وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے

تحریر: محمد شہادت حسین فیضی
کوڈرما، جھارکھنڈ انڈیا

"اللہ تعالی کو مذہب اسلام ہی پسند ہے”۔(آل عمران:19) اور قرآن کے تعلق سے اللہ تعالی فرماتا ہے: "بے شک ہم نے ہی قرآن اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں”۔ (سورہ حجر:9)
قرآن مقدس کے یہ آیات کریمہ دنیا کے تمام مسلمانوں کے عقائد حقہ کی مزید پختگی کے لیے کافی ہے،کہ اسلام قیامت تک باقی رہے گا اور قرآن بھی ہر طرح کے حذف و اضافہ اور تغیر و تبدل سے پاک رہے گا۔اور ہزار کوششوں کے باوجود صبح قیامت تک نہ کوئی اس کو مٹا سکتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی تبدیلی لاسکتا ہے، کہ قرآن اللہ تعالی کا کلام ہے جو قدیم اور ابدی ہے اور اسلام اللہ تعالی کا پسندیدہ مذہب ہے جو حتمی اور یقینی ہے۔
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
اللہ تعالی قادر مطلق ہے وہ اسباب کا محتاج نہیں ہے، وہ جب چاہتا ہے اور جیسے چاہتا ہے تصرف فرماتا ہے۔ وہ بغیر سبب و علت کے بھی کسی شئی کو عدم سے وجود بخشتا ہےاور کبھی سارے اسباب و علل کی موجودگی کے بعد بھی اسے بے اثر اور کالعدم بنادیتا ہے۔ مثلا دنیا کے تمام جانداروں میں افزائش نسل کے لیے نرومادہ کا اتصال ضروری ہے۔لیکن جب مشیت ایزدی نے چاہا تو حضرت عیسی علیہ السلام کو بغیر باپ کے ہی ماں کے شکم سے پیدا فرمایا۔اور اسی طرح والدین کے بغیر ہی حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق فرمائی۔وهوعلى كل شئ قدير.
اللہ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو علاج و معالجے کے معجزاتی صلاحیت دے کر اس وقت مبعوث فرمایا جب طب و حکمت عروج پر تھی تا کہ معالجین پر آپ علیہ السلام کو تفوق حاصل ہو۔اور دنیا کو اسلامی عقائد و نظریات پر ریسرچ و تحقیق کی ترغیب ملے۔
اللہ نے آپ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھایا اور پھر صدیوں بعد زمین پر متعدد محیر العقول کرشموں کے ساتھ اتارےگا۔
حضرت عیسی علیہ السلام جس عمر میں آسمان پر اٹھائے گئے ہیں بالکل اسی عمر میں دمشق کی جامع مسجد کے پوربی مینار پر نزول فرمائیں گے اور مینارۂ مسجد سے آپ نیچے سیڑھی کے ذریعے اتریں گے۔ یعنی ورود مسعود کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام آگے کی زندگی اسباب کے ساتھ گزاریں گے۔ان کی عمر بھی بڑھے گی۔ ضعیف بھی ہوں گے۔ اور وصال بھی فرمائیں گے۔جبکہ ہزاروں سال وہ آسمان پہ رہ چکے ہیں جہاں نہ ان کا جسم بڑھا اور نا ہی عمر میں اضافہ ہوا۔
یہ دنیا عالم اسباب ہے۔ یہاں کی ہر چیز کو اللہ تعالی نے اسباب کے پردے میں رکھا ہے۔ وہ قرآن جو لوح محفوظ میں مرقوم ہے اس کی نوعیت کو سمجھنا ہماری عقل و خرد سے ماوری ہے۔ لیکن یہ قرآن مقدس جو آج ہمارے سامنے ہے اور تئیس سال کی مدت میں وقفہ وقفہ سے نازل ہوا ہے۔اس کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہمارے ہی ذمۂ کرم میں اس کی حفاظت ہے۔اب چوں کہ یہ عالم اسباب میں آچکا ہے اس لیے اللہ تعالی نے اس کی حفاظت کے اسباب بھی پیدا فرما دیے ہیں۔آئیے ان اسباب پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
قرآن مقدس سے پہلے زبور تورات اور انجیل کے علاوہ جتنے بھی صحیفے اور کتابیں نازل ہوئی ہیں، وہ سب بھی عنداللہ محفوظ ہیں‌۔ لیکن ان میں سے ایک کتاب بھی پوری دنیا میں کہیں بھی صحیح و سالم محفوظ نہیں ہے۔ بلکہ جو کتابیں موجود ہیں وہ سب کے سب خرد برد اور تغیر و تبدل کے شکار ہو کر اپنی اصلی حالت کھو بیٹھی ہیں۔ مگر پوری دنیا میں قرآن مقدس وہ واحد کتاب ہے جس کے بارے میں قرآن کی پہلی آیت یہ اعلان کرتی ہے کہ”ذلك الكتاب لاريب فيه” یعنی یہ وہ مقدس کتاب ہے جس کے صحیح و سالم اور منزل من اللہ ہونے میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ہے۔
اللہ نے قرآن مقدس کو اس دنیا میں صحیح و سالم رکھنے کے لیے سیکڑوں اسباب پیدا کی ہے ۔ یہاں ان میں سے چند اسباب کا ذکر کرتا ہوں:
(1) جب بھی وحی نازل ہوتی۔ رسول کونین صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرام کو پڑھ کر سناتے اور وہ لوگ سن کر اسے یاد کر لیتے تھے (اس طرح حافظ قرآن بننے کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا اور آج کروڑوں کی تعداد میں حفاظ موجود ہیں) اور امین و صادق کاتبان وحی صحابۂ کرام میں سے جو وہاں موجود ہوتے، ان سے نازل شدہ آیات کو لکھوا بھی لیا کرتے تھے۔ پھر ابتدائے وحی سے انتہاء وحی تک آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے والے صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے تحریر شدہ متفرق آیات کو یکجا کیا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کو ترتیب سے سجایا اور پورے قرآن کو ایک ساتھ جمع کیا۔اورجامع القرآن ،کامل الحیاء والایقان حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ نے باضابطہ طور پر مستند قاریان قرآن کی ایک کمیٹی تشکیل دی، جس کی نگرانی میں از اول تا آخر تمام آیات قرآنی کو کتابی شکل میں تحریر کروایا۔ پھر اکابر صحابۂ کرام نے باریکی سے اس کو جانچا پرکھا اور اس نسخۂ قرآن کی تصدیق کی اور اس پر اجماع کیا۔ اس کے بعد متعدد نسخہ تیار کرواکر اکناف عالم میں بھجوایا، اور سابقہ تمام تحریر شدہ نسخے جو متفرق اور منتشر تھے ان سب کو تلف کرنے کا حکم دیا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہزاروں کارنامے ہیں ان میں سب سے بڑا کارنامہ جمع قرآن ہے۔
(2) اللہ تعالی نے تقریبا ایک ہزار سال تک دنیا میں مسلمانوں کو مضبوط حکومت عطا کی اور ان سبھی حکمرانوں نے قرآن مقدس کے نسخۂ عثمانی کی حفاظت کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ یہاں تک کہ پریس کا دور آ گیا اور پھر پوری دنیا میں سب سے زیادہ چھپنے اور پڑھی جانے والی کتاب قرآن مقدس ہے۔
(3) نماز ہر مسلمان مردو عورت پر فرض ہے اور نماز میں اصل قرآنی الفاظ میں قرآن پڑھنا فرض ہے کہ (تلخیص و ترجمہ پڑھنے سے نماز نہیں ہوگی) اب دنیا کے تقریبا 150 کروڑ مسلمان چاہے اس کی مادری زبان کچھ ہو لیکن نماز کی حالت میں اس کی زبان خالص عربی ہوتی ہے۔
(4) اللہ تعالی نے قرآن کو قیامت تک باقی رہنے والا ایسا معجزہ بنایا کہ اس میں انسانی کلام کی آمیزش نہیں ہو سکتی اور نہ اس کے مقابلے میں کوئی کلام بنایا جا سکتا ہے۔ قرآن نے یہ چیلنج کیا اور پھر اللہ نے اس چیلنج کو بتدریج پانچ مرتبہ آسان سے آسان تر کردیا اور چودہ سو پچاس سال سے آج تک یہ چیلنج بدستور دوہرایا جا رہا ہے لیکن کسی نے بھی اس کا جواب نہیں دیا ہے اور نہ کبھی دے سکے گا۔
بعض مشرکین یہ الزام لگاتے تھے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے خود یہ قرآن گھڑ لیا ہے۔اس کے جواب میں اللہ نے سورہ بنی اسرائیل کی مندرجہ ذیل آیت سے چیلنج کی:
قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الإنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا (٨٨)
” ( اے نبی (ﷺ) !) کہہ دیجیئے اگر سب انسان اور جن اس بات پر جمع ہوجائیں کہ اس قرآن کا مثل بنا لائیں تو وہ اس جیسا نہیں لاسکیں گے، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مدد گار ہی کیوں نہ ہوں۔ "
پھر اس چیلنج کو سورۂ ھود کی درج ذیل آیت سے آسان کردیا۔
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (١٣)
” کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے ( اپنے پاس سے ) یہ (قرآن) گھڑ لیا ہے؟ ( سو اے نبی!) کہ دیجیئے: پھر لے آؤ تم بھی دس سورتیں ویسی ہی گھڑی ہوئی اور ( مدد کیلئے ) بلا لو جسے تم بلا سکو اللہ کے سوا، اگر تم سچے ہو۔ "
بعد میں سورۃ یونس کی مندرجہ ذیل آیت میں چیلنج کو اور آسان تر بنا دیا گیا:
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (٣٨)
” کیا وہ ( کافر ) کہتے ہیں کہ اس ( رسول ) نے اسے گھڑ لیا ہے ؟ ( اے نبی! )کہہ دیجیئے: تم تو اس جیسی ایک ہی سورت لے آؤ ( مدد کے لیے ) اللہ کے سوا جن کو بلا سکتے ہو بلا لو، اگر تم سچے ہو۔ "
آخر کار سورۂ بقرہ میں اللہ تعالی نے اس چیلنج کو مزید اور بھی آسان سے آسان تر بنا دیا اور یہ کہا:
وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (٢٣)
” اور اگر تم اس (کلام) کے بارے میں شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا تو تم اس جیسی ایک سورت ہی لے آؤ، اور بلا لاؤ اپنے حمایتیوں کو سوائے اللہ کے، اگر تم سچے ہو”
یوں اللہ تعالی نے اپنے چیلنجوں کو انتہائی آسان بنا دیا۔
لیکن آخری چیلنج کا جواب بھی آج تک کسی نے نہیں دیا ہے اور نہ کبھی دے سکتا ہے۔
اور یہی قرآن کے کلام خداوندی ہونے کے لیے کافی ہے۔
(5) قرآن کا محفوظ رہنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ قیامت سے پہلے ایک ایسا وقت آئے گا جب پوری دنیا میں اسلام غالب مذہب ہوگا۔اگرچہ کفار و مشرکین اسے نا پسند کریں گے ( سورہ الصف:آیت9)
(6) ابتدائے اسلام سے ہی غلبۂ اسلام کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ تاہنوز جاری ہے حالانکہ مسلمان علم و ہنر میں دوسروں کے مقابلے میں بچھڑنے اور آپسی اختلافات کی وجہ سے پوری دنیا میں حقیر اور کمتر ہیں تاہم اللہ و رسول کے بعد قرآن مسلمانوں کے درمیان نقطۂ اتحاد ہے۔
(7) اللہ تعالی نے قرآن پاک کے الفاظ اور جملوں کو مخصوص صوتی ومعنوی آہنگ میں پرویا ہے۔جس میں ایک حرف یا زیر و زبر کی زیادتی یا کمی فوری طور پر محسوس کی جاتی ہے، اور گرفت میں آ جاتی ہے۔ یہ معجزہ قرآن کے علاوہ کسی اور کلام میں نہیں ہے ۔
(8) نبی آخرالزماں کے بعد اب قیامت تک کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گا اور نہ دوسری شریعت ہوگی، تو لازم تھا کہ قرآن کو بطور معجزہ خالص و سالم حالت میں قیامت تک باقی رکھا جائے‌۔اس کے لیے اللہ تعالی نے مسلمانوں کو حافظ قرآن بننے کا شوق و جذبہ کے ساتھ اسے یاد کرنے کا ملکہ بھی عطا فرمایا۔ اور یہ صورت حال پوری دنیا میں صرف قرآن کے ساتھ ہے کہ کروڑوں لوگ حرف بہ حرف اس کو یاد کیے ہوئے ہیں۔
(9) دنیا حادث ہے اور تغیر و تبدل کا شکار ہے اور یہی حال زبان و ادب کا بھی ہے۔ مثال کے طور پر اردوزبان کو ہی لے لیں، دو سو سال پہلے کی اردو، سو سال پہلے کی اردو، اور موجودہ دور کی اردو میں کافی اور نمایاں فرق محسوس ہو گا، لیکن عربی قرآنی زبان ہونے کی وجہ سے اور فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے اپنی اصلی حالت میں باقی ہے۔ السنۂ عالم کے کسی ماہر مفکر نے کہا تھا کہ "عربی کا نہ کوئی بچپنہ ہے نہ جوانی،نہ بڑھاپا۔یہ زبان معجزاتی طور پر ہمیشہ یکساں رہی ہے۔
(10) قرآن بایں طور بھی معجزہ ہے کہ اس میں ہر خطۂ ارض اور ہر زمانے کے لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ساڑھے چودہ سو سال پہلے بھی قران سرچشمۂ ہدایت تھا آج بھی ہے اور قیامت تک آنے والے تمام صنعتی و معاشی ارتقاء اور تہذیب و تمدن اور سماج و معاشرے میں نشیب و فراز کے باوجود قرآن ہر ایک کے لیےسرچشمہ ہدایت ہے۔
(11) دنیا میں جتنی بھی کتابیں لکھی گئی ہیں یا لکھی جاتی ہیں وہ کسی ایک موضوع پر ہوتی ہیں یا دس بیس موضوعات پر مشتمل ہوتی ہے۔ دنیا کی معلوم تاریخ میں آج تک کسی مصنف نے یہ دعویٰ نہیں کیا ہے کہ میری کتاب تمام اصناف سخن کا احاطہ کرتی ہے یا اس میں تمام طرح کے مسائل کا حل اور روشن بیان موجود ہے۔ جبکہ قرآن مقدس وہ جامع کتاب ہے جس میں تمام اصناف سخن کی خوبصورتی کے ساتھ تمام طرح کے علوم و فنون، سائنس و ٹیکنالوجی، علم حیاتیات،طبیات،معاشیات،ریاضیات،فلکیات،ارضیات،نفسیات،سیاسیات،کیمیاء،فیزیاء،نجوم،اور سماجیات وغیرہ کی کوئی چیز یا کوئی علم و ہنر ایسا نہیں ہے جس کی اصل قرآن میں موجود نہ ہو۔ بلکہ "ہر شئ کے لیے قرآن میں مفصل بیان موجود ہے”۔ (سورہ النحل:89)
قرآن دنیا کے تمام لوگوں کے لیے بالخصوص مسلمانوں کے لیے بہترین سرچشمۂ ہدایت اور سامان ارتقاء ہے۔ ہمیں اسے پڑھنا چاہیے، سمجھنا چاہیے اور اس کے احکامات پر عمل کرکے اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنی چاہیے کہ اصل کامیابی یہی ہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے