بارک لنا فی رجب وشعبان

تحریر: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ

رجب کا مہینہ آگیا ، شعبان اور پھر نیکیوں کا موسم بہار رمضان المبارک ، تین مہینے مسلسل ، رجب میں معراج ، شعبان میں شب برأت اور رمضان ہر پل ہر لمحہ رحمت پرور دگار، کوئی اندازہ لگا سکتا ہے ا للہ کے جو دو عطا کا، اسی لیے بزرگوں سے منقول ہے کہ رجب سے ہی یہ دعا شروع کر دی جائے کہ اے اللہ ہمارے لیے رجب وشعبان میں برکت عطا فرما اور رمضان المبارک تک ہمیں پہونچا دے تاکہ ہم اس کے فیوض وبرکات سے مستفیض ہو سکیں اور نیک اعمال کے ذریعہ بخشش کا سامان کر سکیں ، بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ رجب آتے ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگنا شروع کر دیتے تھے، ایک زمانہ تک احقر بھی اسے حدیث ہی سمجھتا رہا اور اللہ معاف کرے مختلف موقعوںسے تقریروں وتحریروں میں نقل بھی کرتا رہا ، لیکن جب چند سال قبل رمضان میں قطر حکومت کی دعوت پر ’’احوال السلف فی رمضان ‘‘ پر خطاب کے لیے وہاں پہونچااس سلسلہ کا ایک پروگرام’’فنار‘‘ کے آڈیٹوریم میں تھا ، میں نے اپنی گفتگو کا آغازاسی حوالہ سے کیا اور پورے اعتماد سے کیا ، کیوں کہ بعض بڑوں کی تحریروں میں اس دعا کی نسبت آقا صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا ، تقریر ختم ہوئی، افطار ونماز مغرب سے فراغت کے بعد باہر نکل رہا تھا کہ ایک شخص نے چلتے چلتے کان میں کہا کہ شیخ! یہ دعا بڑی پیاری ہے، لیکن نسبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف صحیح نہیں ہے، چونکا ضرور ، مگر حیرت اس لیے نہیں ہوئی کہ ایسی بہت سی روایتیں حدیث کے طور پر زبان زد ہیں، لیکن ان کی کوئی بنیاد حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں نہیں ہے ، میں نے فورا ہی مولانا رحمت اللہ ندوی جو بڑے عالم ہیں اور قطر ہی میں مقیم ہیں سے اس کا تذکرہ کیا، دس منٹ نہیں گذرے تھے کہ انہوں نے وھاٹس ایپ پر پوری تخریج بھیج دی ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سلسلے کی وعیدیں ذہن میں آئیں کہ جس نے میری طرف قصدا جھوٹی بات منسوب کی اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ، خوف طاری ہوا، پھر’’ متعمداً ‘‘یعنی قصداًکی قید دیکھ کر اطمینان ہو اکہ میرا شمار ان میں نہیںہے، اس لیے کہ میرا یہ عمل قصداً نہیں تھا ، مولانا رحمت اللہ ندوی حفظہ اللہ نے جو بھیجا تھا وہ تو اب محفوظ نہیں ، لیکن مطالعہ سے جو بات واضح ہوئی ،ا س کا خلاصہ یہ ہے کہ اس روایت کے ایک روای زائدہ بن ابی الرقاد ہیں، جنہیں تہذیب التہذیب میں (۳۰۵،۳۰۴) حافظ نے اور التاریخ الکبیر (۳؍ ۳۳۳ حدیث ۱۳۳۵) میں منکر الحدیث لکھا ہے، اس حدیث کے ایک راوی زیاد النمیری کو میزان الاعتدال (۲؍ ۹۱) میں ضعیف قرار دیا ہے ، یہی قول مجمع الزوائد (۱۰؍ ۳۸۸) میں جمہور محدثین کا نقل کیا ہے ، علامہ نووی نے الاذکار( ص ۱۸۹) ابن رجب نے لطائف المعارف (ص ۱۲۱) اور علامہ البانی نے ضعیف الجامع (۴۳۹۵) میں اسے ضعیف قرار دیا ہے، البتہ دعا کے الفاظ جو ہیں ان کے ذریعہ دعا مانگنے میں کسی قسم کی کوئی قباحت نہیں ہے،کیوں کہ دعا اللہ سے مانگی جا رہی ہے، اور برکت طلب کی جا رہی ہے، ان میں کچھ بھی ممنوع نہیں، بلکہ مطلوب ہے، فنی اعتبار سے حدیث میں ضعف راوی کی وجہ سے آیاہے ، میرے مطالعہ میں کسی نے اس روایت کو موضوع نہیں قرار دیا ہے ۔ رجب کے سلسلے میں دو اور احادیث کا ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے ، یہ روایتیں بھی مشہور ومعروف ہیں۔ایک روایت تو وہ ہے جس میں ان پانچ راتوں کا ذکر کیا گیا ہے ، جن میں دعا رد نہیں ہوتی ، ان میں ایک رات رجب کی پہلی رات مذکور ہے ، یہ روایت ابن عساکر کی تاریخ دمشق (۱۰؍ ۴۰۸) میں موجود ہے ، اس روایت میں ایک راوی ابو سعید بندار بن عمر الرویانی ہیں، ابن عساکر نے عبد العزیز النخشبی کا قول نقل کیا ہے کہ بندار سے روایت نہ سنو، اس لیے کہ وہ کذاب ہے، اس روایت کے راوی ابو قعنب مجہول ہیں اور ایک راوی عبد القدوس کے حالات بھی پردہ خفا میں ہیں۔
ایک دوسری روایت بیہقی نے شعب ا لایمان میں ذکر کیا ہے کہ ماہ رجب میں ایک دن اور ایک رات ایسی ہے، جس میں اگر کوئی روزہ رکھے اور رات کو عبادت کرے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے سو سال کے روزے رکھے اور سو سال قیام اللیل کیا ، یہ رجب کی ستائیس تاریخ ہے ، یہ روایت اس کے راوی بیاض اور اس کے بیٹا خالد کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے،اس سلسلے کی تفصیلات تہذیب الکمال (۷؍ ۳۳۷) تاریخ کبیر (۸؍۱۳۳) الجرح والتعدیل (۹؍ ۱۳۸) میزان الاعتدال (۳؍ ۲۴۰) لسان لمیزان (۹؍ ۲۴۲) اور تقریب التہذیب (۲؍ ۳۳۱) میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے