غزل: دل سے آئی صدا تعجب ہے

نتیجہ فکر: ناطق مصاحی

دل سےآئی صدا تعجب ہے
درد دل میں ہوا تعجب ہے

گندے تالاب میں نہاتا رہا
صاف ستھرا ہوا تعجب ہے

صبح سے شام تلک کھاتا رہا
روزہ بھی ہوگیا تعجب ہے

بے وضو جب رہا زمانہ سے
خوب سجدہ کیا تعجب ہے

پاکی ناپاکی کی تمیز نہیں
پاک باطن ہوا تعجب ہے

مانگتا پھر رہابھےبسڑکوں پر
پھر بھی گھر میں رہا تعجب ہے

جب عبادت کی خو نہیں اس میں
اچھا عابد ہوا تعجب ہے

روسیہ داغدارنکو دیکھو
خوب رو ہوگیا تعجب ہے

دیکھو ناطق کہ اس زمانے میں
عالم جاہل ہوا تعجب ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل : کسی کے پاس نہیں وقت اب کسی کے لیے

رشحات قلم : حافظ فیضان علی فیضان وہ چاہے دل کے لئے ہو کہ دل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے