غزل:پژ مردہ دل کوڈھنڈی ہوا کیوں نہیں دیتے

خیال آرائی: ناطق مصباحی

پژ مردہ دل کوڈھنڈی ہوا کیوں نہیں دیتے
مجبور کا جو حق ہے دلا کیوں نہیں دیتے

دشمن کاپسربھوک سے روتاھے سڑک پر
غیرت زدو تم اسکو کھلاکیوں نہیں دیتے

نفرت کی زمیں جس میں اگےزہرہلاہل
دہقان اس میں آگ لگا لگاکیوں نہیں دیتے

شیطان ترےملک کوبرباد کرےھے
عامل کے فتیلہ سے جلاکیوں نہیں دیتے

نسوانیت کوداغدارجس نے کیاھے
بےشرم کی اوقات بتاکیوں نہیں دیتے

عہدہ کابھوت سرپہ ھےخلجان کاباعث
تم ایسے مریضوں کو دواکیوں نہیں دیتے

انسانیت سےدور حمایت کا طلبگار
ایسوں کی حقیقت کو بتاکیوں نہیں دیتے

بے غیرتی کادیپ جلانے میں ھے ماہر
تھپکی لگا کے اس کوسلا کیوں نہیں دیتے

برباد معیشت ہوئی جس فردسے ناطق
تم ایسے کمینے کو سزاکیوں نہیں دیتے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل: بحث کا کچھ نہیں جس کو سلیقہ

بحث کاجو بھی ہے بہتر طریقہنہیں بحاث کواس کا سلیقہ بحث میں صغریٰ کبریٰ حداوسطنہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے