تعلیمات خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالی علیہ

تحریر: ابوحذیفہ محمد کلیم الدین مصباحی
خطیب و امام: سنی جامع مسجد، بیلور ٹاؤن ،ضلع ہاسن کرناٹک

7204160238

اسلام کی تبلیغ اور نشرو اشاعت میں اولیائے کرام اور صوفیائے عظام کی تعلیمات کا بہت اہم کردار رہا ہے ،انہوں نے اپنی روحانی تعلیمات کے ذریعے امن وامان،اخوت و بھائی چارگی،محبت والفت اور خدمت خلق کا ایسا درس دیا کہ سیکڑوں لوگ اس سے متأ ثر ہو کر اپنے کفری اور باطل عقائد سے توبہ کر کے اسلام کے آغوش میں داخل ہو گئے ،جن کی تعلیمات نے سیکڑوں دلوں میں عشق رسول ﷺ کی شمع روشن کیا ،ان میں سر فہرست سلطان الہند ،عطائے رسول ،جگر گوشۂ بتول حضرت خواجہ غریب نواز ؒ کی ذات ہے ۔آج مسلمانوں کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ مسلمانوں میں تعلیمی پسماندگی اور تربیت کا فقدان ،عبادت وریاضت،شریعت و طریقت سے دوری اور اخلاقی برائی عام چکی ہے ،یہ سب اس لئے ہو اکہ ہم نے اپنے اسلاف کی تعلیمات اور ان کے فرمودات کو فراموش کر دیا ،آج مسلمان ہر اعتبار سے زبوں حالی اور پسماندگی کا شکار ہے ۔آج ہم تعلیمی ،معاشی ،سماجی، سیاسی،اخلاقی ہر اعتبار سے حاشئے پر ہیں ،ایسے بدترین صور ت حال اور فرسودہ ماحول میں ضرورت اس بات کی ہے کہ حضرت خوجہ غریب نواز ؒ کی تعلیمات کو عام کیا جائے تاکہ قوم مسلم اس پر عمل پیراہو کر اپنے نسل ِنو کے مستقبل کو بہتر سے بہتر بناسکے ۔
’’دلیل العارفین ‘‘ (حضرت خواجہ غریب نواز ؒ کے ملفوظات کا مجموعہ ہے )جو بہت سارے صوفیانہ ارشادات وملفوظات پرمشتمل ہے ،ان میں سے چند کو یہان پیش کیا جا رہا ہے ،جن کے مطالعے سے یقینا ہمارے دل کو ایمانی روشنی حاصل ہو گی ۔
نماز قُرب ِالہی کا ذریعہ ہے ۔
٭ آپ فرماتے ہیں ’’کوئی شخص بھی اللہ کی بارگاہ عزت میں نماز کے بغیر قرب حاصل نہیں کر سکتا ۔کیونکہ یہی نماز ہی مؤ من کی معراج ہے ۔جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے ’’ الصلوۃ معراج الموٌمنین‘‘۔یعنی بندے کو اللہ کے ساتھ وابستہ اور پیوستہ رکھنے والی نماز ہی تو ہے ۔‘‘(دلیل العارفین )
نماز ایک راز ہے ۔
٭پھر اسی مجلس اول میں آپ کا ایک اور ارشاد موجود ہے ،آپ فرماتے ہیں ’’نماز ایک راز ہے جسے بندہ اپنے پر ور دگار سے بیان کرتا ہے اور راز کہنے کے لئے بندہ کو ایسا قرب حاصل ہوتا ہے جو اس راز کے لائق ہوتا ہے، اور اصل راز کی باتیں تو نماز ہی میں کہی جا سکتی ہیں چنانچہ حدیث شریف میں ہے ۔
’’المصلی یناجی ربہ‘‘یعنی نماز پڑھنے والا در اصل اپنے رب سے سر گوشی میں کوئی راز کی باتیں کرتا ہے ۔‘‘(ایضا)
سچا محب کون؟
٭آپ فرماتے ہیں کہ ’’ محبت میں سچا وہ ہوتا ہے کہ جب اسے دوست کی طرف سے کوئی تکلیف پہونچے تو وہ اس تکلیف کو رضا ورغبت سے قبول کرے۔‘‘(دلیل العارفین)
پانچ چیزوں کو دیکھنا عبادت ہے۔
٭آپ فرماتے ہیں پانچ چیزوں کو دیکھنا عبادت ہے(۱)ماں باپ کی طرف اولاد کا دیکھنا بھی عبادت ہے ۔کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو فرزند اپنے ماں باپ کی اللہ کی رضا مندی کی خاطر دیکھتا ہے اس کے نامۂ اعمال میں حج مقبول کا ثواب لکھا جاتا ہے ۔(۲)ْقرآن مقدس کا دیکھنا بھی عبادت ہے ،آپ فرماتے ہیں کہ میںنے کتاب’’ شرح اولیاء ‘‘میں پڑھا ہے کہ ’’جو شخص اللہ کے کلام یعنی قران کی میں دیکھتا یا تلاوت کرتاہے تو اللہ تعالی اس کے نامۂ اعمال میں دو ثواب لکھنے کاحکم فرماتا ہے ،ایک قرآن دیکھنے کا ثواب اور ایک قرآن پڑھنے کا ثواب ۔‘‘(۳)کسی عالم با عمل کا دیکھنا ۔آپ فرماتے ہیںکہ ’’اگر کوئی شخص علمائے حق کی طرف دیکھتا ہے تو اللہ تعالی اس کی نگاہوں سے ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جو قیامت تک اللہ تعالی سے اس کی بخشش کی دعا کرتا رہتا ہے ۔‘‘(۴)خانہ کعبہ کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے ۔(۵)اپنے پیرو مرشد کے چہرے کو دیکھنا اور ان کی خدمت کرنا۔(دلیل العارفین )
سورہ فاتحہ کی برکت اور ٖفضیلت۔
٭آپ فرماتے ہیں کہ’’ میں نے کتاب ’’آثار مشائخ طبقات‘‘ میں دیکھا ہے کہ سورہ فاتحہ کو حاجت روائی کے لئے بہت زیادہ پڑھنا چاہئے ۔ ‘‘( اسکے بعد آپ نے حدیث کے حوالے سے پڑھنے کا طریقہ بتا یا ہے) ( دلیل العارفین )
صحبت کا اثر۔
٭آپ فرماتے ہیں کہ ’’صحبت اپنا اثر دکھاتی ہے، اگر کو ئی بُرا آدمی نیک لوگوں کی مجلس میں بیٹھے گا تو وہ نیک ہو جائے گا ،اور اگر کوئی نیک آدمی بُرے لوگوں کی صحبت اختیار کریگا تو وہ برا ہو جائے گا ۔‘‘
بھوکے کو کھانا کھلانے کی فضیلت ۔
٭بھوکے کو کھان کھلانے کی بڑی فضیلت ہے ،آپ فرماتے ہیں کہ ’’جو بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے ،اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے اور جہنم کے درمیان سات پر دے حائل فرمادے گا۔‘‘
تین خصلتیں محبت الہی کا سبب۔
٭ آپ فرماتے ہیں کہ اگر یہ تین خصلتیں کسی شخص میں پائی جائیں تو سمجھ لو کہ اللہ تعالی ان کو اپنا دوست رکھتا ہے ۔(۱)شفقت(۲)تواضع(۳)سخاوت دریا جیسی ،شفقت آفتاب جیسی،تواضع زمین کے مانند۔
شریعت کے بغیر طریقت،معرفت،حقیقت کچھ بھی نہیں۔
٭آپ فرماتے ہیںکہ ’’جب آدمی شریعت کا پابند ہو جاتا ہے تو وہ شریعت کے ہر حکم کو بجا لاتا ہے اور شریعت کے حکم سے ذرہ بھر انحراف اور تجاوز نہیں کرتا ،پھر وہ یہاں سے دوسرے درجے میں پہنچ جاتا ہے جسے طریقت کہتے ہیں ،جب وہ اس درجے میں ثابت قدم ہو جاتا ہے اور طریقت کے شرائط اور راہ سلوک پر چلنے والوں کے طریقے سے ذرہ بھر انحراف نہیں کرتا تو پھر وہ معرفت کے مرتبہ میں پہنچ جاتا ہے ،جونہی وہ معرفت کے مرتبہ میں پہنچتا ہے تو اس کے دل میں معرفت کا ایک نور پیدا ہوجاتا ہے اور جب وہ اس معرفت کے مرتبہ میں ثابت قدم ہو جاتا ہے تو پھر وہاں سے چوتھے مرتبہ میں پہنچ جاتا ہے جسے حقیقت کہتے ہیں اور جب آدمی اس مقام پرپہنچ جاتا ہے تو پھر وہ اللہ تعالی سے جو کچھ طلب کرتا ہے اسے حاصل کر لیتا ہے ۔‘‘(یعنی بندہ اس مقام پر پہنچ کر’’ من کان للہ کان اللہ لہ‘‘ کا مصداق بن جاتا ہے )
اس سے معلوم ہوا کہ ولایت کی اصل شریعت پر عمل پیرا ہونا ہے ،شریعت کے بغیر ولایت کا حصول ممکن نہیں ۔
آج کے اس اخلاق سوز ماحول میں ہمارے لئے اور زیادہ ضروری ہے کہ ہم حضرت خوا جہ غریب نواز ؒ کے فرمودات اور آپ کی تعلیمات پر عمل کریں ،یقینا آپ کی تعلیمات پر عمل کر کے ہم اپنی زندگی میں انقلاب پیدا کر سکتے ہیں ۔بلاشبہ آپ کے تعلیمات وارشادات ہمارے لئے نمونۂ عمل ہیں ،جن پر عمل کر کے اپنی زندگی میںایک عظیم تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں ۔
اللہ تعالی ہم سب کو تعلیمات غریب نواز ؒ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ سید المرسلین

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

منقبت سلطان الہند خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ

بے سہارو کے سہارا خواجہء ہندالولیہند کے ہیں آپ راجا خواجہء ہندالولی تیرے در کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے