گلوبلائزیشن اور ہمارا حال

تحریر: محمد دلشاد قاسمی

دور حاضرکے جن فتنوں نے عالمگیر سطح پر اپنے اثرات چھوڑے ہیں اور جن سے مسلم معاشرہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ان میں سرفہرست گلوبلائزیشن ہے ۔ یہ ایک انتہائی غیر محسوس فتنہ ہے جس کا ظاہر انتہائی پرفریب اور خوشنما ہے لیکن اس کے اثرات دین و ایمان، اخلاق و تہذیب ، مذہبی اقدار، اور ہماری معیشت کے لیے انتہائی تباہ کن ہیں ۔

گزشتہ پندرہ بیس سالوں میں ہمارے ملک میں سماجی و معاشی ثقافت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے لیکن سرمائے کا بہاؤ صرف شہروں میں ہی رہا جو ہندوستان کی جملہ آبادی کے بہت چھوٹے سے حصے کا احاطہ کرتا ہے یہ بہاؤ صرف چند شعبوں تک محدود رہا اور اس کے نفع پانے والے شہری خوشحال طبقے کی ایک چھوٹی سی اقلیت تک محدود رہے ۔ ہندوستانی عوام کی زندگی پہلے جیسی ہی رہی بلکہ بد سے بد تر ہوتی گئی ۔ گلوبلائزیشن نے یکے بعد دیگرے ہر حکومت کو مجبور کیا کہ وہ عوام کی نہایت بنیادی ضرورتوں سے منہ موڑیں۔اب صاف پانی کا نظم ، غریبوں کے لئے سستے مکانات کی فراہمی ، شہری غریبوں کے لئے صفائی کا مناسب انتظام ، دیہی علاقوں میں پائپ کے پانی ، اور بجلی کی فراہمی، وغیرہ جیسے رفاہی کام حکومت کی ترجیحات میں نہیں رہے ۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں کا واحد مقصد یہی رہا کہ بڑی کمپنیوں کے لیے جو شعبے نفع بخش ہے ان میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ممکنہ سہولتیں فراہم کی جائیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف آئی ٹی اور انجینئرنگ کے گریجویٹس اور انگریزی داں نوجوان بیس بائیس سال کی عمر میں معقول تنخواہ پا رہے ہیں۔ اور دوسری طرف وہ نوجوان جو انگریزی زبان میں مہارت نہیں رکھتے پس منظر سے محروم ، تعلیم یافتہ نوجوان دیہاتوں میں دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں ۔
بلاشبہ معاشی تفاوت ہمارے ملک میں کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن جدید دور کے تفاوت کی سب سے بھیانک خصوصیت یہ ہے کہ اس نے امیروں اور غریبوں کے درمیان ہر قسم کے رابطے کو منقطع کر دیا ہے ۔ یہ رابطہ ہی انسانی بنیادوں پر باہمی تعاون کی راہ ہموار کرتا ہے آج ایک نوجوان پروفیشنل کو اپنے سماج کے غریبوں سے ملنے بلکہ ان کو دیکھنے کے مواقع بھی کم سے کم حاصل ہیں وہ دن کے 12 گھنٹے اپنے ائرکنڈیشن دفتر کے آرام دہ ماحول میں گزارتا ہے، اور ہوٹلوں میں لنچ کرتا ہے، اعلی درجے کے شاپنگ مال میں خریداری کرتا ہے، انگریزی بولنے والے ہیئر ڈریسر سے شیونگ کراتا ہے، حتیٰ کے اس کے گھر اور کپڑوں کی صفائی کے لیے بھی اعلی درجے کی کمپنیوں کی خدمات دستیاب ہے، اس طرح ایک جدید نوجوان نہ حجام سے ملتا ہے نہ دھوبی سے نہ ہی وہ اس کرانہ کی دوکان کے مالک کو جانتا ہے جو اس کے پڑوس میں چند ٹکوں کے لیے دن بھر کی محنت پر مجبور ہے، نہ اسے پھیری والا معلوم ہے، نہ گاڑی اور ٹھیلوں پر ترکاری بیچنے والے، وہ لبرلائزیشن کے دور کی نسل سے تعلق رکھتا ہے اس لیے یہ اس کا حق ہے کہ وہ بیرونی دنیا کی تکالیف اور مصیبتوں سے آنکھیں بند کئے اپنے ہوا بند شیش محل کی چمک دمک اور رنگ و نور میں ڈوبا رہے یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ feel good کی کیفیت میں رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ بھارت چمک رہا ہے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس کے اطراف و احوال کو منصوبہ بند طریقے سے اس طرح تشکیل دیا گیا ہے کہ وہ اسی حالت میں رہنے پر مجبور ہو اس منصوبہ بندی کے بغیر گلوبلائزیشن کا منصوبہ کامیاب ہی نہیں ہو پاتا ۔
گلوبلائزیشن کا صرف اتنا ہی نقصان نہیں ہے کہ چند لوگ زیادہ دولت کما رہے ہیں اور دوسرے غریب ہیں بلکہ اصل اس نے ایک ہی سماج میں دو مختلف دنیاؤں کی تخلیق کر دی ہے جن کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں چنانچہ جب ہم اس خوشحال چمکتے دمکتے شہری ہندوستان سے اصل ہندوستان کا رخ کرتے ہیں تو ہمیں ایک اور ہی منظر نظر آتا ہے ہماری ملاقات اس بیچارے پریشان حال نوجوان سے ہوتی ہے جن کی بڑی تعداد کو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ان سارے مواقع سے محروم کردیا گیا ہے جو اس کی پچھلی نسلوں کو حاصل تھی۔ زراعت برباد ہے، چھوٹی صنعتیں تباہ ہوچکی ہے، شاپنگ مال اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اس دور میں اندرون ملک تجارت کے مواقع کم سے کم تر ہوتے جا رہے ہیں سرکاری نوکریوں کے امکانات تقریبا ختم کر دیے گئے ہیں نتیجتاً اس کے لیے روزگار کے مواقع حددرجہ محدود ہے ۔ دوسری جانب اسے سڑک پر چلنے کی بھی قیمت دینی پڑتی ہے، اسکول مفت نہیں رہا، علاج بے حد مہنگا ہوگیا، نقل و حمل کی قیمت روز افزوں بڑھ رہی ہے، نتیجہ: اس کے مسائل بے شمار ہیں ۔
روز گار کے مواقع کی قلت اور اخراجات کی کثرت، اس دو دھاری تلوار کی کاٹ کا نتیجہ شدید مایوسی ،خودکشی کی حیرت انگیز شرح اور بڑے شہروں کی طرف دیوانہ وار ہجرت کی صورت میں نکلتا ہے۔لیکن شہروں میں بھی مسائل کم نہیں یہاں مواقع صرف مخصوص آئی ٹی، انجینئرنگ مینجمنٹ اور انگریزی زبان پر قدرت رکھنے والے افراد کی محدود اقلیت ہی کو حاصل ہے ۔اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جارحانہ مارکیٹنگ پولیسیوں سے شکست کھا کر چھوٹی اور گھریلو صنعتیں بند ہونے پر مجبور ہیں ، چھوٹے بیوپاری اور فٹ پاتھ کے ہاکرز ٹھیلے لگانے والے، زیادہ منظم اسٹورز سپر بازار اور شاپنگ مال کے مقابلے اپنے مواقع کھوتے جا رہے ہیں، ترکاری اور گوشت جیسی چیزیں بھی غریب بیوپاریوں کے لئے نہیں بچی اس خودکاری کے بڑھتے رجحان نے مزدوروں کی ضرورت خطرناک حد تک کم کر دی ہے۔ اس طرح پیداوار، تجارت ،اور مزدوری، تینوں اہم معاشی سرگرمیاں بڑی کارپوریشن کمپنیوں کے حوالے ہو چکی ہے اس کا نتیجہ بڑے پیمانے پر شہری بے روزگاری کی صورت میں نکل رہا ہے جو لبرلائزڈ دور کے شہروں کے معیار زندگی سے متعلق دباؤ سے مل کر بھیانک صورتحال پیدا کر رہا ہے، نفسیاتی امراض اور نوجوانوں میں بڑھتا ہوا جرائم کا رجحان ۔
جبکہ کہ گلوبلائزیشن کا عمل ہماری افرادی قوت اور صلاحیت ہی کی وجہ سے کامیاب ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ہماری ساری کارآمد صلاحیتیں صرف بڑی کمپنیوں کی خدمت کے لئے تیار ہو رہی ہیں دوسری طرف ہماری قومی زندگی کی اعلی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے افراد نہیں ہیں بڑے لوگ بننے والے بھی چھوٹے بنے رہنے اور چھوٹے کاموں پر قانع ہے ۔ کیونکہ ہم وہ نہیں حاصل کر رہے ہیں جو قوم اور ملت کی ضرورت ہے بلکہ وہ کر رہے ہیں جو مارکیٹ میں چل رہا ہے جس کی مارکیٹ میں مانگ ہے ۔ اب اسکول کے کسی لڑکے کا خواب سائنسداں رائٹر یا مصنف بننا نہیں ہے بلکہ اس کے خوابوں کی انتہا وہ کال سنٹر اور کارپوریٹ کمپنی میں جوب کا حصول ہے جہاں اس کا بڑا بھائی ملازمت کرتا ہے ۔ سب جانتے ہیں کہ یہ سب ملازمتیں کلرک کی سطح کی سرگرمیاں ہیں جن کی انجام دہی کے لئے ہمارے نوجوان قطار لگائے ہوئے ہیں جن کی پچھلی نسلیں ادیب، مصنف، سائنسداں، یا سول سروس عہدے دار بننے کے خواب دیکھتی تھی ۔ یہ بات یاد رکھیں کہ
جوانی ہی ہمیشہ تبدیلی کی علامت سمجھی گئی ہے نوجوان وہ ہے جس کا دل ایک نئی دنیا کی امیدوں حوصلوں اور خوابوں سے آباد ہو وہ ہمیشہ موجودہ احوال کے لیے چیلنج سمجھ آگیا ہے لیکن ہمارا گلوبلائزیشن کے دور کا نوجوان شباب کے اس مغز سے محروم کردیا ہے اس کے پاس اپنے احوال پر سوچنے کے لئے نہ فرصت ہے نہ اٹھ کھڑے ہونے اور بغاوت کرنے کا حوصلہ، خوش پوز دفاتر، انٹرنیٹ کیفے، اور ڈسکوتھیک، ریسٹورنٹ شاپنگ مال،، شوروم، قلب، اور بہت سی دیگر جگہیں لطف اٹھانے کے لیے موجود ہے ۔ اگر کچھ پڑھنا چاہے تو انگریزی کے اخبارات اور رسائل جو یا تو ٹیکنالوجی اور تجارت کے رموز سے بھرے پڑے ہیں یا شہوانیت اور تفریحی مصالحے سے بھرپور ہیں ۔
No politics please, no big fundas, Wanna only cool things.
یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں عام شکایت پائی جاتی ہے کہ نوجوانوں کی تحریکات کا دور ختم ہو رہا ہے
اور Student activism مر رہی ہے اگر نوجوان ہی اپنے احوال سے مطمئن ہیں تو پھر کون کھڑا ہو کر بغاوت کرے گا ؟ کون عمل کی جرأت کرے گا ؟ اس سے ہم کو اس عمومی الزام کی حقیقت سمجھ میں آتی ہے کہ گلوبلائزیشن ایسے بے دماغ غلاموں کا معاشرہ پیدا کرتا ہے جو یہ سمجھنے کی بھی جرات نہیں کرتے کہ ان کے ساتھ کیا غلط ہو رہا ہے ؟

گلوبلائزیشن اور ہماری تہذیب پر اس کا اثر

اس وقت دنیا میں ایک مخصوص تہذیب جسے امریکی تہذیب کہتے ہیں جس تیزی سے دنیا کی دیگر تہذیبوں پر اثر انداز ہورہی ہے اس کی نظیر انسانی تاریخ میں مشکل ہی سے ملے گی ہندوستان کے اکثر بڑے شہروں میں جنسی اخلاق کے تصورات بدل رہے ہیں، شادی کے بغیر مرد اور عورت کا ایک ساتھ رہنا، live in relationship اب معیوب نہیں رہا۔ انڈیا ٹوڈے اور آؤٹ لک جیسے میگزین اس تعلق کو بدلتے حالات کا لازمی تقاضا اور کیرئیر کی ضرورت قرار دے رہے ہیں۔اور بولی وڈ مووی کے ذریعے سے بھی یہی پیغام دیا جا رہا ہے ۔ آج ہندوستانی شہروں میں جو لائف اسٹائل فروغ پا رہا ہے وہ ہندوستان کی تہذیبی قدروں سے شدید متصادم ہیں ، انگریزی اخبارات اور رسائل جو گلوبلائزیشن کی اس جارحیت کے ہر اول کی حیثیت رکھتے ہیں وہ اس لائف اسٹائل کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں بوائے٫ فرینڈ گرل فرینڈ کے نہ ہونے کو شخصیت کا نقص اور زندگی کا ادھورا پن باور کرایا جا رہا ہے ۔ رشتوں کی حرمت کی پامالی کی جو صورت حال اس وقت ہندوستان میں پائی جاتی ہے اس کی نظیر بھی شاید تاریخ میں مشکل ہی سے ملے۔ آؤٹ لک کے سروے کے مطابق دیور اور سالیوں سے آگے بڑھ کر قریب ترین خونی رشتہ داروں سے بھی جنسی تعلقات عام ہوتے جا رہے ہیں، والدین اور برے لوگوں کے لیے بے نیازی کا رویہ برتا جارہا ہے امریکی ٹی وی شوز سے متاثر ہو کر ہندوستانی بچے بھی والدین کے تعلق سے گستاخ اور بے زبان ہوتے جا رہے ہیں۔
موجودہ ہندوستانی شہر میں بولی وڈ سے زیادہ ہولی وڈ کی فلمیں مقبول ہورہی ہیں حالانکہ ان فلموں کا ہندوستان کے مسائل اور یہاں کے حالات سے کوئی تعلق نہیں لیکن یہ جارح مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزمنٹ کا کمال ہے کہ نوجوان ان کے دیوانے ہیں محمد رفیع اور لتا منگیشکر کو سننے والے اب صرف بوڑھے لوگ ہیں اور ہمارے نوجوان پاپ اور روک میوزک کے دیوانے بن رہے ہیں جبکہ انگریزی میوزک ان کی سمجھ میں بھی نہیں آتی اور ان کو معلوم بھی نہیں ہے کہ ان میوزک کے ذریعے سے ان کی کس طرح کی ذہنیت بنائی جا رہی ہے ۔ آج ہمارا نوجوان ہر چیز میں امریکی پسند کو اپنی پسند بناتا جا رہا ہے چاہے اس کا تعلق لباس سے ہو hair cutting سے ہو، کھانے کی چیزوں سے ہو، حتی کہ برانڈز تک میں دنیا بھر کے نوجوانوں کی پسند امریکی بنتی جا رہی ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ہندوستان کے شہروں میں انگریزی تعلیم یافتہ نو عمر لڑکوں اور لڑکیوں کی ایک بالکل نئی نسل پروان چڑھ رہی ہے اس نسل کو نہ اردو آتی ہے، نہ ہندی، ہندوستان کے تہذیبی ورثے سے اس کا رشتہ بہت کمزور ہے ۔ ہالی وڈ کی فلمیں، امریکی ٹی وی شوز، اور امریکہ زدہ انگریزی رسائل اور اخبارات نے ان نوجوانوں کی تربیت کی ہے مادہ پرستی اور جنسی اباحیت ان کی امتیازی خصوصیت ہے ان بچوں کو اسلامی تہذیب اور ہندوستان کی تہذیبی قدروں کی ہوا تک نہیں لگی۔ یہی وجہ ہے کہ فرد کی آزادی فرد کے حقوق اور فرد کے مفادات اتنے اہم ہوتے جا رہے ہیں کہ سماج اور اجتماعی مفادات اور ضرورتوں کے لیے کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی اور یہ سب اس لئے ہو رہا ہے کہ گلوبلائزیشن کے دور نے ہمارے نوجوانوں کو ہمارے بزرگوں سے کاٹ دیا ہے ان کے درمیان ایک generation gap پیدا ہو گیا ہے۔ چونکہ یہ بالکل نئی دنیا ہے اس لئے تعلیم یافتہ والدین بھی اپنے نوجوان، اور ٹیکنالوجی کے دیوانے بچوں کی کوئی مدد یا رہنمائی کرنے کی پوزیشن میں خود کو نہیں پاتے۔ رہنمائی تو دور کی بات ہے اس بات کو سمجھنا بھی ان کے لئے مشکل ہوتا ہے کہ ان کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آخری کر کیا رہے ہیں؟ نامانوس الفاظ،، عجیب و غریب اصطلاحات،اور ان کے مشغلوں کی دنیا کی کسی جز سے وہ آشنا نہیں !! وہ نہیں جانتے کال سینٹرز کیا ہے ؟ سافٹویر انڈسٹری میں آخر بنتا کیا ہے ؟ بی پی او صرف راتوں میں کیوں کام کرتا ہے ؟ وہ تو اتنا جانتے ہیں کہ ان کے بچے کمپیوٹر سے متعلق کچھ کام کرتے ہیں اور اچھی تنخواہ پاتے ہیں اچھی تنخواہ ان کے نزدیک اس بات میں یقین کرنے کے لئے کافی ہے کہ ان کا لڑکا ایک کامیاب پروفیشنل ہے یہ سوچنا ان کے بس میں ہے ہی نہیں کہ وہ آخر کیا کر رہا ہے ؟ اور اس کا مستقبل کیا ہے ؟ اور یہ جنریشن گیپ خاندانوں میں ہی نہیں ہے بلکہ کام کی جگہوں پر تو سفید بالوں کا نام و نشان ہی نہیں۔ ایک سینئر ایگزیکیٹیو کے بقول آج کی کمپنیوں میں 35 سالہ آدمی قدیم ہے اور پچاس سال کی عمر میں وہ ڈائناسور ہے ۔ اس صورت حال کی وجہ سے یہ دنیا صرف امیروں کی دنیا ہونے کے ساتھ ساتھ صرف نوجوانوں کی دنیا ہیں جس میں کسی بوڑھے آدمی کے لیے کوئی جگہ نہیں، تہذیبی قدروں کی بقا کے لیے،، مختلف نسلوں کے مابین جو تعلق درکار ہے وہ مفقود ہوتا جا رہا ہے۔
ایک طرف اپنی قدروں سے یہ بیگانگی اور دوسری طرف اور خاص طور پر امریکہ سے نہایت گہرا رشتہ استوار ہوتا جا رہا ہے سافٹ ویئر ر اور کنسلٹینسی کمپنیوں میں امریکی اوقات کے مطابق کام ہوتا ہے اس لئے اکثر کال سینٹر راتوں میں کام کرتے ہیں وہاں دن بھر امریکی نام دہرائے جاتے ہیں، امریکی مصنوعات، امریکی شہروں، اور گلیوں، کے تذکرے، ہوتے ہیں بعض جگہوں پر تو کال سینٹر میں کام کر نے کے لئے بھی کوئی امریکی نام طے پا جاتا ہے اور صبح شام صرف امریکی لوگوں سے بات چیت ہوتی ہے اور بالآخر ہر ایک کی خواہش و آرزو کی انتہا امریکہ کے سفر اور وہاں کا قیام ہوتا ہے ۔ ہندوستان تو وہ صبح صرف سونے کے لئے لوٹتا ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ کال سینٹر کا ملازم ہندوستانی کم امریکی زیادہ ہوتا ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے ؟
ہمیں گلوبلائزیشن اور اس کے نتیجے میں تہذیبی قدروں کے زوال کا کیسے مقابلہ کرنا چاہیے تو جواب یہ ہے کہ گلوبلائزیشن ایک فطری عمل ہے اس عمل کو روکا نہیں جا سکتا دنیا کی ہر قومیں ہر دور میں ایک دوسرے سے مستفید ہوتی رہی ہیں ۔ اسلامی تاریخ کے روشن دور میں ہمارے علوم و فنون، ہماری تہذیبی قدریں، ہماری مصنوعات، وغیرہ بھی ساری دنیا میں مقبول ہوئی تھی یہ اس زمانے کے گلوبلائزیشن کی صورت تھی ۔ ہمارے عہد کا گلوبلائزیشن اس لیے انسانیت کا دشمن ہے کہ اس کی قیادت ایک مادہ پرست سرمایہ دارا تہذیب کے ہاتھوں میں ہے لیکن جب گلوبلائزیشن کے عمل کی قیادت اسلام کے ہاتھوں میں تھی تو اسلام نے اس عمل کے ذریعے مساوات، اخوت، ہمدردی، غریب پروری، خواتین کا احترام، نظام عدل و انصاف، وغیرہ جیسی اعلیٰ انسانی قدروں کو گلوبل سطح پر رائج کیا چنانچہ آج بنیادی مسئلہ گلوبلائزیشن کے عمل کا نہیں ہے بلکہ اس تہذیب اور اس کی قدروں کا ہے جو اس عمل کی قیادت کر رہی ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس مسئلہ کا کوئی مختصر المیعاد حل نہیں ہے ۔ اس مسئلہ کا پائیدار حل صرف یہ ہے کہ گلوبلائزیشن کے عمل کی قیادت دوبارہ اسلام کے ہاتھوں میں آ جائے۔ چنانچہ اسلامی دعوت کا گلوبلائزیشن ہی مغربی قدروں کے گلوبلائزیشن کا واحد حل ہے ۔
کسی شارٹ طریقے اور عارضی تدابیر سے گلوبلائزیشن کی رفتار کو غیر فطری طور پر روکا نہیں جا سکتا البتہ اس کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے ۔
اس ذیل میں ہمیں چند کام کرنے کی ضرورت ہے ۔
پہلا کام یہ ہے کہ گلوبلائزیشن کے نقصانات سے لوگوں کو واقف کرایا جائے اور عوام میں بیداری لائی جائے ۔
دوسرا : بڑے پیمانے پر سود اور سودی کاروبار کے خلاف مہم چلانی چاہیے ۔
تیسرا: سرمایہ دارانہ نظام کی سب سے بڑی دھاندلی یہ ہے کہ وہ اپنی دولت بڑھانے کے لئے بہت سی مصنوعی ضرورتیں پیدا کر رہا ہے ۔ صرف خوش حال اور دولت مند لوگوں کی ہی نہیں غریب آدمی کی ضرورتیں بھی بڑھ رہا ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ لوگوں کے اندر سادہ طرز زندگی کو عام کیا جائے اور مصنوعات کے مقابلے میں ممکنہ حد تک دیسی اور قدرتی اشیاء کے استعمال کو فروغ دیا جائے اور اسی طرح فورین کی اشیاء پر فخر کرنے کی غلامانہ ذہنیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ اس ذیل میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے اندر بھی اور لوگوں کے مزاج میں بھی اس اعتبار سے تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ ہم اشیاء کو محض ضرورت کی تکمیل کا ذریعہ سمجھے ۔ مرتبہ و مقام اور حیثیت کی علامت نہ سمجھے کیونکہ اپنی پہچان بنانے کے لیے اشیاء کی چمک دمک اور برانڈز کا سہارا لینے کی ضرورت ان لوگوں کو پیش آتی ہے جن کے پاس قابلیت اور دنیا کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا چنانچہ یہ سہارے انسانی شرف و منزلت کی توہین ہے ۔
چوتھا اس گلوبلائزیشن کی ایک بڑی لعنت طبقاتی تقسیم اور معاشی تفاوت ہے ہمیں اس طبقاتی تقسیم کو پاٹنے کی مہم چلانی چاہیے تاکہ ہمارے خوشحال طبقات کا میل جوڑ اور تعلق غریب عوام سے ہو اس کے مواقع اور راستے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی معاشروں میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ دولت کی تفریق لوگوں کے اندر سماجی تفریق کا ذریعہ بنی ہو ہمیں اپنے معاشروں کو environment friendly life style کا عادی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
پانچواں : کام یہ ہے کہ گلوبلائزیشن کے عہد میں ملٹی نیشنل کمپنیوں اور کال سینٹرز میں کام کرنے والے نوجوانوں کی ذہنی، فکری، اور اخلاقی، تربیت کا اہم ہدف بھی ہمارے پیش نظر ہونا چاہیے ۔ ہمیں اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ کمپنیوں کے ایئرکنڈیشن ماحول میں وہ اسلام ، ہندوستان، اور اس کے حقائق سے بے پرواہ نہ ہو جائیں وہ اپنی تہذیبی قدروں کی اس ماحول میں بھی حفاظت کریں ۔ تہذیبی قدروں کا مطلب صرف نماز روزہ اور داڑھی نہیں ہے بلکہ سادگی بھی اسلامی تہذیب کا جز لا ینفک ہے ۔
چھٹا : اور سب سے اہم کام یہ ہے کہ گلوبلائزیشن اسلامی عقائد اور اسلامی قدروں کے ذریعے منضبط ہو اس کے لیے بڑے پیمانے پر اسلامی دعوت کو فروغ دیا جائے ۔
ساتواں : مسلمانوں میں نہایت خاموشی اور سلیقے کے ساتھ یہ شعور عام کیا جانا چاہئے کہ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے تاجروں اور دکاندار ہی سے اشیائے ضرورت خریدنے کی عادت ڈالیں صاف طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ ہماری نئی نسل کے اندر ایمازون فلپ کارڈ وغیرہ سے آن لائن خرید و فروخت کرنے کا اور بڑے بڑے شاپنگ مال سے خریداری کرنے کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے سے چھوٹے تاجروں کے کاروبار تباہ ہو رہے ہیں ۔

آخری بات یہ ہے ہیں ہے کہ ہم اپنے بچوں اور نوجوانوں کو خواب دیکھنے کا عادی بنائیے ۔ موجودہ صورتحال پر بے چینی، اور اضطراب، اور ایک متبادل تمدن کا خواب ۔ آپ سوچیں کہ اکیسویں صدی میں ایک مومن کے خوابوں کی دنیا کیسی ہو سکتی ہے ۔ شہر کیسے ہوں گے ؟ عمارتوں کا طرز کیا ہوگا ؟ کالجوں میں کیا پڑھایا جائے گا؟ ٹیکنالوجی کیسی ہو گی ؟ بہترین دماغ کس محاذ پر لگیں گے؟ معیشت کیسی ہوگی؟ ترقیاتی پولیسیوں کا کیا رنگ ہوگا؟ ریسرچ کی ترجیحات کیا ہوگی؟
ہمارے عہد کی سب سے بڑی ناکامی کی وجہ آئیڈیاز کی تخلیق میں ناکامی ہے !! اسلام مومنین کو مقلدوں کا سا نہیں بلکہ مجتہدوں کا ساتھ کمال پیدا کرنے کے لیے کہتا ہے ۔ سائنس، معاشیات، اور سماجیات، میں اجتہادی کمال کا مطلب کیا ہے ؟ یہی کے ہم فکر و نظر کا دھارا بدل دے ، جزوی تبدیلیاں نہیں علوم و فنون کی اساسیات کو نیا رخ دیں ۔ ہمارے عہد ساز بزرگوں نے ہمیں فکر کی بنیادیں بے شک دی ہیں لیکن ان بنیادوں پر آئیڈیاز کی تشکیل کا کام ابھی باقی ہے ۔ یہ بات یقین کامل کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ہمارے یہاں مسئلہ صلاحیتوں کا نہیں ہے مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کے اندر وہ ولولے نہیں پیدا کر رہے ہیں جو انہیں Think out of the box سوچنے کا عادی بنا سکے ہماری لوریوں میں نئے تمدن کا ویژن موجود نہیں ہے ہماری تقریریں صرف ظلم کے خاتمے ، امت کی خوشحالی ، اور چند معروف اسلامی قدروں ، کے فروغ کا خواب دکھاتی ہے ۔ خدارا بچوں کی ذہانت کو تخلیقی روح دیجئے کہ وہ اگر کارپوریٹ کمپنی میں بھی جائیں گے تو کامیاب پروفیشنل تو بنے گے ہی لیکن کچھ عرصے کے بعد متبادل تجارتی نظام کے بارے میں واضح سوچ بھی دیں گے ۔ نظام تعلیم میں جائیں گے تو ایک نئے نظام تعلیم کے بارے میں سوچیں گے ۔ اس بارے میں سوچیں گے کہ ہندوستان کے حالات میں اس کے نفاذ کے عملی طریقے کیا ہو سکتے ہیں ؟ ان تمام چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ہمارے نوجوان کا ذہن زندگی کے مقاصد کے بارے میں واضح رہنا چاہئے ۔ ان کا مطالعہ وسیع ہونا چاہئے ۔ جدید لٹریچر کے ساتھ ان کا رشتہ، اور اسلامی علم و حکمت کے قدیم سرچشموں سے بھی نہایت گہرا ہونا چاہیے ۔ جو متبادل طرز ہائے فکر پائے جاتے ہیں، ان پر بھی ان کی نظر ہونی چاہیے ۔ جن لوگوں نے علامہ اقبال کو گہرائی کے ساتھ پڑھا ہے انہیں ان کے اشعار میں قدم قدم پر اس وژن کی جھلک ملتی ہے۔

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح شام پیدا کر

جہان تازہ کی افکار، تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

دیکھے تو زمانے کو اگر اپنی نظر سے
افکار منور ہوں ترے نور سحر سے

اغیار کے افکار و تخیل کی گدائی
کیا تجھ کو نہیں اپنی خودی تک بھی رسائی

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مسلم سیاسی پارٹی:مفید یا مضر ایک تجزیہ (قسط دوم)

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمیمدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی مسلم پارٹیوں کے ساتھ سیکولر پارٹیوں اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے