نظم: موبائل اور بچپن

از: ڈاکٹر صالحہ صدیقی (الٰہ آباد)

معصوم بچپن میں اے موبائل آنا ترا
چھین کر لے گیا ان سے سہانا بچپن
تو جب سے آیا ہے
سنائی نہیں پڑتی بچوں کی آوازیں
نہ نانی کی کہانیاں ہیں
نہ دادی کی میٹھی لوریاں
نہ بچپن کی ہٹھ کھیلیاں
نہ وہ شرارتیں نہ وہ کلکاریاں
تونے الجھا دیا ویڈیوں گیم میں
نہ وہ دھول مٹی میں کھیلتے بچے
نہ وہ ہڈدنگ نہ وہ ضدی بچے
نہ وہ روٹھنا نہ وہ منانا
نہ وہ ضد کر کے ماؤں کا آنچل پکڑنا
پھر دلار سے لاڈ سے ماؤں کا منانا
پھر مان کر بچوں کا مسکرانا
انگلیوں پر جوڑ گھٹانا
سوالوں کی پھلجھڑیاں جلانا
لیکن اب نہیں وہ بچپن کا فسانہ
چھین لیا موبائل نے وہ سہانا زمانہ
کاش کوئی لوٹا دے وہ بچپن پیارا
وہ کاغز کی کشتی ،وہ گزرا زمانہ
وہ معصوم بچے ،وہ معصوم بچے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نظم: رودادِ درد

نتیجہ فکر: سید اولاد رسول قدسی، امریکہ ہند میں کیسا یہ آیا ہے عذابزیست ہوتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے