غزل: ظلمت شب میں وہ بےاماں ہوگیا

خیال ناطق

ظلمت شب میں وہ بےاماں ہوگیا
صبح کی پوپھوٹی شادماں ہوگیا

بس تجربات میں زندگی کٹ گئی
قیمتی وقت بھی رایگاں ہوگیا

خدمت خلق جب اسکا شیوہ رہا
قوم وملت کاوہ ساءباں ہوگیا

وہ مکاں جو زمانہ سے منحوس تھا
اسکے آتے ہی وہ کہکشاں ہوگیا

جوحقیقت کوپامال کرتارہا
سامنے جب ہوابےزباں ہوگیا

باعث کفردنیامیں مردود تھا
کلمہ پڑھتےہی وہ جان جاں ہو گیا

غوث وخواجہ رضا کاکرم دیکھۓ
آج ناطق بھی ہوں خوشبیاں ہوگیا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل: بحث کا کچھ نہیں جس کو سلیقہ

بحث کاجو بھی ہے بہتر طریقہنہیں بحاث کواس کا سلیقہ بحث میں صغریٰ کبریٰ حداوسطنہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے