حضورمظہرشعیب الاولیاء ایک مستجاب الدعوات شخصیت

ازقلم: منظوراحمد یارعلوی
استاذومفتی: دارالعلوم اہلسنت برکاتیہ گلشن نگراوشیورہ جوگیشوری ممبئی
9869391389

بین الاقوامی شہرت کی حامل عظیم ترین مشہورومعروف دینی مرکزی درسگاہ دارالعلوم اہلسنت فیض الرسول کےناظم اعلی وخانقاہ فیض الرسول سابق سجادہ نشین صاحب رشدوہدایت شیخ المشائخ رشک صوفیاء زین العرفاء صاحب بذل وسخاسیدی صوفی محمد صدیق احمد المعروف مظہرشعیب الاولیاء لقد رضی المولی عنہ جنھوں نے عرصہ دراز تقریبا50/سال تک نماز باجماعت مع تکبیراولی کاسخت التزام فرمایا،صحت ہو ،مرض،سفر ہو حضر ،مصروفیت ہو،فراغت ہرحال حدیث پاک جس میں اللہ کے رسول ﷺ نےارشاد فرمایاہےعن أنس بن مالك: مَن صلّى للهِ أربعينَ يومًا في جماعةٍ يدركُ التَّكبيرةَ الأولى كُتبَ له براءتان براءةٌ من النّارِ وبراءةٌ من النِّفاقِ۔
الترمذي (ت 289)، تحفة المحتاج
ترجمہ: حضرت انس ابن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سےمروی ہےکہ جس نےچالیس دن نماز باجماعت تکبیراولی کی رعایت سے اداکی اللہ تعالی اسکے لئے دو نجاتیں مختص فرمادیتاہے ایک یہ کہ وہ جہنم سےآزاد کردیاجاتاہےدوسرایہ کہ وہ نفاق سے بری کردیاجاتاہے”بلاشبہ آپ نے اس پر مداومت و مواظبت اختیار فرما کر اس مقام ارفع واعلی کو پالیا۔اتباع شریعت میں جس کی نظیر ماضی قریب کیادور دورتک دکھائی نہیں دیتی ۔اور کیوں نہ ہو حضرت علامہ آلوسی علیہ الرحمة والرضوان تفسیرآلوسی میں ارشادفرماتے ہیں
فَأُولَئِكَ المُؤْمِنُونَ العامِلُونَ لِلْأعْمالِ الصّالِحاتِ ﴿لَهُمُ﴾ بِسَبَبِ إيمانِهِمْ وعَمَلِهِمْ ذَلِكَ ﴿الدَّرَجاتُ العُلا﴾أيِ(المَنازِلُ الرَّفِيعَةُ)ترجمہ:وہ مومن بندے جو اعمال صالحہ کو اپناتے ہیں اللہ تعالی انہیں ان کےایمان و اعمال کے سبب بلند درجہ عطافرماتاہے جسے مقام رفیع کہاجاتاہے۔ اورعلامہ ابن جریرطبری تفسیر طبری میں اس آیت کے تحت ارشادفرماتے ہیں
﴿وَلِكُلࣲّ دَرَجَـٰتࣱ مِّمَّا عَمِلُوا۟ۚوَمَا رَبُّكَ بِغَـٰفِلٍ عَمَّا یَعۡمَلُونَ﴾ [الأنعام 132](قال أبوجعفر:يقول تعالى ذكره: ولكل عامل في طاعة الله أو معصيته، منازل ومراتب من عمله يبلغه الله إياها، ويثيبه بها، إن خيرًا فخيرًا وإن شرًا فشرًا)ترجمہ:ہرایک کیلئے اس کے عمل کے مطابق درجے ہیں اور تیرارب غافل نہیں عمل کرنے والوں کے عمل سے۔ امام ابوجعفر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنے کلام میں ارشاد فرماتا ہےکہ ہرعامل کیلئے اس کےطاعت ومعصیت میں منازل و مراتب ہیں جواسے پہونچ کر رہیں گےخیرکرنےوالے کوخیراورشراپنانےوالےکو شر۔
اسی طرح علامہ رازی رحمة اللہ تعالی علیہ سورہ کہف کی آیت کریمہ "ام حسبت ان اصحاب الکہف” الخ کی تفسیرمیں بخاری شریف کی حدیث ” اذااحببتہ کنت سمعہ الذی یسمع بہ”الخ نقل فرمانے کے بعدتحریرفرماتےہیں "العبداذاواظب علی الطاعات بلغ المقام الذی یقولُ اللہُ کنتُ لہٗ سمعاًوبصراًفاذاصارنورجلال اللہ سمعاًلہ سمع القریب والبعیدواذاصارذلک النورُبصراًلہ رأیَ القریبَ والبعیدَواذاصارذلک النورُیداًلہ قدَرَعلی التصرفِ فی السھلِ والصعبِ والقریبِ والبعیدِ۔(تفسیرکبیرج ٥/ص ٤٨٠)
جب بندہ اللہ کی اطاعت و فرما نبرداری پرمواظبت اختیارکرتا ہے تواللہ جل شانہ اسے اپنا محبوب بنا لیتاہے جیساکہ مفہوم حدیث "العبد اذاواظب علی الطاعات” الخ سے ظاہر و باہر ہے شان محبوبیت کچھ اس طرح بلندہوتی ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالی اسے ترقی دیتاہے چار مشہورعالم جس میں کل اٹھارہ ہزارعالم پائےجاتے ہیں۔ کو مسخر فر مادیتاہےسب پہلے عالم ناسوت کوپھرملکوت پھرجبروت پھرلاہوت پھرقرب کی خاص خانہ میں داخل فرماکرصفت تکوینی کامظہربنادیتاہےصفت تکوینی یہ ہے کہ اللہ رب العزت کی شان یہ ہے کہ وہ لفظ کن فرماکرجسے چاہے وجود دیدے یہ بندہ بھی بعد ترقی وحصول قرب اس صفت کامظہربن جاتاہے اب یہ بھی عالم میں جس شی سے متعلق کچھ کہہ دے تو وہ وجود میں آجاتی ہے
سرکارمظہرشعیب الاولیاء کی ذات ستودہ صفات محتاج تعارف نہیں اہل عالم پرآپ کےمقام جلیلہ مثل آفتاب وماہتاب روشن ومنورہیں اللہ رب العزت نے آپ کو بہت سی خوبیوں اور اوصاف حمیدہ کاپیکربنایاتھاانہیں اوصاف میں مستجاب الدعوات ہونا بھی آپ کاحصہ تھا۔چنانچہ جس وقت آپکےوالد ماجدحضور شعیب الاولیاء حج بیت اللہ کے لئے تشریف لے گئے تو آپ کےساتھ آپ کے بھائی حضرت سادھو باباعلیہ الرحمہ اور حاجی عطاء اللہ صاحب (کٹھوتیا)اور چودھری حاجی وزیرصاحب(بھٹیا)اور انکے علاوہ چند اوراشخاص بھی تھےحضرت سادھوباباعلیہ الرحمہ جو بڑے ہی نیک سیرت ونیک خصلت تھے اور یہی آپ کے اخراجات سفرکے امین بھی تھےاور آپ کےملبوسات کےامین چودھری حاجی عطاء اللہ صاحب تھےان کےذمہ یہ خدمت تھی کہ حضرت کے اترے ہوئے کپڑے دھوکر یا دھلوا کرمحفوظ رکھیں اوربوقت تبدیلی لباس حسب طلب دیدیاکریں ۔اسی طرح مختلف خدام کے ذمہ مختلف خدمتیں تھیں سرکارشعیب الالیاء علیہ الرحمہ فریضہ حج سے فارغ ہوکرجب مدینہ المنورہ پہونچے توآپ نے سادھوباباعلیہ الرحمہ سے کہا کہ میں فقراء مدینہ پرکچھ خرچ کرناچاہتاہوں چنانچہ سوروپیہ ایک دن سادھوباباسےلیکرتقسیم فرمادیا۔دوسرے دن بھی ایسا ہی ہوا۔دوسرے دن بعدتقسیم آپ نےفقراء مدینہ میں اعلان فرمادیاکہ آپ لوگ روزآنہ یہاں جمع ہوجایاکریں میں اپنے حسب حیثیت آپ لوگوں کی خدمت کرتارہوں گا ادھر سادھوبابا نےدیکھا کہ رقم مدت قیام تک تقسیم کیلئے ناکافی ہے اور واپسی کیلئے بھی رقم درکار ہونگے۔تیسرے دن دینےمیں جھجھک محسوس کی تو سرکارشعیب الاولیاء علیہ الرحمہ نے ارشادفرمایاٹھیک ہے آپ کو نہیں دینا ہےتو مت دیجئے میں توغرباء میں رقم ضرورتقسیم کروں گاچنانچہ حسب سابق آپ نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اورسو روپیہ نکال کرتقسیم فرمادیااور جب تک قیام رہابرابر آپ اسی طرح تقسیم فرماتے رہےجبکہ آپکے لباس کوپہننےکےوقت اچھی طرح سےچیک بھی کیاجاتاوہ رقم سے خالی ہوتامگر وقت تقسیم اسی سے رقم مسلسل برآمدہوتی رہتی۔ اورآپ تقسیم فرماتے رہتے یہ آپ کے دعاء مستجاب کی جلوہ گری تھی اسی مستجابی دعوت کودیکھ کرسادھوباباجو ابھی تک مرید نہیں ہوئےتھے وہیں آپ سے مرید بھی ہوگئے فالحمدللہ الکریم۔
چونکہ آپکے لخت جگر سرکار مظہر شعیب الاولیاء علیہ الرحمہ آپکے سچےمظہرو جانشین اور جملہ صفات کے آئینہ دار تھےمستجابی دعوات کی متعددنظیریں آپکے ذات ستودہ صفات سے جڑی ہوئی ہیں جومثل آفتاب روشن ہیں "عیاں را چہ بیاں”
اسی لئےآپ نےاپنےعہدپاکیزہ ہی میں اپنے لخت جگرنورنظرمجاہدسنیت حضورآقائی وماوائی وملجای مطلوبی ومرادی سیدی وسندی مظہرشعیب الاولیاء علیہ الرحمہ والرضوان کواپناجانشین وخلیفہ بناکرادارہ فیض الرسول کےباگ وڈورآپ کےمقدس ہاتھوں میں دیکر امت مسلمہ پروہ عظیم احسان فرمایاجس کااعتراف آج ایک دنیاکرنےپرمجبورہے
ادھرحضورمظہرشعیب الاولیاء علیہ الرحمة والرضوان نےدارالعلوم فیض الرسول کووہ عروج وارتقاء بخشاجسکاشہرہ آج ہرسوعالم میں ہےاورقصر فیض الرسول کی ایک ایک اینٹ آپ کےعظمت ورفعت کاترانہ گاتی ہوئی نظر آتی ہےیہ وہی مظہرشعیب الاولیاء ہیں جنہوں نےاساتذہ فیض الرسول کی نازبرداری میں کوئی کسرباقی نہ رکھاخلوت وجلوت ہرآن انکی خیرخواہی فرماتے رہےاحاطہ فیض الرسول میں علماء واساتذہ کی ضیافت کاحسین منظرآج بھی آنکھوں کوجلابخشتاہےجس میں آپ اپنی میزبانی وضیافت سے انہیں عزت واحترام کےبلند مقام پردیکھ کراظہارمسرت فرمایاکرتےتھے۔راقم الحروف فقیریارعلوی کے مشاہدہ میں ہےہرسال عروس البلاد ممبئی کےسفرسےواپسی پرعلماءکرام واساتذہ عظام پرخصوصی نوازشات کی بارش ہواکرتی تھی۔
ابررحمت انکی مرقدپرگہرباری کرے
حشرتک شان کریمی نازبرداری کرے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ہم نام اکابر

ازقلم: محمد سلیم انصاری ادروی ملا عبد القادر بدایونی "منتخب التواریخ” کے مصنف اور ہندوستان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے