ہندوستان میں فسطائیت کے قدم ابھر آئے ہیں آؤ ہم تاریخ کو نشان زد کر دیں

تحریر: محمد دلشاد قاسمی

ہندوتوا موجودہ ہندوستان کا سب سے سلگتا ہوا مسئلہ ہے پہلے یہ صرف ایک نظریے کی حیثیت سے زندہ تھا اور سماج کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر رہا تھا لیکن اب عملی زندگی میں بھی اس کے اثرات کھل کر ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
ہندوستان کے لیے قومی تشخص کی جستجو ہندومذہبی نیشنلزم کے توسط سے انیسویں صدی میں شروع ہوئی جو اب تک جاری ہے لہذا اس کے لئے فکری اور عملی سطح پر جس تحریری پروپیگنڈے کا سہارا لیا گیا اس میں ہندوستانی تہذیب کو دوسری تہذیبوں سے قدیم ثابت کرنے کا عزم پیہم، مسلمانوں اور عیسائیوں کو اس ثقافت کے ازلی اور ابدی دشمن کی حیثیت سے باور کرانے کی کوشش کو اولیت حاصل ہے۔اور اس کے لیے تاریخ کو ہتھیار بنایا گیا موجودہ وقت میں مطالعہ تاریخ اکھاڑے کی شکل اختیار کر گیا ہے اور یہ ہمارے لئے ایک لمحہ فکر ہی نہیں لمحہ اضطراب بھی ہے۔ سنگھ کے پاس اب تک ایک ہی اکائی ہے اور وہ ہے بھارت کے غیر ہندو طبقے کو سفید جھوٹ کے ساتھ ہندوؤں پر مسلط طبقے کی شکل میں پیش کیاگیا اور اب بھی کیا جا رہا ہے ۔
تنگ نظر اور متعصب مورخین نے ہندو قوم کے ذہنوں میں بےبنیاد واقعات کا زہر بھر دیا ہے ۔
مثلا مسلمان بادشاہ نے لاکھوں ہندوؤں کا خون بہایا، عورتوں کی بڑے پیمانے پر آبرو ریزی کی، مندروں کو مسمار کیا، لوٹ کھسوٹ، اور گاؤکشی جیسے الزامات نے ہندو قوم کے اندر نفرت اور انتقام کی آگ کو بھڑکا دیا جبکہ یہ تمام واقعات اور الزامات غیر مدلل، غیر منطقی، غیر یقینی، اور بے بنیاد ہیں۔ غیر جانب دار اور ذمے دار مؤرخین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے اور اس قسم کی باتوں کو محض بہتان تراشی پر محمول کیا ہے لیکن کیا، کیا جائے کہ اس قسم کے من گھڑت واقعات آنے والی نسلوں کے لیے ورثے کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔
اور اس میں بھی کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ تعلیم اور تحقیق کے تمام ادارے اور ان میں پڑھایا جانے والا نصابی مواد سنگھ کے مخصوص اساتذہ، محققین، اور مورخین، کے ہاتھوں میں ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کے مخصوص پرچارک بھی اس تعلیمی نظام اور ان جیسی دیگر چیزوں کی تشہیر میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ آج اسکولوں کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں اور سنگھ کے مراکز کے علاوہ مندروں وغیرہ میں بھی سنگھ کے نظریاتی مقاصد کو نصاب کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔اس کے لئے سنگ کی ایک تنظیم ودیا بھارتی نے بڑے پیمانے پر اپنے نظریاتی اسکول قائم کیے ہوئے ہیں۔

Vidiya Bharati educational wing of Rashtriya Swayamsevak Sangh (RSS). It runs one of the largest private network of schools in India, operating 12,000 schools with over 32,00,000 students.
Most of the Vidya Bharati schools are affiliated to the Central Board for Secondary Education or their local State Boards.
In addition to formal schools (which go by a variety of names such as Shishu Vatika, Saraswati Shishu Mandir, Saraswati Vidya Mandir, Saraswati Vidyalaya etc.)
Dinanath Batra, former General Secretary of Vidya Bharati, said that they were fighting an "ideological battle against Macaulay, Marx and Madrasawadis”. In comparison to which Vidya Bharati advocates "Indianization, nationalization and spiritualization” of education.
The schools also use the students as conduits for spreading RSS ideology. The teachers go to students’ houses to tell the parents about their children’s performance and current activities in the schools. Children are asked to take home pamphlets about RSS and VHP activities to their parents.
The state-level affiliate committees of Vidya Bharati go by various names, depending on the socio-political situation in each state:
Delhi: Hindu Shiksha Samiti,
Haryana: Hindu Shiksha Samiti,
Punjab: Sarv Hitkari Shiksha Samiti,
Bihar: Vidya Vikas Samiti
Jammu: Bharatiya Shiksha Samiti
Jharkhand: Vananchal Shiksha Samiti, Vidya Vikas Samiti, Shishu Shiksha Vikas Samiti[18]Odisha: Shiksha Vikas Samiti,
Telangana and Andhra Pradesh: Sri Saraswati Vidya Peetham[17]Tamil Nadu: Tamil Kalvi Kazhagam, Vivekananda Kendra and others,
Kerala: Bharatiya Vidya Niketan,
Assam: Shishu Shiksha Samiti,
Uttrakhand : Bharatiya Shiksha Samiti
Uttar Pradesh: Bharatiya Shiksha Samiti

سنگھ نے اپنے تعلیمی اداروں میں ایسے نقشے آویزاں کئے ہیں جن میں تقسیم سے پہلے کہ پورے ہندوستان کو جگہ دی گئی ہے، پاکستان اور بنگلہ دیش کو دشمن ممالک کا نام دیا گیا ہے ان تصویروں میں ہندو سورماؤں کو بڑے جاہ و جلال کے رنگ میں پیش کیا گیا ہے جبکہ مسلم حکمرانوں کو نہایت سفّاکی اور نفرت انگیز شکلوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے آپ حیران ہوں گے کہ پہلی جماعت کے پانچ، پانچ سالہ بچے بھی مٹھیاں بھینچ بھینچ کر انتقامی نعرے لگا رہے ہوتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر قومیں داخلی انتشار اور خانہ جنگی کے آتش فشاں میں جل کر راکھ ہوئی ہے ۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا سنگھ پریوار ہی تنہا ہندو ریاست کے قیام کے لیے کوشاں ہے ؟
تو اس کا جواب نہیں ہے ۔ آریا سماج کے لوگ بھی اختلافات کے باوجود سنگھ پریوار کے قومی نصب العین سے وابستہ ہیں بھارتی ہندو رکشا سمیتی کا ایک ابھرتا ہوا نعرہ ہے، ہندوستان کو ہندو جمہوریہ قرار دینے کا عزم کیجیے۔ ہند و جاگو دیش بچاؤ، اکھل بھارتیہ، ہندو کلیان سمیتی بھی اس سے پیچھے نہیں ہیں اس نصب العین کے حصول کے لیے آریہ سماج کی میگزین "جن گیان” کی ایڈیٹر پنڈتا راکیش رانی نے تو ہندو نوجوانوں سے کرشن جی کے نام پر فوج منظم کرنے کی اپیل کی تھی اور 10 باتوں کا عہد لیا تھا جن میں سے کچھ یہ ہے ۔
ہم بھارت میں ایک بھی مسلم یونیورسٹی نہیں بننے دیں گے
بھارت کو ہندو جمہوریہ قرار دلوائیں گے
ہندوؤں کی فتح کے لیے جو بھی ممکن ہوگا کریں گے
ہر جگہ اوم دھوج لہرائیں گے
غیر ملکی حملہ آوروں کو اور ریزرویشن کا مطالبہ کرنے والوں کو غدار تصور کریں گے اور انہیں ختم کریں گے
ان تمام باتوں کا جو عہد کر سکے وہ ہمارے ساتھ آئے اور جو سیکولرزم کا گیت گاتے ہیں وہ چوڑنیاں پہن لیں ۔ (جن گیان جولائی اگست 1982)
ان باتوں سے جو مجوزہ ہندو راشٹر کی شکل ابھر کر سامنے آتی ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ کوئی نئی مسلم یونیورسٹی نہیں بن سکے گی، اقلیتوں کے تمام ادارے بند کر دیے جائیں گے، اقلیتوں کو ملی ہوئی رعایت ختم ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں وہ دوسرے درجے کے شہری بن جائیں گے، غیر ملکی اقتدار والے تمام نشانات ختم کئے جائیں گے، یعنی مسجدیں شہید کر دی جائیں گی، یکساں سیول کوڈ نافذ کیا جائے گا، ہندوؤں کی حفاظت کے لئے ہر ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے، یعنی دستور نیا وضع کیا جائے گا جو اونچ نیچ پر مبنی ہوگا وغیرہ وغیرہ ۔
اس کے لیے آر ایس ایس نے سب سے زیادہ عام اور سب سے زیادہ مضبوط چیز مذہب کا استعمال کر کے عوام کو متحرک کیا۔ اور سیاست میں اپنے قدم جما لئے ایک بات اپنے ذہن میں اچھی طرح سے بٹھا لیجئے کہ اب آر ایس ایس کی سیاسی تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی اب کوئی سیاسی پارٹی نہیں رہی بلکہ وہ ایک مذہبی پارٹی بن چکی ہے۔ غریبی کو دور کرنا، نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کرنا، ملک کی معیشت کو ترقی دینا، یہ سب حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ایسا عوام کا ذہن بنایا گیا اور اور تقریباً یہ ذہن بن چکا ہے۔ بلکہ حکومت کا کام صرف ہندو مذہب کی حفاظت کرنا ہے اور بی جی پی اس وقت مذہب کی لڑائی لڑ رہی ہے اس لیے ہمیں ساری صعوبتیں برداشت کرکے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کو جتانا ہے تاکہ ہم اپنے مذہب کی لڑائی لڑنے میں کامیاب ہو سکے۔
ہندوستان میں فسطائیت کے قدم ابھر آئے ہیں آؤ ہم تاریخ کو نشان زد کر دیں ایک بات ہمیں اچھی طرح سمجھ میں آجانی چاہیے کہ اس فسطائیت کو اسی وقت پچھاڑا جا سکتا ہے جب وہ تمام لوگ جو غلط پروپیگنڈے کی وجہ سے طیش میں ہے سماجی انصاف کے تئیں اسی شدت سے خلوص دکھائیں جس طرح کے وہ اب طیش میں ہیں ۔ اس کے لئے زمینی سطح پر بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اب فقط شور مچانے سے نہیں کچھ ہوگا
صرف ہونٹوں کو ہلانے سے نہیں کچھ ہوگا

اپنے اسلام کی تاریخ اُلَٹ کر دیکھو ذرا !!
اپنا گزرا ہوا ہر دور اُلَٹ کر دیکھو ذرا !!

تم پہاڑوں کا جگر چاک کیا کرتے تھے،،
تم تو دریاؤں کا رخ موڑ دیا کرتے تھے،،

تم نے خیبر کو اکھاڑا تھا تمہیں یاد نہیں؟
تم نے باطل کو پچھاڑا تھا تمہیں یاد نہیں؟

رہ کے محلوں میں ہر اِک آیتِ حق بھول گئے!!
عیش وعشرت میں پیمبر ﷺ کا سبق بھول گئے!!

اپنے قدموں پہ زمانے کو جُھکانا ہے تمہیں
نام ہر دشمنِ ایماں کا مٹانا ہے تمہیں

لے کر اسلام کے لشکر کی ہر اک خوبی اُٹھو!!
اپنے سینے میں لئے جذبہ ایمانی اٹھو!!

تم جو چاہو تو زمانے کو ہِلا سکتے ہو،،
فتح کی ایک نئی تاریخ بنا سکتے ہو،،

خود کو پہچانو تو سب اب بھی سنور سکتا ہے
دشمنِ دین کا شیرازہ بِکھر سکتا ہے

حق پرستوں کے فسانے میں کہیں مات نہیں!!
تم سے ٹکرائے، زمانے کی یہ اوقات نہیں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مسلم سیاسی پارٹی:مفید یا مضر ایک تجزیہ (قسط دوم)

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمیمدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی مسلم پارٹیوں کے ساتھ سیکولر پارٹیوں اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے