جہیز کے لالچی

عائشہ اور اُس جیسی مظلوم بیٹیوں کے درد و غم پر بیتاب دل کے آنسو،
اور لالچی و ظالم شوہروں کی مذمت

نتیجۂ فکر: سلمان رضا فریدی مصباحی

سمجھ لو اپنی خود داری کے وہ مَرگھٹ پہ رہتا ہے
کٹورا لے کے جو سُسرال کی چوکھٹ پہ رہتا ہے

سنو ! لالچ کے لب دریاؤں میں بھی رہتے ہیں پیاسے
قناعت کا قدم خشکی میں بھی پنگھٹ پہ رہتا ہے

ہے بیوی کی محبت اور وفا ہی راحتِ ہستی
نہیں تو آدمی بس درد کی کروٹ پہ رہتا ہے

تری بیٹی ، بہن ، پر بھی جفائیں ہوں تو کیسا ہو
سگِ دولت بتا ! کیوں اِتنی غُرّاہٹ پہ رہتا ہے

سَتائ جاتی ہیں جب بیٹیاں سسرال میں اپنی
جگر ماں باپ کا ، دروازے کی آہٹ پہ رہتا ہے

جہیز ایسی وبا ہے جس سے پھیلے ہیں کئ فتنے
سماج اپنا ، اِسی سے وقت کی تلچھٹ پہ رہتا ہے

ہے جن ماں باپ کے گھر عائشہ سی غمزدہ بیٹی
تو آنسو نقش ، اُن کے ماتھے کی سَلوَٹ پہ رہتا ہے

ستاتے ہیں جو اپنی بیویوں کو، اہلِ خانہ کو
فریدی کا قلم ایسوں سے جَھلّاہٹ پہ رہتا ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بزمِ ایوانِ غزل کا ماہانہ طرحی مشاعرہ کا انعقاد

سعادت گنج/بارہ بنکی:6اپریل، ہماری آواز(پریس ریلیز) بزمِ ایوانِ غزل کا ماہانہ طرحی مشاعرہ آئیڈیل انٹر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے