سید سالار مسعود غازی علیہ الرحمہ کی شہادت

ازقلم: جمال احمد صدیقی اشرفی القادری

شہادت ہے مطلوب مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

مولا علی کے کچھار کا شیرنر
سید سالار ساھو کا راج دلارا

جزبہ حسینی لئے غزنی سے سفر کرنے والا مجاہد ۔ یوں تو امن کا پیغام اور تبلیغی مشن لےکر نکلا تھا ۔ لیکن باطل پرست طاقتوں کو اس کا پیغامِ امن اور تبلیغی مشن ایک آنکھ نہ بھایا ۔ اور ہرمقام پر اس کے بڑھتے ہوئے قدم کو پابہ زنجیر کرنے کی کوششیں کی گئیں ۔ قدم قدم پر حوصلہ شکن حالات پیدا ہوتے رہے کوئی معمولی عزم وہمت کا انسان ہوتا تو بھاگ کھڑا ہوتا ۔ مگر قربان جائیے اس مرد مجاہد کی ثبات قدمی ۔ اولوالعزمی ۔ بلند حوصلگی ۔ عالی ہمتی ۔ شجاعت وبہادری پر کہ مخالف لہروں سے ٹکراتے ہوئے آگے بڑھتا رہا ۔ ہرمحاذ پر فتح و نصرت کے جھنڈے لہراتے ہوئے اپنی آخری منزل بہرائچ پہنچ گئے ۔ جہاں رحمتِ خداوندی اپنی آغوش میں لینے کے لئے منتظر تھی اور عروسِ شھادت گلے لگانے کے لئے بےچین تھی ۔ آج کی تاریخ میں آپ کی شھادت مقدر ہوچکی تھی ۔
نمازِ ظہر اور شہداء کی نمازِ جنازہ ادا فرمانے کےبعد سید سالار مسعود غازی علیہ الرحمہ اپنی بچی کھچی فوج کو سمیٹ کر ایک شیردل بہادر کی طرح دشمن کی فوج پر جو چٹان کی طرح جمی ہوئی تھی ۔ اتنا زور دار حملہ کیا کہ دشمن کے ہوش اڑ گئے ان کی فوج کے اندر افراتفری پھیل گئی ۔ سیف الدین سالار رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے مجاہدین کے ہاتھوں بہت سے بڑے راجہ موت کے گھاٹ اتر چکے تھے ۔ اس کے بعد آپ نے بھی بہتوں کو اپنے تیغِ جوہر دار سے موت کی نیند سلادیا ۔ حریف جو بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا ۔ آپ نے اسے اپنی خداداد طاقت اور طوفانی حملے سے پیچھے قدم ہٹانے پر مجبور کردیا ۔ یہاں تک کہ اسے اپنی سرحد ہی پر جاکر ٹھرنا پڑا ۔ آپ بھی مہلت پاکر اپنی جگہ پر واپس آکر کھڑے ہوئے عجیب قیامت خیز منظر نگاہوں کے سامنے تھا ۔ پورا میدانِ جنگ لاشوں سے بھرا پڑا تھا ۔ ایسا محسوس ہوتا تھا گویا روئے زمین نے لاشوں کی فصل اگادی ہو ۔ کتنے نیم جاں تڑپ رہے تھے ۔ زخموں کی چیخ وپکار سے پورا میدان گونج رہا تھا ۔ کتنے جانکنی کے حالت میں زندگی کی آخری ہچکیاں لے رہے تھے ۔ جو زندہ وسلامت تھے وہ بھی عجیب کشمکش کا شکار تھے ۔
حضرت صوفی عبدالرحمن علیہ الرحمہ اس خاص موقع کی منظر کشی کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ ۔
رائے سہر دیو اور رائے بہر دیو اور کئی دوسرے راجاؤں نے جب دیکھا کہ اس غزنوی نوجوان کے اکثر رفقاء شہید ہوچکے ہیں ۔ اب صرف چند لوگ رہ گئے ہیں موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے اپنے دستہ کو لےکر آپ پر گھیرا تنگ کرتے ہوئے قریب آئے اور چاروں طرف سے تیر برسانا شروع کیا ۔ ہرچند کہ آپ کے رفقاء پوری شجاعت وبہادری کےساتھ سینہ سپر ہوکرتیروں کی بارش کو روک رہے ہیں کہ آپ تک کوئی تیر پہنچنے نہ پائے ۔ لیکن یہ چند دیوانے تیروں کی یلغار سے کب تک بچتے آپ کا ہردیوانہ تیروں کی زخم سے چور چور ہوچکا تھا اور حضرت غازی علیہ الرحمہ بھی زخموں سے نڈھال ہوچکے تھے ۔ مگر ہزار مجروح ہونے کے باوجود آپ زخمی شیر کی طرح صف اعداء میں تہلکہ مچادیتے ۔ آپ کا ہروار مقابل کو موت کی آغوش میں پہنچا دیتا ۔ آپ کی تیغِ آبدار دشمن پر برق خاطف بن کر گرتی اور وہ زمین پر ڈھیر ہوجاتا ۔ جب تک دم میں دم رہا بہادرانہ شان سے مقابلہ کرتے رہے ۔ چرخِ نیلگوں نے روئے زمین پر شجاعت وبہادری کے ایسے مناظر کم ہی دیکھے ہونگے ۔ جنگ کا سلسلہ جاری تھا کہ نماز عصر کا وقت ہوگیا دشمنوں کا سردار سہردیو ٹیلوں کی آڑ میں چھپتا ہوا آپ کے بہت قریب پہنچ کر ایک نپاتلا تیر اس طرح مارا کہ آپ کے گلوئے مبارک میں تیر پوست ہوگیا ۔ تیر لگتے ہی خون کے فوارے جاری ہوئے ۔ آپ کا پورا جسم خون سے تربتر ہوگیا ۔ آپ اپنی وفادار گھوڑی ( اسپ نیلی ) پر سوار تھے خون کافی بہہ جانے کی وجہ سے آپ پر غشی طاری ہونے لگی آپ کی گرفت ڈھیلی پڑگئی ۔ گھوڑی کی پشت سے آپ کا جسم لڑھکنے ہی والا تھا کہ سکندر دیوانہ نے بڑھ کر آپ کو سنبھالا اور گھوڑی سے اتار کر سورج کنڈ کے قریب مہوے کے درخت کے نیچے لٹا کر آپ کا سرمبارک اپنے زانو پہ رکھا اور زار زار رونے لگے ۔ یہ وہی دیوانہ ہے جسے دنیا برہنہ شاہ بابا کہتی ہے ۔ آپ حضرتِ ابراہیم ادہم رحمۃ اللہ علیہ کے طریق پر ننگے سر ننگے پیر رہا کرتے تھے اور فقر میں ممتاز مقام حاصل تھا ۔ ہاتھ میں ایک سونٹا لئے ہمیشہ حضرتِ سید سالار مسعود غازی علیہ الرحمہ کے جلو میں پیدل چلا کرتے تھے ۔ حضرتِ غازی علیہ الرحمہ سے انہیں بےپناہ محبت تھی جس کی وجہ سے انہیں بارگاہِ حضور غازی میں خاص تقرب حاصل تھا ۔ جس پر دوسرے لوگوں کو رشک آتا تھا ۔
آج اس دیوانے پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی ۔ کیونکہ وہ محبوبِ دلنواز جس کے وجود سے دل کی دنیا آباد تھی وہی لباسِ ہستی بدل کر آخرت کی منزل کی طرف محوِ خرام تھا ۔ قوتِ صبروضبط جواب دے رہی تھی ۔ روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں تھیں ۔ سسکنے کی آہٹ سے حضرتِ غازی علیہ الرحمہ نے تھوڑی دیر کے لئے آنکھیں کھول دیں ۔ لبوں پر ایک دلنواز تبسّم مچل رہا تھااور زباں پر نغمۂ توحید جاری تھا ۔
ایسے ہی موقع کے لئے علامہ اقبال نے کہا ہے ۔
نشان مرد مومن باتو گویم ۔
چوں مرگ آید تبسّم برلب اوست ۔
اسی وجد آفریں کیفیت کے ساتھ چودہ رجب المرجب 424ھ / 1033ء کو جبکہ آپ کی عمر مبارک کے انیس سال پورے ہونے میں ابھی ایک ہفتہ باقی تھا ۔ بروزِ اتوار عصر ومغرب کے مابین اپنے عاشقِ زار سکندر دیوانے کے زانو پہ سر رکھے ہوئے راہئ ملک بقا ہوئے ۔
اناللہ واناالیہ راجعون ۔
موت خاصانِ خدا کے نزدیک انعامِ خداوندی ہے کیونکہ حدیثِ پاک میں ہے ۔
الموت جسر یوصل الحبیب الی الحبیب
سالارِ کارواں حضرت سید سالار مسعود غازی علیہ الرحمۃ کی شھادت کے بعد وہ چند رفقاء جو دشمنوں کی یلغار سے محفوظ تھے ۔ آپ کے بعد زندہ رہنے پر موت کو ترجیح دے رہے تھے سوسو جان سے قربان ہونے کا جذبہ ان کے سینے میں مچل رہا تھا اور اس خیال سے کہ جب ہمارا سالار ہی دنیا میں نہیں رہا جس کے لئے ہم نے ماں باپ بھائی بہن عزیز واقارب کو چھوڑا ۔ پیارے وطن زر ومال جائداد ۔ عیش وآرام سب کچھ چھوڑ کر یہاں آئے تھے ۔ اب اس کے بغیر ہمیں زندگی کا لطف ہی کیا ؟
لہٰذا ہمیں بھی اس کی ڈگر پر چل کر اپنی جانیں راہِ مولیٰ میں قربان کرکے سعادت اخروی سے سرفراز ہوکر وفاداری اور جانثاری کا تمغہ حاصل کرلینا چاہئے ۔ چنانچہ حضرت سید سالار مسعود غازی علیہ الرحمۃ کے یہ چند دیوانے اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر دشمنوں پر ٹوٹ پڑے ۔ دشمنوں نے چاروں طرف سے گھیرا ڈال کر تیروں کی بارش شروع کردی یہ چند نفوس قدسیہ بھی تیروں کی بارش میں اپنی جان جاں کو اپنے محبوب کے قدموں پر قربان کرکے جام شھادت نوش فرمالیا ۔ اور مغرب تک مسعودی لشکر کا ایک نفر بھی باقی نہ رہا ۔
چاند کے گرد ستاروں کے مثل سلطان الشہداء کے گرد جانثاروں کی لاشیں بےگوروکفن بکھری پڑی تھیں ۔ سکندر دوانہ وفورِ محبت میں سرکارِ غازی علیہ الرحمہ کا سر مبارک زانو پہ لئے بیٹھے تھے ۔ تیروں کے وار ہوتے رہے ۔ زخم پہ زخم سہتے رہے ۔ مگر غیرتِ عشق نے ذرا بھی جنبش کی اجازت نہیں دی اور اسی حالت میں اپنے محبوب کے قدم ناز پہ جان قربان کردی ۔

آسی شہیدِ عشق ہوں مردہ نہ جانیو ۔
مرکر ملی ہے زندگی جاوداں مجھے ۔
اے شہیدِ مرد مرداں تم پہ لاکھوں سلام ۔
آپ ہیں سلطانِ غازی آپ پر لاکھوں سلام

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

منقبت: قسمت میری جگا دو میرے مسعود غازی

نتیجۂ فکر: برکت اللہ فیضی، گونڈہ قسمت میری جگا دو میرے مسعود غازیبگڑی میری بنا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے