غزل: غم زندگی تیرا شکریہ، مجھے تو نے مجھ سے ملا دیا

خیال آرائی: گل گلشن، ممبئی

میں تھی رنجشوں میں گم شدہ،تو نے مجھ کو اپنا پتہ دیا
غم زندگی تیرا شکریہ،مجھے تو نے مجھ سے ملا دیا

میں نے چاہا تھا تجھے بھولنا،تجھے بھولنا بھی محال تھا
تجھے بھولنے کی چاہ میں،میں نے خود ہی خود کو بھلا دیا

بڑی شوخیاں بڑی رونقیں تیرے الفتوں کے نگر میں تھیں
ہوا یوں کہ پھر میری زیست نے مجھے بے حسی کا صلہ دیا

بڑا ناز تھا مجھے عشق پر کہ میں گم ہوئی رخ یار میں
ہوا ایسا پھر کہ نہ پوچھئے مجھے نفرتوں نے جلا دیا

مجھے یوں لگا وہ طبیب ہے میری حسرتوں کا ہے چارہ گر
میری کیا دوا وہ کرے گا گل میرا مرض اس نے بڑھا دی

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

تحریر: ام ماریہ فلک (ممبرا) "اللہ کے نام پر دے بیٹا، اللہ تیرا بھلا کرے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے