ولادت حضرت سیدنا مولیٰ علی المرتضیٰ کرم اللّٰہ وجہ الکریم

جمال احمد صدیقی اشرفی القادری
دارالعلوم مخدوم سمنانی، شل پھاٹا ممبرا، تھانے (مہاراشٹرا)

نائب خیرالبشر خیبر شکن مولا علی
تجھ سے ہے شاداب یہ دیں کا چمن مولا علی
کہتے ہیں جن وملائک انس وجاں ہردم یہی
روضہٴ اقدس ترا رشکِ عدن مولا علی

خانہ کعبہ ایک قدیم ترین عبادت گاہ ہے ۔ اس کی بنیاد حضرتِ آدم علیہ السلام نے رکھی تھی اور اس کی دیواریں حضرتِ ابراہیم علیہ السلام اور حضرتِ اسماعیل علیہ السلام نے بلند کیں ۔ اگرچہ یہ گھر بالکل سادہ ہے ۔ نقش ونگار اور زینت وآرائش سے خالی ہے ۔ فقط چونے مٹی اور پتھروں کی ایک سیدھی سادی عمارت ہے ۔ مگر اس کا ایک ایک پتھر برکت وسعادت کا سرچشمہ اور عزت وحرمت کا مرکز ومحور ہے ۔ اللّٰہ رب العزت کا فرمان عالیشان ہے ۔
جعل اللّٰہ الکعبة البیت الحرام ۔
اللّٰہ تعالیٰ نے خانۂ کعبہ کو محترم قرار دیا ہے ۔
خانۂ کعبہ کی عزت وحرمت دائمی اور ابدی ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ پہلے اس کی عزت وحرمت تھی ۔ اب نہیں ہے ۔ بلکہ جس وقت اس کی بنیاد رکھی گئی اسی وقت سے اسے بلند اور باعظمت وغیر معمولی مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے اور آج بھی اس کی مرکزیت واہمیت قائم ودائم ہے ۔
خدا کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حجاز کے ایک ویران علاقہ میں خانۂ کعبہ کی تعمیر شروع کی ۔ حضرتِ اسماعیل علیہ السلام بھی اس کام میں شریک رہے ۔ اس طرح باپ بیٹوں نے مل کر خانۂ کعبہ کو مکمّل کرکے اسے پایۂ تکمیل تک پہنچایا ۔ یہ حسنِ نیت و پرخلوص عمل کا نتیجہ تھا کہ خانۂ کعبہ کو تمام جزیرۂ عرب میں مرکزی عبادت گاہ کی حیثیت حاصل ہوگئی ۔ ہرگوشہ وکنارے سے لوگ کھینچ کر آنے لگے ۔
ان اول بیت وضع للناس للذی ببکة مبارکا وھدی للعالمین ۔
پہلا گھر جو لوگوں کے لئے بنایا گیا وہ مکہ میں ہے جو بابرکت اور سارے عالم کے لیے ذریعہ ہدایت ہے ۔
یہ وہی محترم وپاک وپاکیزہ اور باعظمت گھر ہے جس میں مولائے کائنات حضرتِ سیدنا علی ابنِ ابی طالب کرم اللّٰہ وجہ پیدا ہوئے ۔ تمام علماء اور مؤرخین اہلِ سنت نے باتفاق لکھا ہے کہ حضرتِ سیدنا مولا علی ابن ابی طالب کرم اللّٰہ وجہ خانۂ کعبہ میں پیدا ہوئے ۔
حاکم نیشاپوری ۔ جو اہلسنت کے بزرگ علماء میں شمار ہوتے ہیں ۔ اپنی کتاب المستدرک جلد 3 صفحہ 483 ۔ پر اس حدیثِ پاک کو باسند ومتواتر لکھا ہے ۔
وقد تواترات الاخبار ان فاطمۃ بنتِ اسد ولدت امیر المؤمنین علی ابنِ ابی طالب کرم اللّٰہ وجہہ فی جوف الکعبة ۔
امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب کرم اللّٰہ وجہہ فاطمہ بنتِ اسد کے بطن سے خانۂ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب ازالة الخفاء ۔ صفحہ 251 پر اس حدیث کو اور واضح طور پر تحریر کیا ہے کہ حضرتِ مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے پہلے اور نہ ان کے بعد کسی کو یہ شرف نصیب ہوا ۔ چنانچہ لکھتے ہیں ۔
تواتر الاخبارات فاطمۃ بنتِ اسد ولدت امیرالمومنین علیا فی جوف الکعبة فانہ ولد فی یوم الجمعۃ ثالث عشر من شھر رجب بعد عام الفیل بثلاثین فی الکعبة ولم یولد فیھا احد سواہ قبلہ ولا بعدہ ۔
متواتر روایت سے ثابت ہے کہ امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ روز جمعہ تیرہ رجب تیس عام الفیل کو وسط کعبہ میں فاطمہ بنتِ اسد کے بطن سے پیدا ہوئے اور آپ کے علاوہ نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کوئی خانۂ کعبہ میں پیدا ہوا ۔
علی وہ ہیں جن کی ولادت بھی خدا کے گھر میں ہوئی اور شہادت بھی خدا کے گھر میں ہوئی ۔
علی وہ ہیں جن کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے ۔
علی وہ ہیں جن کو رسول ہاشمی ﷺ نے اپنا بھائی کہا ۔
علی وہ ہیں جن کو اللّٰہ کے رسول نے اپنی اہلبیت کہا ۔
علی وہ ہیں جن کو رسول کریم علیہ السلام نے اپنی جان کہا ۔
اور فرمایا ۔ ہم علم کا شہر ہیں علی اس کا دروازہ ۔
ہم حکمت کا گھر ہیں علی اس کا دروازہ ۔
جس کے ہم مولا ہیں اس کے علی مولا ہیں ۔
علی ہم سے ہیں اور ہم علی سے ہیں ۔
علی کا گوشت ہمارا گوشت اور علی کا خون ہمارا خون ہے ۔
ہمارا اور علی کا نور ایک ہے ۔
علی قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی کے ساتھ ہے ۔
علی حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ ہے ۔
ہرنبی کا وارث اور وصی ہے اور ہمارے وارث ووصی علی ہیں ۔
فرمان مصطفیٰ جان رحمت ﷺ ہے ۔ اے علی
تم دنیا اور آخرت کے سردار ہو ۔
تم مجھے ایسے ہو جیسے ہارون وموسی مگر میرے بعد نبی نہیں ۔
تم میری امت کے امام اور میرے وصی ہو ۔
اے علی ! تم جنت اور دوزخ کو تقسیم کرنے والے ہو ۔
اور وہ جھوٹا ہے جو ہمارے ساتھ محبت کا دعویٰ کرتا ہے اور تمہارے ساتھ محبت نہیں کرتا ۔
اےعلی ۔ تم ہم سے ہو ۔ ہم تم سے ہیں ۔ تمہارا گوشت ہمارا گوشت اور تمہارا خون ہمارے خون سے ہے ۔ تمہاری روح ہماری روح سے ہے ۔ تمہارا بھید ہمارے بھید سے ہے ۔ اور تمہارا اعلان ہمارا اعلان ہے ۔
اےلوگو ۔ یہ علی ہدایت کے علمبردار ہیں ۔ منارالایمان ہیں ۔
علی امام الاولیاء ہیں ۔ اور وہ تمام نور ہیں جو ہمیں عطا کیا گیا ۔
اے ابابرزہ ۔ علی ابنِ ابی طالب قیامت کے دن ہمارے امین ہونگے ۔
اور قیامت کے دن ہمارا پرچم اٹھانے والے ہوں گے ۔
اور اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانوں کو کھولنے والے ہوں گے ۔
ان کی محبت ہماری محبت اور ان کا بغض ہمارا بغض ہے۔

بصد تلاش نہ کچھ وسعتِ نظر سے ملا
نشان منزلِ مقصود راہبر سے ملا
نبی ملے تو خانۂ خدا سے ملے
خدا کو ڈھونڈا تو وہ علی کے گھر سے ملا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

منقبت: حضرت مولا علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم

نتیجۂ فکر: محمد زاہد رضا بنارسیدارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج,بھدوہی،یو۔پی۔ انڈیا فضیلت ہے یہ خاندانی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے