منقبت شریف در مدح حضرت سید سالار مسعود غازی علیہ الرحمۃ

کلام: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری رحمۃ اللہ علیہ

پیشکش: محمد سعید رضا
نوری مشن، رضا لائبریری ،مالیگاؤں

حضرتِ مسعود غازی اختر برج ھدیٰ
بے کسوں کا ہمنوا وہ سالکوں کا مقتدا

ساقیٔ صہبائے الفت راز دانِ معرفت
بادشہ ایسا وہ جس کی ایک دنیا ہے گدا

آسمانِ نور کا ایسا درخشندہ قمر
جس کی تابش سے منور سارا عالم ہوگیا

نائب شاہِ شہیداں وہ محافظ نور کا
جس نے سینچا ہے لہو سے گلشن دین خدا

استقامت کا وہ کوہِ محکم و بالا تریں
جس کے آگے کوہِ آفات و مصائب جھک گیا

سادگی میں بھی ہے وہ سردارِ خوباں دیکھئے
کیا مقدس ذات ہے جس کی نرالی ہر ادا

نوشۂ بزم جناں وہ بندۂ رب جہاں
حور و غلماں جس کی خدمت پر مقرر ہیں سدا

تیرے نور فیض سے خیرات دنیا کو ملی
ہم کو بھی جد معظم کا ملے صدقہ شہا

یا الٰہی تیرے بندے کے درِ پر نور پر
گردشِ ایام کا میں تجھ سے کرتا ہوں گلہ

یا الٰہی بے نیاز دہر تو کردے مجھے
دور کردے میرے دل سے الفت ہر ماسوا

اللہ اللہ یہ نصیب اخترؔ شیریں سخن
فیض مولا سے ہے وہ سالار کا مدحت سرا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نعت رسول: طائرِ مدینہ تو! لے کے دردِ دل جاتا

مرشدی تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے ایک مصرع پر طبع آزمائی کی کوشش نتیجۂ فکر: …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے