حضرتِ علی رضی اللہ عنہ کی حیاتِ طیبہ کے درخشاں پہلو

تحریر: سبطین رضا مصباحی
کشن گنج بہار، البرکات علی گڑھ

بلاشبہ صحابۂ کرام ملت اسلامیہ کے وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جنہیں قرآن سے اولین خطاب اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بلا واسطہ تعلیم و تربیت کا شرف حاصل ہے اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے اولین داعی ہے دین متین کے لیے راہ حق میں مخلصانہ قربانی دے کر ثبات قدمی کے تاج کی زیب و زینت بنتے رہے- اور تمام صحابۂ کرام عادل مومن اور مخلص ہیں سب کی تعظیم و توقیر مسلمانوں کے لیے لازم و جواب ہے اور حضور کے اصحاب آسمان ہداہت کے ستارے ہیں خود محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جس کی بھی اقتدا کروں گے ہدایت پاؤں گےآفتاب نبوت کے انھیں تاباں ستاروں میں ایک درخشندہ ستارہ خلیفۂ چہارم حیدر کرار مشکل کشا حضرتِ علی رضی اللہ عنہ کی ذات بابرکات ہےجن کی زندگی دینِ اسلام کے خدمت میں ظہورِ اول ہی سے نمایاں ہے جن کی شجاعت و بہادری تاریخِ اسلام کا درخشندہ باب ہے جن کا وجودِ مسعود اطاعتِ الہی ،جاں نثاری اور عشق رسول میں سرشار ہے جن میں بنیادی طور پر اسلام کے لیے بے مثال کارنامہ شجاعت و بہادری،اور بے مثال جاں نثاری و فداکاری سر فہرست ہےعلاوہ ازیں آپ کی زندگی کے کچھ ایسے پہلو بھی ہیں جو امت مسلمہ کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اسوۂ رسول کی شکل میں اپنے تمام تر فیوضات و برکات کے ساتھ موجود ہے جس کی پیروی سے انسان اپنی ہدایت و رہنمائی کا سامان حاصل کرسکتا ہے جو نسل نو سے اس چیز کا تقاضا کرتا ہے کہ ان کے اندر بھی وہی شان و جذبہ پیدا ہو جس کا مظاہرہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندگی میں کیا ہے
حضرتِ علی رضی اللہ عنہ کا اصل نام "علی”ہے-لقب حیدر کرار،اسد اللہ ہیں،کنیت ابوالحسن و ابوتراب ہے-آپ کے والد ماجد کا اصل نام عبد مناف ہے لیکن ابو طالب سے مشہور ہے،آپ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنھا ہے_ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت ابوطالب کثیر العیال تھے اس لیے حضور نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گود لے لیا آپ ہی کی سایۂ عاطفت میں حضرت علی کی پرورش ہوئی ابتدا ہی سے پرورش و تربیت آغوشِ نبوت ملی، قبول اسلام کا شرف دس سال کی عمر بچپن ہی میں حاصل ہوا _
حضرتِ علی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب کردار و کارنامے تاریخِ اسلام کے اوراق میں روشن ہیں حضرتِ علی رضی اللہ عنہ کی زندگی اور خداندانی شرافت پر غور کیا جائے تو پتا چلے گا کہ آپ کی زندگی اور آپ کاخاندان شروع ہی سے بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے،حضرتِ علی رضی اللہ عنہ کی افتخارات میں سے یہ ہے کہ حضرت علی بنی ہاشم کے ایسے واحد شخص ہیں جو بنی ہاشم کے پہلےخلیفہ ہیں اور بنی ہاشم کے چشم و چراغ تھے آپ بچوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں سے ہیں،حضور اکرم نے اپنا لعاب دہن آپ کے منہ میں ڈالا جب شبِ ہجرت مشرکین مکہ رسول اللہ کے قتل کی سازش رچی تو آپ کو بستر نبوی پر آرام کرنے کا شرف حاصل ہوا آپ کو سید الکونین کی دامادی کا شرف حاصل ہوا،غزوۂ تبوک کے موقع پر مدینہ منورہ میں حضور کی نیابت حاصل ہے بنی ہشم یہ خاندان حرم کعبہ کی خدمات،سقایہ زمزم کے انتظامات کی نگرانی اور حجاج کرام کے ساتھ تعاون و امداد کے لحاظ میں مکہ مکرمہ کا ممتاز خاندان تھا علاوہ ازیں بارگاہِ الہی سے بنی ہاشم یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اس میں نبی آخر الزماں کی بعثت مبارکہ ہے جو تمام اعزاجات میں بلند تر ہے_
حضرتِ علی رضی اللہ عنہ کی زندگی کے درخشاں پہلوؤں میں ایک پہلو نماز کا ہے بلاشبہ نماز ایمان کے بعد اسلام کا اہم ترین رکن ہے کائناتِ سماوی و ارضی کی ہر مخلوق اپنے اپنے حسب حال بارگاہِ الہی میں صلوۃ تسبیح و تحمید میں ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرتِ انسان جو اشرف المخلوقات ہے وہ بھی رب کی عبادت و تسبیح کا پابند ہے جو کہ نماز کی شکل میں ہے نماز ہی کی برکت ہے کہ جس کی وجہ سےحضرت علی رضی اللہ عنہ مشرف بہ اسلام ہوے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپ نے حضورِ اکرم اور ام المومنین سیدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کو عبادت میں مصروف دیکھا تو حضور سے نماز کے بعد دریافت کیا کہ یہ آپ کیا کررہے ہیں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم اللہ کی عبادت کرتے ہیں-حضرت علی نے پوچھا کہ یہ کیسی عبادت ہے تو حضور اکرم نے فرمایا یہ اللہ کادین اور اللہ نے مجھے اپنے دین کی تبلیغ اور لوگوں کو رشد و ہدایت کے لیے چنا ہےاور میں تمہیں اسی اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لانے کی دعوت دیتاہوں بعدہ حضرت علی اسلام قبول کیے – معلوم ہوا کہ حضرت علی کو نماز اتنی پسند آئی کہ جس کی وجہ سے اسلام کے دامن کرم میں آگئے جیسا کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ علی کرم اللہ وجھہ الکریم رسول اللہ کے ساتھ نماز پڑھنے والے پہلے شخص ہیں ( خصائص علی،ص: ٢١،امام نسائی) تو یومِ پیدائش علی کے موقع پر اگر ان سے محبت کا مضبوط دعویٰ ہے تو محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اپنی زندگی کو ان کی حیاتِ طیبہ کے سانچے میں ڈھالیں اور ان کی زندگی کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور نماز کی پنج وقت پابندی کریں کیوں کہ محبت محبوب کے تقاضے سے مشروط ہوتی ہے اگر تقاضے کی تکمیل نہ ہوتو دعویٰ بے بنیاد اور کھوکھلا ہے
حضرتِ علی رضی اللہ عنہ کی تاباں زندگی کے درخشاں پہلوؤں میں ایک یہ ہے کہ آپ تقویٰ و طہارت علم و حسن اور اخلاقِ حسنہ کا پیکر تھے،تقویٰ ایسی چیز ہے جس کے حاصل ہوجانے کے بعد دل کو گناہوں سے جھجھک معلوم ہونے لگتی ہے اور نیک کاموں کی طرف دل مائل ہوتا ہے اللہ کا ڈر اور اس کی خشیت تقویٰ کا بنیادی پہلو ہے- اس پہلو سے اگر حضرتِ علی رضی اللہ عنہ کی زندگی کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تقویٰ و طہارت کے مجسمہ تھے جس پر آپ درجۂ کمال کو پہنچے ہوئے تھے، خود فرماتے ہیں "کہ نیک کام کرنے کی بجائے اس کے قبول کا زیادہ اہتمام کرو کہ عمل تقویٰ کے باعث ہی قبول ہوا کرتا ہے”-( تاریخ الخلفا،ص: ٢٦٢،ناشر:شبیر برادرز) واضح ہوا کہ حضرت علی کی زندگی تقویٰ و طہارت سے لبریز تھی لہذا ہمارا ہر فعل و عمل تقوی سے سرشار ہونا چاہیے اگر تقوی سے خالی ہے تو وہ عمل بے عبث ہے_
آپ کی زندگی میں نمایاں طور ایک چیز یہ ہے کہ آپ بحیثیت مشیر بھی ہیں جس میں ایک مشیر کے لیے آپ کی زندگی نمونۂ عمل ہے- چناں چہ حضرتِ علی رضی اللہ عنہ حضرتِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے خاص مشیر تھے،اگر چہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں باقاعدہ مجلسِ شوریٰ کا قیام عمل میں نہیں آیا تھا مگر اکابر صحابہ میں سے حضرتِ عمر،عثمان،عبد الرحمن بن عوف،ابی بن کعب،معاذ بن جبل،زید بن ثابت رضی اللہ عنھم بطورِ مشیر تھے ان میں حضرتِ علی رضی اللہ عنہ بھی ہے جو اکثر معاملات و امورِ خلافت سے متعلق مشورہ دیتے تھے- ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے – ہم آپس میں باتیں کیا کرتے تھے -حضرتِ علی مدینہ بھر میں اچھا فیصلہ کرنا جانتے ہیں”( تاریخ الخلفا،ص: ٣٤٧) معلوم ہوا حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک عمدہ سپہ سالار کے ساتھ ایک اچھے مشیر بھی ہیں حضرتِ علی کی زندگی اسوۂ رسول کی شکل میں موجود ہے جس کی اتباع سے انسانی معاشرہ کو ترقی سے ہم کنار کیا جاسکتا ہے اور ایک صالح و مضبوط معاشرہ کی تشکیل ہوسکتی ہے
حضرتِ علی رضی اللہ عنہ کی زندگی سب سے زیادہ نمایاں طور پر دین اسلام کے لیے جاں نثاری اور شجاعت ہے، دینِ اسلام کی تبلیغ و اشاعت آپ کی زندگی کا لاجواب کارنامہ ہے جس میں آپ کی جاں نثاری بے مثال تھی- آپ عزوۂ تبوک کے علاوہ سبھی غزوات میں رہے اور اپنی بہادری کے جوہر دکھائے،جن میں غزوۂ بدر،احد،بنی نضیر،خندق،بنو سعد کی سرکوبی،خیبر،حنین ہے جس میں آپ نے شجاعت کے ساتھ سپہ سالاری کرکے اپنی قائدانہ صلاحیت لوہا منوایا-عہدِ نبوی کے غزوات میں جرات اور شجاعت کی جو تاریخ رقم کی ہے وہ رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی_
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ایک تابناک پہلو آپ علمِ فقہ کے ماہر تھے جس میں آپ درجۂ علم میں کمال کو پہنچے ہوئے تھے- حضرتِ علی رضی اللہ عنہ قرآن مجید کے حافظ تھے اور قرآن مجید کے معانی و مطالب پر آپ کو عبور حاصل تھا آپ علم فقہ کے ماہر تھے جس میں مشکل سے مشکل فیصلے بھی قرآن و سنت کی روشنی میں حل کرلیتے تھے-چناں چہ عبد اللہ بن ربیعہ کہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ علم میں نہایت پختہ اور مضبوط تھے اور اپنے قبیلے کے میں نہایت معزز تھے سب سے پہلے ایمان لائے اور رسول اللہ کے داماد تھے اور سنت نبوی کی سمجھ،دلیری اور بخشش میں مشہور تھے”( تاریخ الخلفا،ص:٢٨٤) معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ علم میں درجۂ کمال کو پہنچے ہوئے تھے اور سنت نبوی کا اہتمام کرنے میں ہمیشہ پیش و پیش رہتے تھے

خلاصۂ کلام یہ ہواکہ حضرتِ علی رضی اللہ عنہ کی زندگی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا اور اسوۂ حسنہ کا بہترین نمونہ ہے آپ کی زندگی کے مذکورہ گوشے بنی نوعِ انسانی کی ہدایت و رہنمائی کےلیے اپنی تمام تر فیوضات و برکات کے ساتھ موجود ہے لہذا ہدایت کے متلاشی لوگوں کو چاہیے کہ زندگی کے ہر معاملہ اور ہر عمل کے اندر حضرتِ علی رضی اللہ عنہ کی حیاتِ طیبہ کو پیش نظر رکھیں۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ولادت حضرت سیدنا مولیٰ علی المرتضیٰ کرم اللّٰہ وجہ الکریم

جمال احمد صدیقی اشرفی القادریدارالعلوم مخدوم سمنانی، شل پھاٹا ممبرا، تھانے (مہاراشٹرا) نائب خیرالبشر خیبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے