منزلوں کے نشانات (گزشتہ سے پیوستہ)

ازقلم: غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

۲۷؍ جنوری ٢٠٢١ء کی صبح تھی۔ موسم سرد تھا- خنک ہوائیں چل رہی تھیں- کُہر چھائی ہوئی تھی۔ ہم "بستی” (یوپی) پہنچ گئے۔ جہاں نبیرۂ فقیہ ملت مولانا احسن رضا امجدی ہمارے منتظر تھے۔ اپنی کار میں بٹھا کر اوجھا گنج لے گئے۔ شہزادۂ فقیہ ملت مفتی انوار احمد امجدی سے ملاقات کی سعادت ملی۔ خلوص سے ملے۔ عظیم والد کے ہونہار فرزند ہیں۔ دہلی میں کتب خانۂ امجدیہ قائم کر رکھا ہے۔ جس کی اشاعتی خدمات سے اہلسنّت کی بزم روشن ہے۔ جس نے کثیر سنی لٹریچرز عام کر کے احقاقِ حق کا فریضہ انجام دیا۔ اہلسنّت کی سیکڑوں مطبوعات لاکھوں کی تعداد میں عام کیں۔ فروغِ دین و سُنیّت کے لیے بھانت بھانت عناوین پر مواد فراہم کیا۔ مختلف جہات سے کتابیں عنایت کیں۔ کتب خانۂ امجدیہ کا فیض آج بھی دراز ہے، آج بھی عام ہے، آج بھی اس کے کام کا تسلسل جاری ہے۔
ناشتہ سے فراغ کے بعد فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ کے مزارِ اقدس پر حاضری دی۔ تربت سادہ ہے لیکن جلالتِ علم کا پہرا ہے- تفقہ و تقویٰ کا جمال محسوس ہوا- فقیہ ملت کی تصنیفی خدمات سے لاکھوں افراد فیض یاب ہیں۔ درجنوں کتابیں یادگار ہیں۔ بنیادی دینی عناوین کو قلم کا موضوع بنایا۔ جو لکھا وہ مقبول ہوا۔ آپ کی کتابوں نے ضرورت اور تقاضوں کو پورا کیا۔ فقیہ ملت کی مشہور تصانیف کے نام اس طرح ہیں:

[۱] انوارالحدیث
[۲] فقہی پہلیاں
[۳] خطباتِ محرم
[۴] تعظیم نبی ﷺ
[۵] معارف القرآن
[٦] حج و زیارت
[۷] انوارِ شریعت اردو/ہندی/انگلش
[۸] ضروری مسائل
[۹] باغ فدک اور حدیث قرطاس
[۱۰] محققانہ فیصلہ
[۱۱] بدمذہبوں سے رشتے
[۱۲] گلدستۂ مثنوی
[۱۳] اوجھڑی کا مسئلہ
[۱۴] نورانی تعلیم
[١٥] فتاویٰ برکاتیہ
[١٦] فتاویٰ فیض الرسول (٢ جلدیں)

اوجھا گنج بستی یوپی میں فقیہ ملت کا قائم کردہ ادارہ مرکز تربیت افتاء دارالعلوم امجدیہ اہلسنّت ارشدالعلوم ہے۔ جس کی شہرت دُنیا بھر میں ہے۔ اس ادارہ سے کثیر مفتیانِ کرام فارغ ہوئے اور مسائلِ شرعیہ کے نور سے مختلف بلاد و امصار کو منور کر رہے ہیں۔ یہاں حفظ اور پرائمری کا انتظام بھی ہے۔ ابتدائی جماعتیں بھی جاری ہیں۔

اس سفر میں ایک تجربہ یہ بھی ہوا کہ کام اور اخلاص موجود ہو تو جنگل میں بھی بزمِ علمِ دین سج جاتی ہے۔ فیض کی ندیاں بہہ نکلتی ہیں۔ کام کی بہاریں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ دیہات، قصبات، دور افتادہ علاقوں میں اکابر نے درس گاہیں قائم کیں۔ کم وسائل میں بڑے کام کیے۔ اور چمک گئے۔ چھا گئے۔ شہرت کی بلندیاں قدموں کو چومنے لگیں۔ فقیہ ملت کا چمن اس کی زندہ مثال ہے۔اوجھا گنج کی وجہِ شہرت فقیہ ملت کی درس گاہی و قلمی خدمات ہے- تصلبِ دینی اور فروغِ مسلک اعلیٰ حضرت ہے-
جامعہ ام الخیر فاطمہ زیر تعمیر ہے۔جہاں بچیوں کے لیے مع ہاسٹل تعلیم کا اہتمام ہوگا۔ ادارہ کی تعمیر لاک ڈاؤن کے باعث متاثر محسوس ہوئی۔ اہلِ ثروت کو اِس جانب توجہ دینی چاہیے اور درس گاہوں کو تقویت پہنچانی چاہیے۔
ادارہ کے مہتمم فقیہ ملت کے فرزند مولانا ابرار احمد امجدی ہیں۔ سربراہ اعلیٰ مفتی انوار احمد امجدی ہیں۔ مفتی ازہار احمد امجدی ازہری مسند افتا سنبھال رہے ہیں۔ مفتی انوار احمد امجدی کے شہزادگان مفتی محمد ارشد رضا امجدی اور مولانا محمد احسن رضا امجدی فیضی خلوص سے ملے۔ دونوں ہی ہونہار اور اشاعتِ اہلسنّت کے مخلصانہ جذبات سے لبریز ہیں۔
امجدی منزل میں پُر تکلف ظہرانے کا اہتمام ہوا۔پھر مفتی انوار احمد امجدی صاحب کی سربراہی میں کارواں کچھوچھہ مقدسہ کی زیارت کے لیے روانہ ہوا۔ چند گھنٹے سفر کر کے سرِ شام ارضِ کچھوچھہ مقدسہ جا پہنچے۔
مخدوم پاک تاجدارِ سمناں حضرت سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ ولایت کی اس منزل پر فائز ہیں؛ جہاں دُنیوی جاہ و منصب اور تخت و تاج زیرِ قدم ہیں۔ آپ سمناں کے تاجور تھے۔ امارت و حکومت کے فرماں روا تھے۔ لیکن امارتِ ولایت ملنی تھی؛ تاج کو چھوڑ دیا۔ مسافرت اختیار کی۔ تاجدارِ پنڈوہ کے ہاتھوں جامِ معرفت سے تشنگی مٹانی تھی؛ عازمِ بنگال ہوئے۔ شیخ معظم کی بارگاہ سے اعزاز ملا۔ کچھوچھہ مقدسہ کو زینت بخشی؛ مخدومی برکتوں سے کچھوچھہ شریف نے عالمی شہرت پائی۔
مخدوم پاک نے تزکیۂ باطن اور ترسیلِ روحانیت کی بزم سجائی۔ عرفان کے جام لُٹائے۔ عقائد اہلسنّت کی پاس بانی کی۔ رفض و تشیع کے فتنوں سے عقائد حقہ کی حفاظت کی۔ آپ کے ’’لطائف اشرفی‘‘ پڑھ جائیے! ہر جگہ عقائد کا جوہر ملے گا، اصلاحِ باطن اور شریعت پر عمل کا پیغام ملے گا۔ بدمذہبوں کی بیخ کنی اور اہلِ حق کی مصاحبت کی ترغیب موجود ہے۔
مسجد اعلیٰ حضرت اشرفی میں نمازِ عصر ادا کی۔ روبرو جامع اشرف ہے۔ جو دانش گاہ بھی ہے اور روحانیت گاہ بھی۔ متصل ہی مختار اشرف لائبریری ہے۔ یہاں کے جملہ امور کے سربراہ نبیرۂ سرکارِ کلاں حضرت مولانا سید محمود اشرف اشرفی الجیلانی ہیں۔
مخدوم پاک کے درِ پاک کی حاضری کی سعادت ملی۔ جہاں روحانی امراض میں مبتلا شفا پاتے ہیں۔ متصل نیر شریف ہے۔ یہ پانی حیات بخش ہے۔ امراض کش ہے۔ مخدوم پاک کی بارگاہ سے لاینحل مسائل حل ہوتے ہیں۔ جس کے شواہد کثیر ہیں۔ عقیدت اور عقیدہ سلامت ہو تو جلوے ظاہر و باطن کو منور کرتے ہیں۔ ہم عز و کرم سے نوازے گئے۔ مفتی انوار احمد امجدی نے رقت انگیز دُعا کی۔ پھر اکابر سلسلۂ اشرفیہ کی بارگاہوں میں حاضری کی سعادت ملی۔جن کے اسما اس طرح ہیں:

[۱] شیخ المشائخ اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی
[۲] حضرت مولانا سید احمد اشرف کچھوچھوی اشرفی الجیلانی
[۳] حضور محدث اعظم مولانا سید محمد کچھوچھوی اشرفی الجیلانی
[۴] حضور سرکار کلاں مولاناسید مختار اشرف کچھوچھوی اشرفی الجیلانی
[۵] شیخ اعظم حضرت مولانا سید اظہار اشرف اشرفی الجیلانی- علیہم الرحمۃ والرضوان

ابھی شب کے سائے دراز نہیں ہوئے تھے کہ ہم اوجھا گنج پہنچ گئے۔ اگلے دن بعد نمازِ فجر حضور فقیہ ملت کی بارگاہ میں حاضری دی۔ پھر اگلی منزل کی سمت روانہ ہو گئے۔
کھیت کھلیان، دھان پان، کہیں گندم کی بالیاں، کہیں رائی کے پودے اور پیلے پھول کی چادریں۔ کئی قصبوں، دیہاتوں، شاہراہوں کو عبور کر کے ارضِ بہرائچ پہنچ گئے۔ بہرائچ شریف کی تاریخ ہزار سال قدیم ہے۔ حضرت سالار مسعود غازی کا درِ اقدس بھی روحانی برکتوں کی جلوہ گاہ ہے- جہاں ہزاروں لاعلاج امراض سے متاثر شفا یاب ہوتے ہیں- یہاں کی حاضری بھی روح پرور تھی-
سرِ شام عازم دیویٰ شریف ہوئے- شب تاباں تھی؛ چمک کچھ سِوا تھی؛ سامنے عظیم آستانہ تھا؛ سرکار دیویٰ وارث پاک جنھوں نے فقر میں دلوں پر حکومت کی- بصد عقیدت سلام و دعا کے نذرانے پیش کیے- زیارت سے فراغت کے بعد عازم اودھ ہو گئے-
تنگیِ وقت کے باعث مشاہدات کے کئی اوراق تشنہ ہیں؛ کئی ابواب باقی ہیں؛ کئی کوائف قلمی سفر کے آرزو مند ہیں؛ جن پر پھر کسی بزم میں روشنی ڈالیں گے ؎

تُو مِری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ
تِرے پیمانے میں ہے ماہِ تمام اے ساقی

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تہنیت نامہ

جامع معقول و منقول، حاوی فروع و أصول، استاذ العلماء، محقق مسائل جدیدہ ،سراج الفقہاء، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے