جیل نامہ

خیال ناطق

عابد شب گزار جیل میں ہے
رحمت کردگار جیل میں ہے

بےگناہی کی سزا پرخوش ہے
سیکڑوں کا وقار جیل میں ہے

خانقاہوں میں آج کچھ بھی نہیں
خانقاہی بہار جیل میں ہے

دن میں روزہ نماز کاجلوہ
دیکھو تقوی شعار جیل میں ہے

شب میں ذکر خفی کی مستی ہے
ذکر رب کا خمار جیل میں ہے

پاس انفاس ہی کی برکت ہے
طے کا اب روزہ دار جیل میں ہے

رب کے اسماء کے ورد سے روشن
روشنی کا مینار جیل میں ہے

آج روحانیت کی جلوہ گری
دیکھو ناطق بہار جیل میں ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل: بحث کا کچھ نہیں جس کو سلیقہ

بحث کاجو بھی ہے بہتر طریقہنہیں بحاث کواس کا سلیقہ بحث میں صغریٰ کبریٰ حداوسطنہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے