چشتی میاں اور خانقاہ چشتیہ ھلالیہ پڈول نگر واگلے اسٹیٹ تھانہ ممبئی مہاراشٹر کو اور عروج وارتقاء عطاء فرمائے اور نظر بد سے محفوظ و مامون فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ذکی احمد، شخصیت اور شاعری: ایک مطالعہ

تحریر: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی، نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے