غزل: جانِ حسن اور کائناتِ رنگ و بو کیا چیز ہے

ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادت گنج، بارہ بنکی یو۔پی۔ بھارت

جانِ حسن اور کائناتِ رنگ و بو کیا چیز ہے
تیری قربت کہہ گئی اے یار تو کیا چیز ہے

وصل کی بے انتہا سر مستیوں سے پوچھ لو
کے سرور آرا حصولِ جستجو کیا چیز ہے

جان جاؤ گے تمہارا بھی کبھی ٹوٹا جو دل
کہ غم و دردِ شکستِ آرزو کیا چیز ہے

جتنی دلبر کی مرے شکل و شمائل ہے حسیں
اتنی دلکش اور اتنی خوبرو کیا چیز ہے

کیف سے لبریز اس کی چشمگیں کے سامنے
ساقیا تیرا یہ مے پرور سبو کیا چیز ہے

چاند ہے سورج ہے پھول و خوشبو ہے یا ہے دھنک
بولو میری جاناں جیسی ہو بہو کیا چیز ہے

مجھ سے مت پوچھو کسی سے دل لگا کر دوستو
جان لو آوارگئ کو بہ کو کیا چیز ہے

میں خموشی کو ہی بہتر جانتا تھا اے "ذکی "
ان سے باتیں کرکے سمجھا گفتگو کیا چیز ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل: حیراں ہوں ان کا مجھے شوقِ زیارت بھی نہیں

خیال آرائی: ذکی طارق بارہ بنکویسعادتگنج۔بارہ بنکی، یوپی۔بھارت حیراں ہوں ان کا مجھے شوقِ زیارت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے