پیارے نبیﷺ کا خطبہ حج الوداع

تحریر: ریاض فردوسی، پٹنہ 9968012976

فطرت انسانی میں یہ وصف شامل ہے کہ انسان کو اپنا غم سنانے،اپنے آنسوؤں کو بہانے کے لئے ایک سہاراچاہیئے ہوتا ہے،ایک کندھا چاہیئے ہوتاہے،جو اس کا دکھ درد بانٹ سکے،اس کی پریشانی کو سن کر اس کوتسلی کے الفاظ کہ سکے۔لیکن روئے زمین پر مقدس ومنور نورانی شکل والے، بصورت انسان ایک ایسے شخص بھی گزرے ہیں، جن کے غم اور اندوہ کا گواہ صرف اللہ تعالیٰ ہے۔پاک اور طاہرہ ہماری اماں نے سوال کیا،آقا ﷺتبلیغ دین میں آپ نے اتنی مشقتیںبرداشت کی ، کیا کوئی ایسا سخت مرحلہ بھی تھا، جس میں آپ ﷺ کو بہت مصیبت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا؟ پیارے آقاﷺ نے کہا عائشہ ؓ سارے معاملے سخت تھے ،لیکن طائف کا سفر آج تک یاد ہے(اوکماقال ﷺ)
آقا ﷺ نے کسی کے سامنے اپناغم بیان نہیں کیا۔صدیق اکبر ؓ جیسا دوست،فاروق اعظم ؓ جیسا جانثار،غنی جیسا معاشی مددگارؓ،اسد اللہ ؓ جیسا بہادر اور تمام جا نثاران ؓ کے رہتے ہوئے کسی سے یہ نہ کہا کہ فلاں نے مجھ پر مکّے میں بہت ظلم ٹھائے ہیں،آپ میں سے کوئی شخص جا کر انتقام لے لو۔کئی کئی دن آپ ﷺ کے گھر میں کھانا نہیں پکتا تھا،لیکن ایک روایت ایسی نہیں ملتی ہے کہ کسی سامنے جا کر اپنی غربت کا ذکر تک کیا ہو۔سیدنا بلالؓ جب صبح کی نماز کے لئے آتے تو آقاﷺ بارہا آواز دیتے بلال ؓ کپڑے دھوکر ڈالے ہیں،سوکھ جائے تو ابھی آتا ہوں۔حتّیٰ کہ پیاری مطہرہ بیٹی رضی اللہ عنہا جب خاموشی سے لوگوں کی بھیڑ آپ ﷺ کے گھر میں جمع دیکھ کر لوٹ آئی تو آپ ﷺ فرصت پاکر ان کے گھر آئے تو خدار والد ﷺ کی خدار بیٹی رضی اللہ عنہا خاموش رہی تو آنے کا سبب ان کے شوہر مولیٰ علی کرم اللہ وجہ نے بتایا کہ کام کرتے کرتے ان کے پیر ،ہاتھ اورجسم سل گئے ہیں ،غلام سے آسانی ہوگی،تب سب کو نوازنے والے آقا ﷺ نے اپنی بیٹی سلام علیھا کو غلام نہیں دیا،سبحان اللہ،الحمد للہ،اللہ اکبرکاورد ہی بتایا۔
اللہ سے خود کے لئے کچھ نہیں مانگا،کھجوروں کی چٹائی پر سوئے،سادہ کھانا کھایا،ہمیشہ لوگوں کی غلطیوں کو معاف کیا،حتیٰ کہ ابن ابی جیسے منافق کے لئے بھی بہت کوشش کی کہ جہنم سے بچ جائے،وہ تو االلہ کے فرمان کے آگے آپﷺ بے بس ہوگئے۔حشر میں جب سارے سہارے اللہ کے جلال کو دیکھ کر چھوٹ جائے گے تو وہاں بھی آپﷺ ہی جو بے یاروں کے یار،بے وصیلوں کے وصیلہ،ہم گنہگاروں اور خطاکاروں کی خطاؤں پر زار زاررونے والے آقا ﷺ ہی لبیک لبیک کی صدا دیں گے۔جہاں میدان حشر میں نفسی نفسی کی صدا گونجتی ہوگی وہی ایک طرف سے آپﷺ امتی امتی کی آوازبلند کریں گے۔
ماں اگرچہ لاکھ درد میں مبتلا ہو، رات بھر سوئی نہیں ہو،لیکن جب اولاد کواگربخارہوتواپنے سارے دردبھول جاتی ہے۔اسی فکرمیں رہتی ہے کہ کس طرح سے میرابچہ ٹھیک ہوجائے۔رسول اللہ ﷺ کے دل میں امت کے لئے لاتعداد ماؤں کی محبت اکٹھا ہے۔اس لئے دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے بھی امت کی ہی فکر رہی۔نبی اکرم ﷺنے اپنی پاکیزہ زندگی کے تیرہ سال مکہ میں بہت ہی سخت اوردرد ناک اذیتوں کے ساتھ بسرکی۔ سماجی بائکاٹ کیاگیا،شِعب ابی طالب میں تین سال قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں،محض دعوتِ دین کی وجہ سے مشرکین مکہ نے طرح طرح کی اذیتیںدیں، راستے میں کاسنٹے بچھائے گئے،جسم منور پر غلاظت پھینکی گئی،پتھربرسائے گئے، جسم اطہرکو لہولہان کیاگیا، قتل کی سازش رچی گئی، لیکن آپ نے مکے پر قبضے کے بعد بھی کسی سے بھی انتقام نہیں لیا،بلکہ سب کو معاف کردیا۔
رسو ل اللہ ﷺ عظیم اخلاق پر فائز تھے،خندہ زن اور پُر استقامت تھے غصہ کو پینے والے اورشدت سے دور تھے وہ ظالم نہیں تھے، اپنے مسلمان متبعین کو اخلاق حمیدہ اور خوش روئی سے آراستہ ہونے کا حکم دیتے تھے( عیسائیوں کی طرف سے مرتب کردہ ،کَرَچنرانسائیکلوپیڈیا‘‘ (Chvrches (churches) encyclopedia)

امتی امتی لب پہ جاری رہا
ناز بردار امت پہ لاکھوں سلام

پوری حیات طیبہ میں صرف ایک حج کیا ،اس میں جو خطبے آپ ﷺ نے دیئے ہیں اس کا مختصر مفہوم اس طرح ہے !
رسول اللہ ﷺ نے اس خطبے میں انصاف اور مساوات پر زور دیا۔ اللہ کی وحدانیت ،بڑائی،بزرگی اور اپنی رسالت کا اعلان کرنے کے بعد،جو خطبہ دیا ہے اس میں سے چند خاص باتوں کامفہوم یہ ہے!
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا،کسی کی جائیداد کو ناجائز طور پر قبضہ کرنا،ناحق قتل کرناحرام ہے۔محسن انسانیت ﷺنے سب لوگوں کے جان ومال، عزت اور آبرو کی حفاظت کے لئے سب سے زیادہ زوردیا ہے۔
عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم نحر کے موقع پر خطبہ دیا، اور جتنے لوگ وہاں موجود تھے سب سے دریافت کیا،لوگوں! آج کون سا دن کیا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا، یہ مقدس دن ہے۔آپ ﷺ نے پھرسوال کیا،یہ کون سا شہرہے؟لوگوں نے جواب دیا، یہ مقدس شہر ہے۔آپ ﷺ نے سوال کیا، یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوںنے جواب دیا، یہ مقدس مہینہ ہے۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، جس طرح یہ دن، یہ مہینہ یہ شہر مقدس ہے اسی طرح تم لوگوں کا خون ایک دوسرے کے لئے مقدس ہے (صحیح بخاری)مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کی عزت وآبرو،جان ومال ،رشتے دار اور اولاد سب کی حفاطت تم پرفرض ہے۔خبر دار میرے بعد ایک دوسرے کاخون نہ بہانے لگ جانا۔
عورتوں کو اسلام سے پہلے مرد وں کی طرح زندگی بسر کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں تھا۔ اللہ کے رسول ﷺ پوری زندگی عورتوں کے حقوق کے متعلق خبردار کرتے رہیں، الوداعی خطبہ میں بھی خواتین کی عزت وعفت کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا! لوگوں، تمہیں اپنی خواتین کے حوالے سے کچھ حقوق حاصل ہیں، لیکن ان کا بھی تم پر حق ہے۔ اگر وہ تمہارے حقوق کی پاسداری کرتی ہیں تو پھر ان کا حق ہے کہ انہیں بہترین طریقے سے کھلایا جائے اورخوبصورت اور عمدہ لباس پہنایا جائے۔ اپنی خواتین کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئو، کیونکہ وہ تمہاری شریک حیات ہیں،تمہارے لئے پرعزم ،مددگاراور تمہارے غائبانے میں تمہاری عزتوں کی محافظ ہیں۔اپنے ذات منور کی مثال مسیحائے دوعالم ﷺ نے دی اور کہاکہ میں بھی اپنے گھر والوں کے لئے اچھا ہوں۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا!میں اپنے پیچھے دو چیزیں چھوڑتا ہوں، قرآن اور سنت۔ ان کی پیروی کروگے، تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہوں گے(ایک روایت میں قرآن اور اہل بیت کا بھی ذکر ہے)
غلاموں کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں، ان کی دیکھ بھال کریں،جوخود کھائیں انہیں وہی کھلائیں، جو لباس خود پہنیں انہیں بھی وہی لباس پہنایئں،کوئی ایسا عمل نہ کریں،کوئی ایسی بات زبان سے نہ نکالیں، جس سے وہ احساس کمتری کے شکار ہو،وہ خود کوکمزو رو ناتواں اور ذلیل سمجھیں۔آپ ﷺ کی خدمت 10 سالوں تک سیدنا انس ابن مالک رضی اللہ عنہ نے کی لیکن سب کے لئے رحمت والے پیارے آقا ﷺ نے کبھی ان کو ڈانٹا بھی نہیں،نہ کوئی سخت بات کہی۔
الوادعی خطبہ معاشرے میں امن و سکون کی فضابحال کرنے ، دنیا کی ترقی اور انصاف قائم کرنے، تقویٰ اور صالح اعمال کرنے اور سب سے بڑھ کر پوری انسانیت کی بقاء اور زندگی گزارنے کے لئے مشعل راہ
ہے۔ مغربی سیاہ فام لوگوں کو انسان نہیں سمجھا جاتا تھا۔ نیلسن منڈیلا نے افریقہ میں ان کے انسانی حقوق کے لئے تحریکیں چلائی اورمارٹن لوتھر کنگ نے سیاہ فام امریکیوں کے شہری حقوق حاصل کرنے کے لئے امریکہ کے گورے لوگوں کے خلاف مسلسل جدوجہد کیا۔ لوتھر اور نیلسن منڈیلا کے کئی سالوں پہلے ہمارے آقا محمد رسول اللہ ﷺ نے الوداعی خطبہ کے ذریعے نسل پرستی کے باب کو سختی سے ختم کردیاہے۔
اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا،سارے انسان آدم سے ہیں، کسی عربی کو کسی عجمی (عرب سے باہر والوں کو عجمی کہاجاتاہے)پر فضیلت نہیں ہے اور نہ ہی کسی عجمی کو کسی عربی پرکوئی برتری حاصل ہے۔ کسی گورے کو کسی کالے پر فوقیت حاصل نہیں ہے اور نہ ہی کسی کالے کو کسی گورے پر فوقیت حاصل ہے، سوائے تقویٰ اور نیک اعمال کے۔کوئی ذات وبرادری نہیں،کوئی شیخ ،سید،پٹھان،ملک نہیں۔کوئی انصاری ،راعین،بخو،منصوری نہیں،کوئی بریلوی،دیوبندی،شعیہ،سنی،نہیں،صرف وہی احترام والاہے جس کے اعمال نیک اور اچھے ہیں،جو لوگوں سے اچھا سلوک کرتا ہو،قرض ادا کردیتا ہو،اگرچہ دیر ہی ہوجائے،جھوٹ اور غیبت سے محفوظ رہتا ہو،کسی کے لئے حسد ،جلن،بغض اور عداوت نہ رکھتا ہو،ذاتی فائدے کے لئے لوگوں کااستعمال نہ کرتاہو،ذاتی لڑائی نہ لڑتاہو، کسی کودھوکہ نہیں دیتا ہو،چاہے اس کا کتنا ہی بڑا نقصان ہوجائے۔اگر یہ خوبیاں ہیں تو وہ احترام کے لائق ہے،چاہے وہ کسی مسلک یا برادری سے تعلق رکھتا ہو۔
جب صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے ان باتوں پر عمل کیا تو اس کے نتائج میں، ان کی زندگی کے خوشحال ہو گئی۔ سابق غلامان جنگ کے میدانوں میں سالاراورسپہ سالار بنے،کچھ صوبوں کے گورنر بنے ۔ جو بھی پہلے مسجد آیا، اگلی صفوں میں اپنی جگہ لے گا، اور جو دیر سے آئے گا، اس کی جگہ پیچھے ہوگی،اب غلام ہو یاامیر اس میں صرف تقویٰ کا معیار ہوگا،اس لئے کہ وہ پہلے آنے والا اپنے کام ادھورے چھوڑ کریا جلدی نپٹاکر اللہ کے گھر آیاہے۔مسجد میں قطاروں کے درمیان کسی صف میں امیر اور غریب، علم والا اور انپڑھ موجود ہوگا،اس میں کسی کو کوئی برتری حاصل نہیں ہے۔ حج اور عمرہ کے دوران احرام ہر ایک کی معاشی حیثیت سے الگ صرف سادہ سفید لباس پہننے پر مجبور کرتی ہے جو امیروں اور مسکینوں، گورنروں اور حاکموں ،انصاری ،سید،راعین اور شیخ حتیٰ کے سب کے لئے برابر ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی سب سے بڑی خصوصیت میں تمام عالم جس میں جن وانس اور تمام عالمین شامل ہیں،آپ ﷺ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا گیاہے، گویا جب تک اللہ کی کبرائی رہے گی، محمد مصطفیﷺ کی مصطفائی رہے گی۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے